بہروپ شخصیت


اس کرہ ارض پہ بسنے والی مخلوقات میں سے انسان ہی صرف ایک ایسی مخلوق ہے جس کو سمجھنا بہت مشکل ہے کیونکہ انسان صرف گوشت سے بنا ہوا، چلتا پھرتا جاندار نہیں بلکہ ادنیٰ یا اعلیٰ دماغی صلاحیتوں کا مالک بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بسنے والے اربوں افراد، نہ صرف جسمانی طور پر الگ الگ ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مختلف ہیں۔ ایک ہی ماحول میں پرورش پانے والے جڑواں بچے بھی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی انفرادی ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے اسے مکمل طور پر سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی شخصیت ایک ایسا طلسم ہے جس کو مکمل سمجھنے کا کوئی بندہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔

علم نفسیات ہی وہ واحد علم ہے جو کسی حد تک کسی شخص کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ شخصیت کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک ظاہری شکل و صورت اور دوسرا پوشیدہ۔ ظاہری شکل و صورت کی مدد سے ہم پوشیدہ پہلو کو مخفی ہی رکھتے ہیں۔ ہماری شخصیت کا مخفی پہلو ایسا عنصر ہے جس کے بارے میں صرف ہم ہی جانتے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ، ”کسی فرد کا اصل کردار وہی ہوتا ہے جو وہ دوسرے لوگوں / چیزوں کے بارے میں اپنی تنہائی میں سوچتا ہے“ یا کسی سے تنازع کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔ نفسیات کے علم کی مدد سے، ہم کسی انسان کے ماحول، تربیت اور خاندانی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس کے رویوں، جذبات، رجحانات، عقائد، فہم و فراست، ادراک، عادات اور ذہنی صلاحیتوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور اس کی شخصیت کے بارے میں معقول (حتمی نہیں ) رائے قائم کر سکتے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں فرد کو اچھا یا برا بنانے میں ماحول اور پرورش کا عمل دخل ہے، وہاں اس کے آباء و اجداد کی طرف سے وراثت میں پائے جانے والے نفسیاتی رجحانات یا ذہنی صحت کو بالکل بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آپ نے اکثر محسوس کیا ہو گا کہ بظاہر لکھے پڑھے، اچھی پوسٹ پہ براجمان شخص سے گفتگو یا کسی موضوع پر بحث و مباحثہ کرنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ بندہ تو عقل سے عاری ہے۔ لیکن اس کے الٹ کبھی گاؤں کے ایک ناخواندہ شخص سے ملاقات میں آپ اس کی گفتگو، موضوع کی روانی اور انداز بیان سے اتنا لطف اندوز ہوں گے کہ اس کی بصیرت آپ کو حیران کر دے گی۔ یہ سب کچھ کیا ہے؟ یہ ایک لوک وزڈم یا اس شخص کی شخصیت کا پوشیدہ پہلو ہے جسے شاید یہ وراثت میں ملا تھا اور اگر اس شخص کو تعلیم تک رسائی مل جاتی تو اس کی دانائی اور حکمت کو چار چاند لگ جاتے۔

بالکل ایسے ہی اگر کسی شخص کو نفسیاتی خامیاں اس کے ماحول، تربیت یا وراثت سے ملی ہیں تو تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی ان سے نجات ملنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں آپ کو بظاہر ایک تعلیم یافتہ اور اچھی شخصیت کا مالک اپنی روش، رویوں، عادات اور نشست و برخاست میں آپ کو مایوس کرے گا لیکن اس کے برعکس ایک معمولی جسمانی ساخت اور شخصیت کے حامل شخص سے گفتگو یا کمپنی کی جائے تو اس کے اندازِ گفتگو اور سلیقے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ فرد کی انہی عادات اور ڈیلنگ کی وجہ سے سندھی میں ایک کہاوت بنی کہ ”کسی کا ہنسنا بھی خواری اور کسی کا رونا بھی راحت“ ۔

کسی بھی شخص کی اندرونی شخصیت، رویے اور سوچ کا انداز منفرد اور جدا ہوتا ہے جس کو ہم اگر ”ذہنیت“ کا نام دیں تو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ مختصراً یہ کہ فرد کے مجموعی شعوری یا لاشعوری رجحانات کو ہم ذہنیت کا نام دے سکتے ہیں۔ معاشرے میں کسی شخص کے رویے، طرزِ عمل یا سوچنے کے انداز کو پرکھتے ہوئے اس کی ذہنیت کے بارے میں کوئی مناسب رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

عام طور پر ہمارے معاشرے میں دو طرح کی شخصیت کے حامل افراد ملتے ہیں۔ ایک اچھی ذہنیت کے مالک اور دوسرے غیر صحت مند گندی ذہنیت رکھنے والے بیکار لوگ۔ یہ دونوں اقسام آپ کو ہر محلے، قصبے یا شہر میں واضح طور پہ نظر آئیں گے لیکن یہاں ایک تیسری قسم کے خطرناک لوگ بھی ہیں، یعنی بہروپ شخص، بظاہر نِیکو کار لیکن اصل میں بدکردار۔ بقول شاہ عبدالطیف بھٹائی ”چہرے سے موسیٰ، اندر میں ابلیس“ اس لئے ان کو پہچاننا دشوار ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ اشخاص احساسِ محرومی اور احساسِ کمتری کی مشترکہ پیداوار ہیں۔ احساس محرومی ایک ظالمانہ احساس ہے جو کسی شخص کی شخصیت میں اہم بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ بہروپ شخصیت کا مالک، ہر وقت تخریبی سوچ میں مبتلا، شرافت کا برقعہ اوڑھ کر صرف اور صرف اپنے مفادات پورے کرتا ہے۔ اس کی ترجیحات میں فراڈ کے ذریعے پیسے وصول کرنا، مالی اعانت، عہدہ اور سستی شہرت حاصل کرنا، دوستوں کو استعمال کرنا، بیگار میں کام لینا اور ادھار لے کر واپس نہ کرنے سمیت دیگر اخلاقی برائیاں شامل ہیں۔ موقعہ ملتے ہی ایسا شخص بلا لحاظ کسی کو بھی ڈسنے میں تاخیر نہیں کرتا۔

