2025 : بھارت نے کس قیمت پر خمیازہ بھگتا


Asif Anglo Aqeel

پاکستان کے خلاف بھارت کی 2025 کی جارحیت۔ ”آپریشن سندور“ ۔ محض ایک عسکری غلطی نہیں بلکہ یہ ایک حکمتِ عملی کی سنگین غلط فہمی اور جاہلیت پر مبنی گھمنڈ کا مظاہرہ تھا۔ ہندوتوا کے نظریاتی مقاصد اور انتخابی مفادات سے متاثر اس اقدام نے بھارت کو معاشی، سیاسی، قانونی، تکنیکی، سفارتی اور اخلاقی میدانوں میں گہرے نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔

بھارت کی ابھرتی ہوئی معیشت، جسے دنیا کی چوتھی بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے اور جو تیز ترقی کرتی ٹیکنالوجی انڈسٹری، اور گوگل جیسے اداروں کے سی ای اوز سمیت بین الاقوامی جامعات میں تدریس کرنے والے بھارتی ماہرین کے باعث عالمی سطح پر سراہا جاتا تھا، آج ایک تلخ حقیقت کا سامنا کر رہی ہے کہ صرف معاشی طاقت، حکمتِ عملی میں کامیابی کی ضمانت نہیں۔

ایک ہی جھٹکے میں بھارت نے اپنے ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک۔ اسرائیل، فرانس اور روس۔ کو شرمندگی میں ڈال دیا، کیونکہ وہ فراہم کردہ جدید ہتھیاروں کو موثر طریقے سے استعمال نہ کر سکا۔ رافیل طیارے، امریکی انجن والے تیجا فائٹرز، روسی ساختہ ائر ڈیفنس سسٹمز، اور بارہ لاکھ سے زائد فوجیوں پر مشتمل فورس کے باوجود بھارت میدان جنگ میں اپنی برتری ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے برعکس، پاکستان کا درست نشانہ بناتی جوابی کارروائی۔ ”آپریشن بنیان المرسوس“ ۔ اور چینی عسکری ٹیکنالوجی کی شراکت نے بیجنگ کو غیر متوقع طور پر اسٹریٹجک تقویت عطا کی۔ The National Interest کے مطابق، بھارت کی پائلٹ ٹریننگ پاکستان ائر فورس کے سخت معیار کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوئی۔

یہ بات واضح ہے کہ جنگ ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے، لیکن بھارت کا ایک ایسا تنازعہ چھیڑنا جسے وہ قابو میں نہ رکھ سکا، خاص طور پر غیر ذمہ دارانہ ثابت ہوا۔ اندازوں کے مطابق جنگ کا روزانہ خرچ 18 کروڑ سے 60 کروڑ امریکی ڈالر تک رہا۔ بھارتی روپے کی قدر میں 1 فیصد کمی آئی، اور یہ فروری 2023 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ رائٹرز کے مطابق بھارتی اسٹاک مارکیٹس میں 0.5 % سے 0.6 % کی کمی ہوئی، جبکہ نِفٹی 50 انڈیکس ایک ہفتے میں 1.8 % گر گیا۔ تقریباً 1.7 ارب ڈالر کا غیر ملکی سرمایہ بھارتی بانڈز سے نکل گیا، جس کی وجہ میزائل وارننگز اور بلیک آؤٹ مشقیں تھیں۔ رائٹر کے مطابق کل ملا کر تراسی ارب ڈالر کا بھارت کو نقصان ہوا۔ دوسری طرف، آئی ایم ایف نے بھارت کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے 9 مئی کو پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر جاری کیے، اور مزید 1.4 ارب ڈالر کی موسمیاتی فنڈنگ بھی منظور کی۔ یہ ایک ایسا سفارتی دھچکا تھا جس کا بھارت کے پاس کوئی موثر جواب نہ تھا۔

