بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ


بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کا تصور صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں اور آزادی کے بعد سے کشمیر کے تنازعے پر کئی بار فوجی تصادم ہو چکے ہیں۔ اگرچہ سفارتی کوششوں، خفیہ مذاکرات اور بین الاقوامی مداخلتوں نے اب تک مکمل جنگ کو روکے رکھا ہے، لیکن جوہری تصادم کا امکان اب بھی موجود ہے، اور اگر ایسا ہوا تو اس کے نتائج نہایت ہولناک ہوں گے، نہ صرف ان دو ممالک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔

تازہ ترین اندازوں کے مطابق بھارت اور پاکستان کے پاس تقریباً 150 سے 170 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ یہ ہتھیار میزائلوں، طیاروں اور دیگر ذرائع سے داغے جا سکتے ہیں۔ ایک مکمل جنگ کی صورت میں دہلی، ممبئی، کراچی، لاہور، بنگلور، اور اسلام آباد جیسے بڑے شہر نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان شہروں کی گنجان آبادی انہیں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے لیے نہایت حساس بنا دیتی ہے۔

اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان مکمل جوہری جنگ چھڑ جائے تو عالمی تحقیقی اداروں کے محتاط اندازوں کے مطابق پہلے ہفتے میں ہی 5 کروڑ سے 12 کروڑ کے درمیان لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ یہ تخمینہ اس بنیاد پر ہے کہ تقریباً 100 جوہری ہتھیار استعمال ہوں، جن میں سے ہر ایک کی طاقت ہیروشیما پر گرائے گئے بم کے برابر یا اس سے کہیں زیادہ ہو۔

ہیروشیما پر گرایا گیا ایٹم بم 1945 میں تقریباً 1,40,000 لوگوں کی جان لے گیا تھا۔ آج کے جوہری ہتھیار اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک 100 کلو ٹن کا بم اگر کراچی یا دہلی جیسے شہر پر گرا دیا جائے تو وہاں ایک سے دو ملین لوگ فوراً ہلاک ہو سکتے ہیں، جب کہ کروڑوں افراد زخمی اور بے گھر ہو جائیں گے۔ شدید گرمی سے آگ بھڑک اٹھے گی، عمارتیں، انسان، جانور سب جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ زلزلہ نما جھٹکے کئی کلومیٹر تک ہر شے کو زمین بوس کر دیں گے۔ ہسپتال تباہ ہو جائیں گے، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ختم ہو جائے گی، اور بچ جانے والے لوگ ناقابلِ بیان تکالیف میں مبتلا ہوں گے۔

جوہری دھماکوں کے بعد تابکاری مادّہ ہوا، پانی اور زمین کو زہریلا کر دے گا۔ ہوائیں اسے دیہی علاقوں تک لے جائیں گی، جہاں زراعت اور جانور پالنے والے لاکھوں خاندان اس سے متاثر ہوں گے۔ فصلیں برباد ہو جائیں گی، جانور مر جائیں گے، پانی پینے کے قابل نہیں رہے گا۔ فوری ہلاکتوں کے بعد آنے والے برسوں میں لاکھوں لوگ کینسر، اندرونی اعضاء کی ناکامی اور بچوں کی پیدائش میں بگاڑ جیسے مسائل کا شکار ہو کر مر جائیں گے۔

تابکاری سے متاثرہ افراد کو خون بہنا، جلد پر زخم، بال جھڑنا، اور بالآخر موت جیسے علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں طبی امداد کا کوئی نظام باقی نہیں بچے گا۔

معاشی طور پر دونوں ممالک مکمل طور پر مفلوج ہو جائیں گے۔ بجلی، نقل و حمل، ہسپتال، اسکول، انٹرنیٹ، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ معیشت دہائیوں پیچھے چلی جائے گی۔ بین الاقوامی سرمایہ کار فرار ہو جائیں گے، کرنسیاں گر جائیں گی، بینک تباہ ہو جائیں گے، بے روزگاری، افراطِ زر اور قحط جنم لے گا۔

