مزید جنگ نہیں: پوپ لیو چہار دہم کی عالمی طاقتوں سے اپیل


Emmanuel Neno

مسیحیوں کے روحانی پیشوا، پوپ لیوؔ چہار دہم، نے دُنیا کی بڑی طاقتوں سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ جنگوں کا خاتمہ کریں اور پائیدار امن کے قیام کی جانب سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا،

”میں دنیا کے طاقتور لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں اور اپنی اپیل کو دہراتا ہوں، کہ اب مزید جنگ نہیں“ ۔

اُنہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ، جو آج سے 80 سال پہلے اختتام کو پہنچی، ایک بہت بڑا انسانی المیہ تھی، اور اب دُنیا کو ”تیسری عالمی جنگ“ کے خطرے کا سامنا ہے، جو مختلف حصوں میں ”ٹکڑیوں کی صورت میں لڑی جا رہی ہے“ ۔

حالیہ عالمی تناؤ پر اظہارِ خیال

پوپ لیوؔ نے یوکرین، غزہ اَور جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین میں سچا، حقیقی اَور پائیدار امن چاہتے ہیں۔ غزہ کی صورتِ حال پر افسردہ ہیں۔ اَور بھارت اَور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ممکن ہو، وہ جلد از جلد امن کے حصول کے لئے کیا جائے۔ اَور مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کو عام شہریوں تک پہنچنے دیا جائے، اَور تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔

بھارت اور پاکستان: مذاکرات کی امید

پوپ لیو نے بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا،

”مجھے خوشی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہوئی، اور مجھے امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے جلد ایک پائیدار معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔“

یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب روس اور یوکرین کے صدور نے تین سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے متضاد امن منصوبے پیش کیے ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد بند کرتے ہوئے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

کیتھولک کلیسا کا موقف

کیتھولک کلیسا ہمیشہ سے جنگ کی مذمت اور امن کی حمایت کرتا آیا ہے۔ کلیسا کی تعلیمات کے مطابق، انسان کی زندگی، وقار اور آزادی خُدا کی عطا کردہ نعمت ہے، اور کسی بھی حالت میں جنگ کو ترجیح نہیں دی جا سکتی جب تک کہ یہ بالکل آخری چارہ نہ ہو۔

امن و انصاف کی تعلیمات جو مجلس ویٹیکن دوم سے لے کر آج تک کلیسا کی پالیسی کا حصہ رہی ہیں، جنگ کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دیتی ہیں۔ پوپ فرانسس سمیت پچھلے کئی پوپ صاحبان نے بھی جنگ کو ”انسانیت کی ناکامی“ قرار دیا ہے۔

پوپ لیو چہار دہم کے الفاظ اسی تسلسل کا اظہار ہیں، جنہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ حقیقی طاقت تب ظاہر ہوتی ہے جب کوئی ملک امن کے لیے جرات مندانہ قدم اٹھائے۔

دُنیا اس وقت کئی محاذوں پر کشیدگی اور تنازعات کی زد میں ہے، جہاں انسانی جانوں کا ضیاع، پناہ گزینی، بھوک اور خوف روزمرہ کی حقیقتیں بن چکی ہیں۔ پوپ لیو چہار دہم کی اپیل نہ صرف ایک روحانی رہنما کی آواز ہے، بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی صدا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ عالمی طاقتیں اس صدا پر لبیک کہیں اور انسانیت کے تحفظ کے لیے جنگوں کے بجائے امن کا راستہ اپنائیں۔

Facebook Comments HS