1980 کی دہائی سے ہندوتوا نظریہ بھارت کی سیاست میں گہرے اثرات ڈال رہا ہے، جو 2014 میں بی جے پی کے انتخابی غلبے پر منتج ہوا۔ سنجیو سانیال، جی ڈی بخشی اور جے سائی دیپک جیسے افراد مہاتما گاندھی کے ورثے کو چیلنج کرتے ہوئے سبھاش چندر بوس کی مسلح مزاحمت کو آزادی کا اصل ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہ بیانیہ بھارت کو ایک ایسی تہذیبی طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا جو پاکستان کو بآسانی شکست دے سکتی ہے۔ مگر پاکستان کے فوری اور موثر ردعمل نے اس تصور کو زمین بوس کر دیا، اور بھارت میں 1971 کی اندرا گاندھی جیسی فیصلہ کن قیادت کی یادیں پھر تازہ ہو گئیں جب برصغیر کی ایک بار پھر جغرافیائی تبدیلی واقع ہوئی جب مشرقی پاکستان بنگلادیش بن کر اُبھرا۔ یہ صرف اندرا گاندھی کی بصیرت سے ہوا ورنہ امریکہ اپنا جنگی بیڑا یو ایس ایس اینٹرپرائز خلیجِ بنگال میں صرف اس لئے تعینات کر چکا تھا تاکہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ لڑنے سے روکا جا سکے۔

راہول گاندھی کی 2022 کی وارننگ کہ بی جے پی کی چین پالیسی پاکستان اور چین کو مزید قریب لے آئے گی۔ اب محض سیاسی تنقید نہیں بلکہ ایک دور اندیش پیش گوئی محسوس ہوتی ہے۔ چین کے ریڈار اور ائر ڈیفنس سسٹمز اور لڑاکا جہازوں کی مدد سے پاکستان نے بھارتی حملے روکے اور پھر بھارت کے اندر حملہ بھی کیا۔ اس طرح بھارت کے لیے دو محاذوں پر خطرہ اب ایک نظری امکان نہیں، بلکہ ایک حقیقت بن گیا ہے۔

بھارت کی سائبر طاقت کا غرور بھی زوال کا شکار ہوا۔ اپنی تمام آئی ٹی صلاحیتوں کے باوجود، بھارتی سسٹمز کو پاکستان سے منسلک گروپس کی منظم سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں مالیاتی لین دین سست پڑ گئے، سرکاری ویب سائٹس ہیک ہو گئیں، اور کچھ علاقوں میں کمیونیکیشن بند ہو گئی۔ یہ ڈیجیٹل بھارت کی کمزوریوں کا عملی مظاہرہ تھا۔

مزید یہ کہ، کشمیر پر بین الاقوامی ثالثی کو بھارت کی جانب سے خاموشی سے قبول کرنا ایک ایسا دروازہ کھول بیٹھا ہے جسے وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بند کر چکا تھا۔ سعودی اور امریکی ثالثوں کی مداخلت نے نہ صرف پاکستانی موقف کو نئی زندگی دی، بلکہ پاکستان میں یہ امید بھی بحال کی کہ مسئلہ کشمیر کا حل اب بھی ممکن ہے۔

ایک عجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ جو جنگ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے چھیڑی گئی تھی، وہی اس کے لیے ایک نئی طاقت کا باعث بنی۔ 1971 کی ہزیمت اور 1999 کی کارگل جنگ کے محدود نتائج کے بعد ، یہ جنگ پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک بحالی ثابت ہوئی۔ عوامی سطح پر فوج کے لیے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا، اور سویلین و عسکری تعلقات میں استحکام آیا۔ موجودہ حکومت، جسے کبھی پس پردہ انجینئرنگ کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا، اب بحران سے موثر نمٹنے اور سفارتی مہارت کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جنگ کے دوران ٹویٹر پر عائد پابندی کا خاتمہ۔ کئی مہینوں کی بندش کے بعد ۔ کھلے پن کی نہیں بلکہ اعتماد کی علامت تھا: ریاست کے پاس اب ایک ایسی کہانی تھی جو وہ دنیا کو سنانا چاہتی تھی۔

Facebook Comments HS