ریسکیو 1122 : ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے؟


ریسکیو 1122 سروس کا آغاز سندھ حکومت نے 2022 میں بلند دعووں اور بین الاقوامی معیار کی امیدوں کے ساتھ کیا۔ اس کا مقصد ایمرجنسی صورتحال میں فوری، معیاری اور مفت سروس فراہم کرنا تھا۔ یہ منصوبہ سندھ ریزیلینس پروجیکٹ (SRP) کے تحت ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے شروع کیا گیا۔ ابتدا میں یہ اقدام عوامی فلاح کا روشن باب محسوس ہوا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کچھ فیصلوں اور انتظامی تبدیلیوں نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

ریسکیو 1122 کی بنیاد ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے رکھی، جنہوں نے بین الاقوامی طرز پر اس ادارے کو نہ صرف منظم کیا بلکہ اسے عوامی اعتماد کا مرکز بنایا۔ مگر حالیہ تبدیلیوں میں انہیں ہٹا کر بریگیڈیئر (ر) واجد صبغت اللہ مہر کو ڈی جی مقرر کیا گیا۔ اس تبدیلی نے کئی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ یہ اقدام پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے انتظامی مفاہمت کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔

سندھ میں 1122 کے دو علیحدہ یونٹس کام کر رہے ہیں :

1۔ ریسکیو 1122 (SRP) ۔ محکمہ ریہبلیٹیشن کے ماتحت، جو قدرتی آفات، آتشزدگی اور دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹتا ہے۔

2۔ SIEHS (سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز) ۔ محکمہ صحت کے ماتحت جو ایمبولینس، ہسپتال ریفرلز اور ایمرجنسی ہیلتھ کیئر پر مرکوز ہے۔

یہ دوہری ساخت نہ صرف انتظامی ابہام پیدا کرتی ہے بلکہ ایک ہی ایمرجنسی نمبر پر دو الگ اداروں کی موجودگی شہریوں میں الجھن پیدا کرتی ہے۔ دونوں کے الگ بجٹ، کمانڈ اسٹرکچر، اور مقاصد ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ:

وسائل کی غیر موثر تقسیم ہو رہی ہے۔
بجٹ کی مد میں شاہانہ اخراجات ہو رہے ہیں۔
سروس کے معیار میں فرق آ رہا ہے۔
کسی قسم کا سماجی یا آزادانہ آڈٹ نہیں ہوا۔

ریسکیو 1122 جو کہ صحت کے شعبے میں آتی ہے، اس کا کنٹرول بھی ایک اور ریٹائرڈ فوجی افسر، بریگیڈیئر (ر) طارق لاکھیر، کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سول اداروں میں متعلقہ ماہرین کی کمی ہے؟ یا پھر سویلین افسران پر اعتماد ختم ہو چکا ہے؟

ادارے میں میرٹ کے بجائے ریٹائرڈ افسران کی ”ایڈجسٹمنٹ“ کا تاثر ابھر رہا ہے، جو سول ادارے کی روح اور مقصد کے برعکس ہے۔ ریسکیو 1122 ایک تکنیکی، میڈیکل اور سائنسی نوعیت کی سروس ہے، جس کی قیادت کسی ماہر ایمرجنسی مینجمنٹ یا پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ کے پاس ہونی چاہیے، نہ کہ کسی فوجی پس منظر رکھنے والے فرد کے پاس۔

ورلڈ بینک کی جانب سے اس منصوبے کے لیے 262.1 ملین ڈالر (تقریباً 74 ارب روپے ) دیے گئے جبکہ مزید 8.5 ملین ڈالر کی توسیعی امداد بھی دی گئی۔ سال 2024۔ 25 میں آپریشنل اخراجات کے لیے 304.36 ملین روپے مختص کیے گئے۔ مگر یہ فنڈز زمین پر مطلوبہ تبدیلی لانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بیشتر بجٹ فائلوں، ائرکنڈیشنڈ دفاتر اور تنخواہوں میں کھپ گیا جبکہ عوام تک بنیادی سہولتوں کی رسائی محدود ہے۔

سندھ اسمبلی نے 2023 میں ”سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ“ بھی منظور کیا، جس سے قانونی پشت پناہی حاصل ہوئی۔ لیکن اگر عملدرآمد ناقص ہو، قیادت غیر متعلقہ ہو، اور نگرانی غیر موثر، تو قانون بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے : کیا سندھ حکومت سول ماہرین پر اعتماد کھو چکی ہے؟
کیا ریسکیو 1122 ایک شفاف، میرٹ بیسڈ ادارہ ہے یا سیاسی و عسکری مفادات کا نشانہ؟
کیا فنڈز واقعی عوام کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں یا محض فائلوں میں ضائع ہو رہے ہیں؟

تجاویز و مطالبات:

ریسکیو 1122 کو متحد کیا جائے اور ایک خودمختار ایمرجنسی اتھارٹی قائم کی جائے۔
قیادت صرف متعلقہ تجربہ رکھنے والے ماہرین کو سونپی جائے۔
فنڈز کے آزادانہ سوشل آڈٹ کرائے جائیں۔
سیاسی مداخلت اور غیر متعلقہ تقرریوں پر پابندی لگائی جائے۔

ریسکیو 1122 سندھ کے عوام کے لیے ایک لائف لائن ہے، مگر اگر اسے سیاسی اور عسکری مفادات کی نذر کر دیا گیا تو یہ ادارہ ”ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے“ کا مصداق بن جائے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “ریسکیو 1122 : ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے؟

  • 24/05/2025 at 9:58 شام
    Permalink

    ایک انٹر پاس شخص کو دو مرتبہ صدر پاکستان بنانے پر اعتراض نہیں۔ ٰICom شخص گورنر سندھ لگ سکتا ہے۔ لیکن تان بریگیڈیئر پر ٹوٹ رہی ہے وہ بھی کچھ 30 سال کا تجربہ رکھتا ہے۔ ان کا کچھ تعلق این ڈی ایم اے سے بھی بنتا ہے۔

Comments are closed.