عورت کو مرد بنانے والے با اختیار مرد


مرد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرد ہے، اس کی بات سننی ہے، کہنا ماننا ہے ، عزت و تکریم دینی ہے،تو عورت بھی تو عورت ہوتی ہے؟ اس کی بات بھی سننی چاہئے، کہنا مانا جانا چاہئے، محترم جاننا چاہئے، اہمیت دینی چاہئے۔

کیا عورت کو یہ بتانا ضروری ہے کہ میں عورت ہوں؟ میں تمہاری ماں ہوں؟ میں تمہاری بیٹی ہوں؟ میں تمہاری بہن ہوں؟ میں یہ چاہتی ہوں بیٹے، میں یہ چاہتی ہوں ابو، میں یہ چاہتی ہوں بھائی!

رشتوں کی پہچان احترام میں چھپی ہوتی ہے، بچہ جب ماں کی آغوش میں آتا ہے تو ماں کی گود میں رچی بسی خوشبو سے رشتہ قائم کرتا ہے اسے محترم جانتا ہے، اسے کوئی نہیں بتاتا تمہاری ماں فلاں فلاں عورت ہے، صرف احساس ، انسان کا رشتہ افراد سے قائم ہونے والے رشتوں کی نوعیت سے جوڑتا ہے۔

مرد حضرات کے حوالے سے ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ عورت کی طرح حسد،جلن اور نفرت انگیز رویہ نہیں رکھتے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ طبیعتاً حساس اور جلد باز نہیں ہوتے یا یہ کہہ لیجئے کہ بے صبرے نہیں ہوتے، جذباتی نہیں ہوتے۔

عورت فطرتاً بہت جذباتی اور جلدباز طبیعت کی مالک جانی جاتی ہے، خاص کرجب اس کا سامنا کسی مرد سے ہوتا ہے، وہ علم رکھتی ہے کہ بات کو جب تک خاص بنا کر پیش نہیں کیا جائے گا، بات سنی ہی نہیں جائے گی، دوسری طرف جن صاحب سے ایسی خاتون کا واسطہ پڑتا ہے ان کی نفسیات کو دیکھ کر عورت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہ مرد رام کیسے ہوگا، کیونکہ بیشتر مرد حضرات بہت غالب طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ، وہ سنانا چاہتے ہیں سننا بالکل نہیں چاہتے، یا یہ کہہ لیجئے حاکمیت گھٹی میں شامل ہوتی ہے۔

مرد کو اگر کوئی ایسی عورت مل جائے جو خود مختار طبیعت کی مالک ہو، اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت و حوصلہ رکھتی ہو تو پھر تو نہ پوچھئے، ایک قیامت جیسے برپا ہوجاتی ہے، جواب کیوں دیا؟

ارے بھائی! عورت کے منہ میں بھی ویسی ہی سرخ زبان پائی جاتی ہے جیسی لمبی پیاری زبان مرد کے منہ میں رس گھول رہی ہوتی ہے، استعمال کرنا کوئی مرد پر ہی تو فرض نہیں ہے؟

پھر عورت کو کیوں خاموشی کا درس دیا جاتا ہے؟ مردانگی کی تعریف کیا ہے؟ کیسے بیان کیا جائے مرد کی مردانگی کو؟

اگر عورت اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کا تذکرہ کرے تو اسے چپ کروادیا جاتا ہے، چاہے وہ ظلم اس کے گھر والے ہی کیوں نہ کر رہے ہوں؟ مثال دینا چاہوں گی۔

بھائی نہیں چاہتا کہ تم یونیورسٹی جاو، ماحول بہت خراب ہے، بس کافی ہے، بہت پڑھ لیا بیٹی، گھر سنبھالو، آگے بھی یہ کام آئے گا، کون سی ہمیں تم سے نوکری کروانی ہے۔

اب بھلا یہ کون بتائے کہ کام کیا آنے والا ہے؟ کھانا پکانا یا نوکری پہ جانا، گھر کو بھی دیکھنا اور پیسے بھی کمانا، سسرال کے کم تعلیم کے طعنے بھی سننا اور ماں کو بھی نہ بتانا!

