سینٹ پیٹرزبرگ کی سموک راتیں


یہ ستمبر 2013 ء کی بات ہے۔ ماسکو کی تاریخی اور پیدل سر کرنے والوں کی جنت ارباط سٹریٹ کی سیر کے دوران ہماری ایک بہت ہی خوبصورت پاکستانی جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ وہ اسی دن سینٹ پیٹرز برگ سے ماسکو پہنچے تھے۔ باتوں باتوں میں انھوں نے سینٹ پیٹرزبرگ شہر کی خوبصورتی کی اتنی زیادہ تعریف کی کہ ہم تین دوست اگلے دن سینٹ پیٹرز برگ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ شام کو کھانے کی میز پر جب میں نے اپنے ٹور منیجر سے سینٹ پیٹرزبرگ جانے کی بات کی تو انھوں نے یہ بتا کر ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ ہمارا ویزہ صرف ماسکو شہر کا ہے اور ہم ماسکو سے باہر کہیں نہیں جا سکتے۔ رات کو ہم نے گوگل پر جب سینٹ پیٹرزبرگ کو سرچ کیا تو وہ واقعی ہمیں بہت خوبصورت اور تاریخی شہر لگا۔

دوسرے دن صبح ناشتے کی میز پر میں نے ریٹیل بینک کے گروپ ہیڈ علی حسنین سے اگلے بینکا ٹرپ کی منزل سینٹ پیٹرز برگ رکھنے کی سفارش کی۔ انھوں نے ناشتے کی میز پر بیٹھے دیگر ساتھیوں کو متوجہ کر کے پوچھا کہ کون کون بینکا کے اگلے ٹرپ پر سینٹ پیٹرزبرگ جانا چاہتا ہے۔ مجھ سمیت سب نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا اگر شبیر اس دفعہ دسمبر میں بینکا میں پاکستان بھر میں ٹاپ کرے اور اس سال کے ٹارگٹ میں پچھلے سال سے پچاس فیصد اضافہ ہو تو اگلا  ٹرپ سینٹ پیٹرزبرگ ہی ہو گا۔ یہ اور بات ہے کہ میرے ریجن کے پاکستان بھر میں ٹاپ کرنے اور ریونیو میں پچاس فیصد اضافہ کے باوجود اگلا ٹرپ ترکی کے شہر انتالیہ کا ہوا اور سال ختم ہونے سے پہلے ہی علی حسنین ریٹیل بینک کے گروپ ایگزیکٹو بننے کے بعد اکتوبر میں بوجوہ مستعفی ہو گئے جن کی جگہ  نومبر میں نئے ریٹیل بینک کے گروپ ایگزیکٹو نے چارج سنبھالا۔ ہمارا اگلا ٹور تھائی لینڈ کا تھا۔

تھائی لینڈ کا یہ ٹرپ اتنا اچھا نہیں تھا جس سے ٹیم میں تھوڑی سی مایوسی پائی جاتی تھی۔ لیکن جنوری میں جب اگلے ٹرپ کی منزل سینٹ پیٹرزبرگ اناؤنس ہوئی تو میری ٹیم نے مجھے کہا کہ سر اس دفعہ ہم پھر پاکستان بھر میں پہلے نمبر پر ہوں گے اور جنوری میں جب رزلٹ آیا تو آزاد کشمیر ریجن ایک بار پھر پاکستان بھر میں پہلے نمبر پر تھا اور میرے چار میں سے تین ایریا منیجر سمیت منیجرز کی بڑی ٹیم منتخب ہوئی تھی۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں ہیڈ آفس کی طرف سے پاسپورٹ سمیت کچھ دستاویزات مانگی گئیں جو ہم نے بھیج دیں۔ جہلم ریجن کے میرے کولیگ ریجنل چیف نیر لودھی نے مجھے فون کیا کہ بینک کا ٹور تو پانچ دن کا ہو گا ہم چند دن مزید وہاں رکیں گے۔ میں نے بینک کے ٹور منیجر سے فون پر بات کی تو انھوں نے بتایا۔

شاہ جی! یہ پورے گروپ کا ویزہ ہوتا ہے، ایک مخصوص مدت کے لیے اور مخصوص شہر کا ہوتا ہے اس لیے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

مجھے برطانیہ میں مقیم بچوں سے ملے کافی عرصہ ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا چلو سینٹ پیٹرزبرگ سے واپسی پر میں دو ہفتے کے لیے برطانیہ ٹھہر جاتا ہوں۔ اس کے لیے پھر میں نے ٹور منیجر سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا آپ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ واپس پاکستان آئیں پھر جہاں مرضی چلے جانا۔ دوسرے دن میں نے اپنے جنرل منیجر صاحب سے دو ہفتوں کی چھٹی اور ٹور سے واپسی پر برطانیہ بچوں کے پاس رکنے کی درخواست کی۔ انھوں نے مجھے ایمیل کرنے کو کہا۔ ہمارا نارتھ ریجن کے چھ ریجنل بزنس ہیڈز کا بہت اچھا گروپ تھا اور ہم سب جنرل منیجر سید جعفر حسین کی مضبوط ٹیم کا حصہ تھے۔ میری چھٹی کی درخواست انھوں نے فوراً اپنی سفارش کے ساتھ گروپ ایگزیکٹو ضیاء صاحب کو بھیج دی جنھوں نے اسی دن منظوری دے دی۔ میں نے اس ایمیل کو اپنے پرسونل ڈیپارٹمنٹ کو بھیج کر چھٹی کی باقاعدہ منظوری لے لی۔ ہمارا یہ ٹور مکمل طور پر بینک کا سپانسر شدہ تھا۔ میری بزنس کلاس کی ٹکٹ تھی۔ واپسی کی بزنس کلاس کی بجائے اکانومی کلاس کی ٹکٹ لینے کے باوجود مجھے پچیس ہزار گروپ مینجمنٹ کو اضافی ادا کرنے پڑے اور لیٹ کنفرم ہونے پر سینٹ پیٹرزبرگ سے براستہ کوپن ہیگن برمنگھم کی سکینڈے نیوین ائرلائن کی ٹکٹ کافی مہنگی خریدنی پڑی۔ اپریل کے آ خری ہفتہ میں ٹرپ کا شیڈول آ گیا۔ پروگرام کے مطابق نارتھ کلسٹر کے افسران پر مشتمل گروپ اسلام آباد ائرپورٹ سے ٹرکش ائرویز کی فلائٹ کے ذریعے استنبول پہنچے گا اور تین گھنٹے وہاں ٹھہر کر دوسری فلائٹ سے سینٹ پیٹرزبرگ روانہ ہونا تھا۔ اٹھارہ مئی کی شام کو ہماری واپسی تھی۔ بینک کے ساؤتھ اور سینٹرل کلسٹر کا فلائٹ شیڈول تھوڑا سا مختلف تھا لیکن تینوں گروپ کے افراد نے ایک دو گھنٹے کی تاخیر سے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنا تھا۔ افسران کے ٹھہرنے کے لیے شہر کے پوش ایریا میں واقع فائیو سٹار ہوٹل میں پیشگی بکنگ ہو چکی تھی۔

