ہر طرف مذاکرات کی بازگشت ہے


یعنی وہ موسم پھر آ پہنچا ہے جہاں پس پردہ کھسر پھسر کی چہ میگوئیاں، خبر سے پہلے تجزیہ اور تجزیے سے پہلے ”ذرائع“ کی پھونکیں گونجنے لگتی ہیں۔ ملک کی فضا میں ایک بار پھر ”نرم مداخلت“ کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے اور خوشبو بھی ایسی کہ جیسے کسی طویل قید کے بعد تازہ ہوا کا ایک جھونکا مگر سوال وہی ہے۔ کیا یہ جھونکا آزادی لائے گا یا صرف پردے کے پیچھے کا دروازہ کھولے گا؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ”مذاکرات“ ایک ایسا لفظ ہے جو اکثر تب سنائی دیتا ہے جب اونٹ پہاڑ کے نیچے آ چکا ہوتا ہے۔ عمران خان اور مقتدر حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج، عدالتی محاذ آرائی، اور عوامی اضطراب نے بالآخر سب کو یہ سمجھا دیا ہے کہ اب ”بس بہت ہو چکا“ ۔ ہم یہ بات تو روز اول سے کہتے آ رہے ہیں کہ یہ معاملہ آخرکار مذاکرات کی میز پر ہی حل ہو گا کیونکہ بند دروازے، بند زبانیں اور بند ذہن صرف ایک چیز پیدا کرتے ہیں اور وہ ہے بند گلی۔ اور اس گلی میں سب سے پہلے جو دم گھٹتا ہے وہ ریاست ہوتی ہے۔

عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے منفرد اور پیچیدہ کردار ہیں۔ قید ہو کر بھی ہمیشہ سے خبروں کے مرکز میں ہیں، خاموش رہ کر بھی ایجنڈا طے کرتے ہیں اور نظر بند ہو کر بھی لاکھوں نگاہوں کا محور ہیں۔ مگر سیاست صرف بیانیہ کا کھیل نہیں، حکمت کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اس وقت خان صاحب کے لیے یہی بہترین موقع ہے کہ وہ ”کچھ لو کچھ دو“ کی پختہ پالیسی اختیار کریں جو دنیا بھر کی جمہوریتوں میں ہوتا ہے، سیاسی مفاہمت کے دروازے کھولیں، ذاتی انا کو قومی مصلحت کے سامنے قربان کریں، اور سب سے بڑھ کر، آئینی دائرے میں رہ کر اپنا بیانیہ زندہ رکھیں۔

حالیہ حکومت نہ صرف کمزور عوامی حمایت کی حامل ہے بلکہ کسی حد تک اس کے پاؤں بھی معیشت، مہنگائی اور عوامی غم و غصے کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ اس حکومت کے پاس شاید وہ عوامی سپورٹ نہیں ہے جو ایک جمہوری حکومت کو حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بیانیہ جو عوام کے دلوں کو گرما سکے۔ خان صاحب باہر آ کر بے شک خاموش رہیں۔ ان کی یہ ”خاموشی“ ہی سب سے بڑی گونج ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ کبھی کبھار جنگ جیتنے کے لیے ”پسپائی“ نہیں بلکہ ”وقار کے ساتھ پیچھے ہٹنا“ زیادہ اہم ہوتا  ہے۔

اگر اس بار بھی مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، اگر پھر سے ذاتی انا، طاقت کا  زعم اور وقتی فائدے قومی مفاد پر حاوی آ جاتے ہیں تو یاد رکھیں  یہ نقصان کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں ہو گا، یہ نقصان پاکستان کا  ہو گا۔ ایک معاشرہ جہاں عوام کو روٹی، روزگار اور امن میسر نہ ہو وہاں خواہ کوئی بھی حکمران ہو، وہ فتح مند نہیں، فقط ”ڈنگ ٹپاؤ“ ہوتا ہے۔ مذاکرات صرف ٹیبل پر بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ بڑی سوچ، بڑے دل اور بڑے ظرف کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر عمران خان آج مصلحت سے کام لیتے ہیں، جیل سے باہر آ کر سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اپنی مہم کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہیں اور بدلہ لینے کے بجائے آئندہ الیکشن پر توجہ دیتے ہیں تو یقین مانیے، وہ صرف اپنی سیاست ہی نہیں بچائیں گے بلکہ ریاست کو بھی مزید بربادی سے روک لیں گے کیونکہ تحریک انصاف کا اندرونی ڈھانچہ بھی شدید توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ عہدیداروں کو آپسی لڑائی جھگڑوں سے ہی فرصت نہیں ہے۔

”عقل مند وہی ہوتا ہے جو وقت آنے پر جھک جائے تاکہ آنے والے کل کو پھر سر اٹھا سکے۔“ لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو ایک نئے سیاسی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں طاقت کے بجائے اصول اور انتقام کے بجائے اتفاق کو جگہ ملے۔

Facebook Comments HS