ہماری خود فریبیاں


 

پاکستانی اور بھارتی افراد جب ترقی یافتہ ملکوں میں جاتے ہیں اور آئینہ دیکھتے ہیں تو دیکھنے والوں کو اپنا عکس بہت بھیانک دکھائی دیتا ہے۔ ہم غریب ملکوں میں رہنے والے ہر طرح کی اخلاقیات سے عاری اقوام ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم غریب اقوام کے افراد ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا شکریہ تک ادا نہیں کرتے۔ ہم ایک دوسرے سے اپنی غلطی کی معافی نہیں مانگتے۔ ہم کبھی کسی کو یہ نہیں کہتے کہ ہم انہیں سمجھ سکتے ہیں۔ ہم غیر حساس قوم ہیں، ہمیں دوسروں کا ہی نہیں بلکہ اپنا بھی احساس نہیں ہے۔ ہماری سماعتیں شور سے مانوس ہو چکی ہیں۔ ہماری بصارتیں بصیرت سے محروم ہو چکی ہیں۔ ہماری گویائی سچ سے بیزار ہو چکی ہے اور ہمارا لمس ہر لطافت سے۔ ہماری پسندیدہ بو بارود کی بو ہے۔

”ہمارا دفاعی بجٹ بہت زیادہ ہے لیکن پاک فوج نے انڈیا کا جو حال کیا ہے وہ چاہیں تو اپنا بجٹ سو فیصد بڑھا لیں، ہمیں افسوس نہیں ہو گا۔“ ایک دانشور بولے۔ جی ہاں دانشور۔ موجودہ پاک بھارت تنازعے پر غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تبصرہ کرنے والے ہمیں کم سے کم پاکستان میں نہیں ملیں گے۔ ”غیر جانبدارانہ اور منصفانہ“ جیسی تراکیب پاکستان میں صرف جھوٹ بولنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، یہ اوصاف ہمارے ہاں وجود نہیں رکھتے۔ ”ہم چھ کے مقابلے میں صفر سے یہ جنگ جیت چکے ہیں۔“ ”پاک فضائیہ کے وائس ایر مارشل اورنگزیب ایکس پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔“ ”رافیل طیارے ناکارہ نکلے، فرانس نے بھارت کے ساتھ ہاتھ کر دیا۔“ ”اب مجھے مطالعہ پاکستان پر مکمل یقین ہو چکا ہے، بھارتی واقعی جھوٹے اور مکار ہیں اور پاکستانی سچے اور پاکباز۔“ دانشورانِ ملت کے یہ اقوال زریں بہت جلد مطالعہ پاکستان کا حصہ بنیں گے۔

2025 کی جنگ میں پاکستان کی عظیم الشان فتح کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ پاکستان کی فتح سے پاکستان کے سب دکھ درد اچانک مٹ گئے۔ ان دنوں کوئی مہنگائی کا رونا نہیں رو رہا۔ سندھو دریا میں گویا پانی پھر سے رواں دواں ہو چکا ہے۔ بلوچوں کی شکایتیں شاید دور ہو چکی ہیں اور لاپتا بلوچوں کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں صحت اور تعلیم کی نجکاری کا معاملہ طے پا چکا ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان سے مذہبی انتہا پسندی، فرقہ ورانہ دہشت گردی، اور لاقانونیت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ یارسول اللہ اور یا علی والے اپنے اپنے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ ہر طرف فتح کا جشن منایا جا رہا ہے، شکرانے کے نوافل ادا کیے جا رہے ہیں اور یوم تشکر بھی منایا جا رہا ہے۔ لوگ ٹی وی چینلز کے ساتھ چپک کر بیٹھے ہیں اور اپنے عظیم الشان کارناموں کے قصوں پر سر دھن رہے ہیں۔ جو مسلمان بچے بھارت نے مارے وہ شہید ہیں لیکن جو کشمیری بچے ہماری فائرنگ سے ہلاک ہوئے ان کا ہم پر الزام دھرا گیا ہے۔ ہمارے لیے بھارت سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کے خیر خواہ بن چکے ہیں۔ ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہے اور یہ ایک نئے اور پرمسرت دور کا آغاز ہے۔ دنیا بھر میں ہماری عظمت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ آذربائیجان، ترکی اور سعودی عرب ہم پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں اور ہمارے ساتھ جشن میں شریک ہیں۔ آخر ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، سینہ پھلا کر چلنا تو بنتا ہے۔

یہ وہ خوبصورت خود فریبیاں ہیں جن میں ہم مبتلا ہو چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے سرمایہ دار حکمران اس چند روزہ جنگ سے اپنے دور رس فوائد اٹھا چکے ہیں۔ جو غیر مقبول تھے وہ مقبول ہو چکے ہیں اور جو مقبول تھے وہ غیر مقبول۔ ہر طرف قومیت اور مذہبیت کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہم آئینے میں خود کو بہت خوش نما معلوم ہو رہے ہیں۔ کوئی ہے جو ہمیں ایسا آئینہ دکھائے جس میں ہم اپنی اصل بھیانک شکل دیکھ سکیں۔

Facebook Comments HS