پاک بھارت کشیدگی کامیاب کون؟


 

تاریخ گواہ ہے کہ بعض واقعات محض وقتی تصادم نہیں ہوتے، بلکہ وہ پورے خطے کے تزویراتی، سیاسی اور سفارتی بیانیے کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ 7 مئی 2025 کا دن بھی ایسی ہی ایک مثال بن کر سامنے آیا، جس نے بھارت کی عسکری برتری کے تصور کو چیلنج کر دیا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو پاکستان کے حق میں موڑ دیا۔

بھارت طویل عرصے سے خود کو ایک ناقابلِ تسخیر علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔ اس کی ”نیو نارمل“ حکمت عملی کے مطابق وہ کسی بھی سرحد پار حملے کا فوری اور بھرپور جواب دے گا، خواہ اس حملے کی ذمہ داری کوئی بھی قبول کرے۔ 2016 کی سرجیکل اسٹرائیک اور 2019 کے بالاکوٹ حملے اسی پالیسی کی بنیاد تھے۔ مگر مئی 2025 میں جب بھارت نے اسی پالیسی کے تحت ایک بار پھر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، تو پاکستان نے بھرپور، بروقت اور موثر جواب دے کر بھارتی دعووں کو زمینی حقیقتوں سے بے نقاب کر دیا۔

پاکستان نے نہ صرف عسکری سطح پر برتری دکھائی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی بھارت کو واضح شکست دی۔ مودی حکومت کی جارحانہ پالیسی، جس میں یک طرفہ عالمی معاہدوں کی معطلی، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے کے چھوٹے ممالک پر دباؤ شامل تھا، نے عالمی برادری کو بھارت سے دور کر دیا۔ اسی دوران پاکستان نے سفارتی محاذ پر متوازن اور ذمہ دارانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے امریکہ، چین، اقوام متحدہ، او آئی سی اور یورپی یونین جیسے عالمی فورمز پر موثر موقف پیش کیا۔ عالمی میڈیا نے پاکستان کے موقف کی تائید کی اور بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں، جعلی ویڈیوز اور جنگی جنون پر مبنی بیانیے کو بے نقاب کیا۔

بھارتی معیشت، جو پہلے ہی دباؤ میں تھی، اس کشیدگی کے بعد مزید بحران کا شکار ہو گئی۔ اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، بھارتی روپیہ گر گیا، بیرونی سرمایہ کاری رک گئی، اور سیاحت و ہوٹلنگ انڈسٹری کو اربوں کا نقصان ہوا۔ پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش نے بھارتی فضائی صنعت کو بھی بڑا دھچکہ پہنچایا، جب کہ اندرونی خلفشار نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔

مودی حکومت کا ہندوتوا نظریہ، جو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتوں کو بھی متاثر کر رہا تھا، اس کشیدگی کے بعد شدید تنقید کی زد میں آیا۔ اندرونی طور پر مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور گورننس کی خرابیاں، اس فوجی ناکامی کے بعد عوامی غصے میں بدل گئیں۔ مودی کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی اور ماہرین کے مطابق اگلے انتخابات میں حکومتی اتحاد کی شکست کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

پاکستانی عوام، حکومت، اپوزیشن اور افواج نے قومی اتحاد اور عسکری حکمتِ عملی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی یکجہتی کا ثبوت دیا گیا، جس سے نہ صرف ملکی استحکام میں بہتری آئی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی تقویت ملی۔ دفاعی اداروں کی کامیاب حکمتِ عملی کے باعث عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوا، جب کہ دہشت گرد تنظیموں جیسے بی ایل اے اور تحریکِ طالبان کے نیٹ ورکس کو سخت دھچکہ پہنچا۔ بھارتی مالی امداد کی بندش، عوامی حمایت کے خاتمے اور داخلی سیکیورٹی اقدامات کے باعث یہ نیٹ ورکس تقریباً غیر موثر ہو چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات میں بھی مزید مضبوطی آئی ہے۔ مشترکہ منصوبوں جیسے سپیس ٹیکنالوجی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت پر مبنی وار سسٹمز اور دفاعی پیداوار میں تعاون نے دونوں ممالک کو اسٹریٹیجک شراکت دار بنا دیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت، خصوصاً مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز اور سمارٹ ہتھیاروں میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف فوجی میدان میں بلکہ اقتصادی طور پر بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

اس پوری صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ”کامیاب کون رہا؟“ ۔ اگر عسکری نتائج، سفارتی اثرات، عالمی حمایت، داخلی استحکام، اور اقتصادی ردعمل کو دیکھا جائے، تو بلاشبہ پاکستان نے اس بحران میں برتری حاصل کی۔ بھارت کو نہ صرف عسکری پسپائی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی شدید دھچکہ لگا۔ اس کشیدگی نے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ حکمت، یکجہتی، اور موثر سفارت کاری سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ اور اس میدان میں پاکستان سبقت لے گیا۔

یہ واقعہ مستقبل میں جنوبی ایشیا کی سیاست اور سکیورٹی ڈائنامکس پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ پاکستان نے ایک نئے، خود اعتماد اور موثر ریاستی کردار کا مظاہرہ کیا ہے، جو نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان اب دفاع کے ساتھ ساتھ سفارت کاری میں بھی بھرپور انداز میں موجود ہے۔

Facebook Comments HS