مرد اصل میں مرد نہیں ایک مریض ہوتا ہے، اس کا علاج کرنا اور نفسیات کو سمجھنے کا مطلب خود کو مٹا دینا اور نیا جنم لینے کے مترادف ہوتا ہے۔

متوسط گھرانوں میں تو نہ پوچھئے، زبردستی کی مرضی مسلط کرنا، یہ نہیں پڑھو گی، وہ نہیں پڑھو گی، ابو یہ چاہتے ہیں، بھائی یہ چاہتا ہے!

ارے کوئی خدا کا بندہ یہ بتادے کہ بیٹی ، بہن، بہو، ماں بھی کچھ چاہ سکتی ہے یا نہیں؟ پسند نہ پسند دوسروں پر مسلط کرنا کہاں کی مردانگی ہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں، ہم وہ چاہتے ہیں، تم یہ کرلو تم وہ کرلو!

مائیں تو خود بے چاری برداشت کی جیتی جاگتی مثال ہوتی ہیں، ان سے کوئی کیا شکایت کرے، وہ تو خود اس مردانگی کے مرض کا سامنا کرتے کرتے خود بھی مردانگی کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔

مشورہ ضرور دیں، لیکن خدارا دماغ پر سوار نہ ہوں دوسرے کے! اس کے سر درد کا باعث نہ بنیں، زیادہ تر خاندانوں میں یہی رجحان پایا جاتا ہے۔

بیٹی کالج میں گئی، رشتہ آیا اور شادی کردی، ارے اسے شادی کرنے اور نبھانے کے قابل تو ہولینے دیں؟ پڑھایا لکھایا نہیں، شادی کردی، بعد میں لڑکی احساس کمتری کا شکار، ڈپریشن کے دورے، بچوں کی پیدائش اور دیگر مسائل میں مبتلا ہوجاتی ہے۔

ماں باپ تو شادی کر کے اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں، لیکن انہیں سبکدوش ہونا نہیں چاہئے۔

پیٹی کو سسرال بھیجا ہے، قبرستان تو نہیں بھیجا؟ تحفظ احساس دلاتا ہے، محبت دلاتی ہے ، توجہ دلاتی ہے، عورت پر چلانا، اس کی بات نہ سننا، نہ عزت کرنا نہ کروانا اور بس یہ چاہنا کہ وہ آپ کی عزت کرے تو ایسا وہ ڈر کے تو ضرور کرسکتی ہے، چاہ کر کبھی نہیں کرے گی۔

یہ کہاں کی مردانگی ہے کہ آپ ، بہن، بیٹی پر ہاتھ اٹھائیں، اس کی جائز خواہشات کا گلا گھونٹ دیں، نہ تعلیم دلوائیں نہ ہی تحفظ فراہم کرسکیں۔
بیٹی اپنی مر ضی سے تو پیدا نہیں ہوتی ،آپ خود اسے پیدا کرکے دنیا میں لاتے ہیں، تو یہ زور زبردستی کیوں؟

اگر عورت جواب دیتی ہے،تو بدلحاظ، بد تمیز اور بد زبان کہلاتی ہے، ایک بات جو غور کرنے کی ہے وہ یہ کہ کوئی عورت یا لڑکی پہلے دن بد لحاظ، بد تمیز اور بد اخلاق نہیں ہوتی، گھر کا تناو بھرا ماحول، بے جا سختی، روک ٹوک، سسکنا، کڑھنا اسے بااختیار، خودمختار بننے پر مجبور کردیتا ہے اور مرد سے بے زار بھی۔

آج اگر عورت مرد بننا چاہتی ہے تو کسی نہ کسی مرد کی مردانگی کی وجہ سے، حاکمیت کی وجہ سے، تسلط کی وجہ سے، تو برا کیوں لگتا ہے؟

آج وہ بھی وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو آپ اسکے ساتھ کرتے آئے، وہی بے فکری، وہی عدم توجہ، وہی حاکمیت وہی تسلط ،تو کیا برا ہے، جب آپ معزز مرد ٹھہرے تو وہ بھی قابل احترام ہیں، اس کی اس مردانگی کی تعریف کریں ، وہ حیران ضرور ہوگی لیکن پریشان نہیں ہوگی، اس طرح شاید آپ اس عورت کو اس کے وجود کے نرم و نازک سانچے میں ڈھالنے میں کامیاب ہوجائیں!

Facebook Comments HS