خوراک کی فراہمی کا نظام ٹوٹ جائے گا۔ زرعی علاقے یا تو تباہ ہوں گے یا تابکاری سے آلودہ ہو چکے ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ کا نظام ختم ہونے سے کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل ممکن نہ رہے گی۔ اقوام متحدہ اور عالمی بینک جیسے ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں ایک جوہری جنگ سے پوری دنیا میں معاشی بدحالی جنم لے سکتی ہے۔

ماحولیاتی نقصان بھی انتہائی خطرناک ہو گا۔ سائنس دان ایک مظہر کو ”جوہری سردی“ یا Nuclear Winter کہتے ہیں، جہاں سینکڑوں شہروں میں جلنے والی آگ سے نکلنے والا دھواں فضا کی بالائی سطح میں جا کر سورج کی روشنی کو روک دیتا ہے۔ اس سے زمین کا درجہ حرارت 1.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار ختم ہو جائے گی، بارشیں کم ہو جائیں گی، سردیاں طویل ہو جائیں گی، دنیا بھر میں قحط پڑ سکتا ہے

دریا، سمندر اور دیگر آبی ذرائع بھی تابکاری اور تیزابی بارش سے متاثر ہوں گے، جس سے آبی حیات کو شدید نقصان پہنچے گا۔

ایسے حالات میں کروڑوں افراد اپنے علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مہاجرین کی لہر بن سکتی ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، ایران اور چین جیسے ممالک پر اس کا دباؤ پڑے گا۔ ان ملکوں کے معاشی اور طبی نظام بھی دباؤ کا شکار ہو جائیں گے، جس سے مزید سیاسی کشیدگیاں اور ممکنہ جھڑپیں جنم لے سکتی ہیں۔

پناہ گزین کیمپوں میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہو گا۔ پانی اور صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔

ایسی جنگ کا عالمی ردعمل شدید ہو گا۔ اقوام متحدہ، نیٹو، اور دنیا کی بڑی طاقتیں فوری مداخلت کرنے پر مجبور ہوں گی تاکہ تباہی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ امریکہ، روس، چین جیسے ممالک اس بحران میں سفارتی یا ممکنہ طور پر فوجی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس جنگ سے نہ صرف موجودہ ترقی کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ جنوبی ایشیا عالمی اقتصادی مرکز بننے کی بجائے ایک تباہ شدہ خطہ بن جائے گا۔ انسانی تہذیب کی کئی صدیوں کی محنت مٹی میں مل جائے گی۔

اس کے علاوہ، انسانی ذہن پر پڑنے والے اثرات بھی ناقابلِ تلافی ہوں گے۔ بچے یتیم، خاندان برباد، لاکھوں لوگ ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ جسمانی نقصانات کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی زخم کئی نسلوں تک رہیں گے۔ ثقافتی ورثہ، تاریخی مقامات، عبادت گاہیں اور علمی ادارے تباہ ہو جائیں گے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ ایک انسانی، ماحولیاتی اور معاشی قیامت ہوگی۔ لاکھوں لوگ مارے جائیں گے، پورے شہر تباہ ہو جائیں گے، اور آنے والی نسلوں کو ایک زہریلی، بیمار اور افسوسناک دنیا ورثے میں ملے گی۔

اگرچہ دونوں ممالک مختلف عالمی جوہری معاہدوں سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن ابھی تک انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی مکمل ممانعت کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ اس لیے سفارتکاری، مکالمہ، اور اعتماد سازی کے اقدامات نہایت اہم ہیں تاکہ اس مہلک راستے سے بچا جا سکے۔

شہری معاشرے، امن کے کارکن، اور بین الاقوامی اداروں کو مسلسل آواز بلند کرنی چاہیے کہ جنوبی ایشیا کو اس اندھے کنویں کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ تعلیم، صحت، اور تجارت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پیدا کیا جا سکتا ہے۔

ایسے حالات میں ہتھیار نہیں، بلکہ حکمت، برداشت، اور امن کی ضرورت ہے۔ دشمنی اور انتقام کی بجائے باہمی بقا اور مکالمے کا راستہ اپنانا ہی دونوں قوموں کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ جوہری جنگ کے بعد کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔

Facebook Comments HS