آپ کو زمانے میں کئی ایسی مثالیں ملیں گی کہ بظاہر دیکھے بھالے، اشراف اور نیک لوگ موقعہ ملتے ہی، چوری کے جرم سے لے کر معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ یا قتل کرنے سے باز نہیں آئے ہوں گے۔ بہروپ شخص کا کوئی اخلاقی معیار نہیں ہوتا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا نظریے سے ہو۔ جہاں بھی اسے اپنا ذاتی مفاد نظر آئے گا، وہ بد اخلاقی کی تمام حدود پار کر کے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ چونکہ وہ خود بھی پست اخلاق کا مالک ہوتا ہے اس لئے دوسروں پہ اخلاقی کرپشن کا الزام لگانے میں دیر نہیں کرتا۔ اس کا دین دھرم صرف مفاد پرستی تک محدود ہوتا ہے اور مفاد پورا ہونے کے بعد یہ گرگٹ کی طرح اپنا رنگ بدل لیتا ہے حتیٰ کہ اپنے محسن کے سامنے طوطا چشم بن جاتا ہے۔ رشتوں کا احترام اس کے نزد کوئی معنی نہیں رکھتا، لہذا بظاہر اس کی نیکی میں بھی، کوئی نہ کوئی مفاد چھپا ہوتا ہے۔ جھوٹ، ڈرامہ بازی، مکاری اور چاپلوسی اس کی چند خصوصیات ہیں۔ اس کی دوستی میں بھی دشمنی چھپی ہوتی ہے لہذا سمجھدار دوست اس کو الوداع کہنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

دیکھا گیا ہے کہ زندگی کے مختلف اوقات میں احساس محرومی کا شکار یہ شخص اپنی ادھوری خواہشات کی تکمیل کے لئے پوری تندہی سے مصروف رہتا ہے، لہذا وہ کسی کو بھی اپنے مفاد کی قربان گاہ پہ بھینٹ چڑھاتے دیر نہیں کرتا۔ نفسیات کے مطابق احساس محرومی لا مُحالہ، احساس کمتری کو جنم دیتی ہے۔ احساس کمتری میں مبتلا شخص، مقابلے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے ہمعصر دوستوں سے ہر فیلڈ میں پیچھے رہ جاتا ہے، نتیجتاً اس میں اپنوں سے حسد، جلن اور دشمنی کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں، جس کا اظہار وہ شکوہ کرنے، الزام لگانے اور جھگڑنے میں کرتا ہے۔ اگر ایسا شخص کچھ کتابیں پڑھ بھی لے تو اس کے لئے ”جاہل پڑھا جگ اڑا“ والا محاورہ فِٹ آتا ہے کیونکہ وہ علم اس کی جاہلانہ سوچ کو بدل نہیں پائے گا۔

احساس کمتری کی کوکھ سے پھر نام نہاد احساس برتری جنم لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ نرگسیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص اگر کسی سیاسی جماعت یا سماجی تنظیم میں شامل ہو تو اپنے آپ کو اچانک ایک بڑا شخص، بڑا لیڈر، بڑا مدبر اور دانشور سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے چکر میں مختلف حربے استعمال کرتا ہے جس میں سوشل میڈیا پہ بھاشن دے کر اپنے ہی دوستوں سے واہ واہ کرانے کو اولیت دیتا ہے۔ یہ مرحلہ اس کی خود فریبی کا مرحلہ ہوتا ہے جو اس کو مستقبل کی نفسیاتی بیماریوں کے خطرے سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کروا دیتا ہے۔

بہروپیے انسان کی دشمنی بھی تھرڈ کلاس کی ہوتی ہے، یہ چھپ کے وار کرتا ہے یا دوسرے کے کاندھے پہ بندوق رکھ کے چلاتا ہے۔ یہ کمزور پہ رعب جھاڑنے اور طاقتور سے ڈرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ عدم برداشت اور بزدل طبیعت کا مالک ہوتا ہے اس لئے کسی بھی قسم کی تکلیف میں دوسروں کو مدد کی اپیل کرتا ہے لیکن خود ”اپنی مدد آپ“ نہیں کر پاتا۔ جب اس کا دوغلاپن پکڑ میں آتا ہے تو وہ پاؤں پڑنے میں دیر نہیں کرتا۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “بہروپ شخصیت

  • 24/05/2025 at 10:05 شام
    Permalink

    تحریر پڑھ کر حیرت ہوئی۔ موضوع پر گرفت اور کیا اچھی باتیں لکھیں۔ لیکن خیال آیا کہ اس سے پہلے ان کی تحریروں نے اثر کیوں نہ ڈالا۔ سو آخرش علم ہوا کہ پچھلے چار سال یعنی 2021 کے بعد سے دو ہی تحریریں شائع ہوئیں۔ اللہ تعالی لکھاری کو صحت دے اور قلم کو رواں رکھے ۔ آمین

    • 25/05/2025 at 11:33 صبح
      Permalink

      عارف احمد صاحب,
      السلام عليکم: حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ. يہ میرا گیارواں آرٹيکل ہے۔۔آپ میرے دوسرے آرٹيکل بھی پڑهيں, انشاءالله پسند آئیں گے.
      سليم کنبھر.

Comments are closed.