کیا پاکستان کی سیاست کبھی ”سیزن فائنل“ دیکھے گی؟
پاکستان کی سیاست کسی ان تھک ڈرامے کی طرح ہے جس کا اگلا سین ہمیشہ پچھلے سے زیادہ ہنگامہ خیز ہوتا ہے۔ جیل یاترائیں، ملک بدریاں، مقدمے، این آر او، اور پھر دوبارہ وہی چہرے، تھوڑا میک اپ بدل کر۔ کیا یہ سلسلہ کبھی رکے گا؟
ہر بار جب کوئی نیا چہرہ اقتدار میں آتا ہے، پرانے کرداروں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔ عوام سمجھتے ہیں شاید اب انصاف ہو، مگر جلد ہی منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ پھر وہی چہرے، وہی تقریریں، وہی وعدے۔
کبھی نواز شریف جدہ کی راہ لیتے ہیں، کبھی عمران خان جیل کے دروازے تک پہنچتے ہیں، اور کبھی زرداری کو اسپتال کے راستے سے عدالت لایا جاتا ہے۔ کیا واقعی ہر باری کے بعد باری کا بدلہ ہی سیاست ہے؟
عدلیہ، نیب، اور اسٹیبلشمنٹ سب اپنی جگہ موجود، لیکن تاثر یہ کہ کوئی بھی مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں۔ ہر نیا کیس سیاسی انجینئرنگ کی جھلک دیتا ہے، اور پھر الزام تراشی کا طوفان شروع ہو جاتا ہے۔
پاکستانی قوم برسوں سے ایک ہی کھیل دیکھ رہی ہے ایک پارٹی جیتتی ہے، دوسری روتی ہے۔ اگلے الیکشن میں رولز بدل جاتے ہیں۔ اور اس رولر کوسٹر میں عوام کا حال اس سواری کی طرح ہے جسے اپنی منزل کا پتہ ہی نہیں۔
یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ جو سیاسی رہنما خود جمہوریت کی بات کرتے ہیں، وہ اقتدار میں آتے ہی انتقام کی راہوں پر چل نکلتے ہیں۔ نظریہ ضرورت کے تحت سب جائز ہو جاتا ہے، اور ماضی کی غلطیاں مستقبل کے وعدوں میں چھپ جاتی ہیں۔
کبھی زرداری صاحب ”مصالحت“ کی سیاست کا نعرہ لگاتے ہیں، کبھی خان صاحب ”آزادی“ کی تحریک چلاتے ہیں، اور کبھی نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کا پرچم اٹھاتے ہیں۔ مگر اقتدار ملتے ہی سب کو ”فقط اقتدار دو“ کی فکر ہوتی ہے۔
اس سیاسی کھیل نے نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کیا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے سیاست ایک تھکا دینے والا مذاق بن چکی ہے، جس کا نتیجہ ہمیشہ زیرو۔
کیا کبھی ایسا ممکن ہو گا کہ سیاستدان ایک دوسرے کو غدار کہنے کی بجائے ایک قدم پیچھے ہٹ کر بات چیت کی میز پر آ سکیں؟ کیا حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی فیکٹریاں بند ہوں گی؟
یہی وقت ہے کہ کوئی آگے بڑھے اور کوئی پیچھے ہٹے۔ مذاکرات، مفاہمت اور جمہوری تسلسل کے بغیر پاکستان صرف بحرانوں کی فہرست میں اضافہ کرتا جائے گا۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاستدان متحد ہوئے، ملک نے ترقی کی۔ مگر جب انہوں نے ایک دوسرے کو مٹا دینے کا ارادہ کیا، تو جمہوریت کی بنیادیں ہل گئیں۔
کیا ہم واقعی سلطان راہی کی اسکرپٹ سے نکل کر جدید سیاسی مکالمے کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟ کب تک ہر جلسے میں بڑھکیں، دھمکیاں، اور الزام بازی ہوتی رہے گی؟ کوئی تو ہو جو سنجیدہ بات کرے، بغیر مائیک توڑے۔
افواج پاکستان اور سپہ سالار کی حالیہ کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔ بھارت سے جنگ میں واضح برتری نے جہاں دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا، وہیں اندرونی ریاست مخالف گروہ کی حرکتوں کا پردہ بھی چاک کر دیا۔
یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ بیرون ملک بیٹھے نام نہاد آزادی اظہار کے پیروکاروں نے کھل کر دشمن کا ساتھ دیا اور بظاہر اپنی ہمدردیوں کو ایک سیاسی جماعت سے منسوب کر کے اس کے قومی کردار کو بھی داغدار کیا۔
دوسری جانب جنرل عاصم منیر نے خود کو ایک محب وطن، دور اندیش اور باوقار سپہ سالار کے طور پر منوایا ہے۔ اختلاف کرنے والوں کو بھی اب سچائی تسلیم کرنی چاہیے اور فوج جیسے ریاستی ادارے کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہیے۔
مگر اس عزت و وقار کو استعمال کر کے سیاسی قوتوں کو مزید دیوار سے لگانے کی کوشش، ریاست کے مفاد میں ہرگز نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت اور اداروں کے درمیان توازن ہی اصل کامیابی ہے۔
ماضی میں ہم نے کئی بار دیکھا کہ محض سیاسی چالوں سے کسی کو دیوار سے لگانا، بالآخر ملک کو مہنگا پڑتا ہے۔ ایک اور لیڈر اگر تختۂ دار پر چڑھا، تو دنیا کو ہم کیا پیغام دیں گے؟
کیا دنیا یہی سمجھے کہ پاکستان میں سیاست جرم ہے؟ یا ہر لیڈر کی سیاسی قیمت صرف تب سمجھی جاتی ہے جب وہ جیل میں ہو، یا جلا وطن؟ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
جمہوریت کی کامیابی اختلافِ رائے کے احترام میں ہے، نہ کہ اسے کچلنے میں۔ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ جمہوریت کے سفر میں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی اصل فتح ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم اس میوزیکل چیئر کو روکے، جس میں صرف کرسی بدلتی ہے، مگر رویے، بیانیے اور انجام ایک ہی رہتا ہے۔ کیا ہم اتنے باشعور نہیں ہو چکے؟
عوام اب چالاک ہو چکی ہے۔ وہ جان چکی ہے کہ جب تک سیاسی قیادت اپنی ذاتی انا سے بالاتر ہو کر قومی سوچ نہیں اپنائے گی، تب تک پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔
تو کیوں نہ آج ہی سے ایک نیا آغاز ہو؟ کوئی بڑائی دکھائے، کوئی نرم زبان اپنائے، اور کوئی پرانی دشمنیاں دفن کرے۔ صرف ملک کے لیے۔
کیونکہ آخر میں صرف ایک پاکستان بچتا ہے، اور اگر ہم نے اسے اپنی انا کے کچرے تلے دفن کر دیا، تو آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ کیا ہم اس انجام کے منتظر ہیں؟