سینٹ پیٹرز برگ دنیا کا ایک خوبصورت شہر

سینٹ پیٹرز برگ روس کا دوسرا بڑا شہر ہے جو پہلے پیٹروگراڈ اور پھر لینن گراڈ کہلاتا تھا۔ یہ خوبصورت بحیرہ بالٹک پر خلیج فن لینڈ کے سرے پر دریائے نیوا پر واقع ہے۔ اس شہر کی بنیاد روسی زار پیٹرز دی گریٹ نے 27 مئی 1703 ء کو ایک سویڈش قلعے کی جگہ پر رکھی تھی۔ یہ شہر تاریخی اور ثقافتی طور پر روسی سلطنت کے قیام اور زار بادشاہت کی یاد گار سمجھا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ 1712 ء سے 1918 ء تک روس کی زار سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ 1917 ء اکتوبر میں آنے ولے انقلاب میں زاروں کی سلطنت کا تختہ الٹنے کے بعد بالشویکوں نے اپنا دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا۔ 1924 ءمیں لینن کی وفات کے بعد اس شہر کا نام لینن گراڈ رکھ دیا گیا۔ جون 1991 ءمیں سویت یونین کے خاتمے کے بعد شہر میں ہونے والے ریفرنڈم میں شہر کا اصل نام سینٹ پیٹرزبرگ بحال کر دیا گیا۔ روس کا یہ شہر یورپ کا ایک اہم اقتصادی، سائنسی اور سیاحتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ سیاح اس شہر کی سیاحت کے لیے آتے ہیں۔

پانی اور دلدل پر بنے ہوئے اس شہر کو روسی وینس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مغربی یورپی فن تعمیر اور ثقافت کا بہترین نمونہ ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے مشہور ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ جولائی میں یہاں رات کا اندھیرا نہیں پھیلتا اس لئے یہ سفید راتوں کا شہر کہلاتا ہے۔ گرمیوں میں خصوصاً جون جولائی میں شہر کا آسمان رات کو تاریک نہیں ہوتا اور رات کو بھی یہ شہر روشن رہتا ہے۔

1724 ءمیں پیٹر دی گریٹ نے شہر میں اکیڈمی آف سائنسز، یونیورسٹی اور اکیڈمک جمنازیم قائم کیا۔ پیٹرز دی گریٹ کی چون سال کی عمر میں وفات کے بعد 1762 ء میں قائم ہونے والے کمیشن نے پتھر سے تعمیر ہونے والی عمارتوں کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ شہر میں کسی عمارت کا ڈھانچہ ملکہ کیتھرین دی گریٹ کے سرمائی محل سے بلند نہیں ہو گا۔ روس کی ملکہ کیتھرین دی گریٹ کے دور حکومت میں دریائے نیوا کے کنارے گرینائٹ سے پشتے تعمیر کیے گئے۔

1917 ء کے انقلاب روس کے بعد شہر میں بہت سی تاریخی عمارتوں کو تباہ بھی کر دیا گیا۔ بہت سی سڑکوں اور گلیوں کے صدیوں پرانے نام تبدیل کر دیے گئے۔ بہت سے چرچ اور دوسری عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوجوں نے لینن گراڈ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ ستمبر 1941 ءسے جنوری 1944 ء تک اڑھائی سال جاری رہا۔ اس دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد بھوک اور جرمن فوجوں کے حملوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ شہر میں جرمن گولہ باری سے بہت سی عمارتوں بشمول گرمائی محل پیٹرہاف کو نقصان پہنچا، جن کو بعد میں مرمت کر کے ان کی اصل حالت میں لایا گیا۔ 1960 ءسے 1990 ء کے درمیان شہر کے مضافات میں بہت سی عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں بڑی بڑی اونچی عمارتیں شامل تھیں لیکن پرانے شہر میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی۔

سینٹ پیٹرز برگ میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی جگہوں میں مندرجہ ذیل عمارتیں شامل ہیں۔

ہرمیٹیج میوزیم۔ ایک عالمی شہرت یافتہ میوزیم ہے جو زار سلطنت کے سرمائی محل میں بنایا گیا ہے جس میں دنیا کے آرٹ کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس کا شمار دنیا کے پہلے تین بڑے میوزیم میں ہوتا ہے۔

چرچ آف سیویئیر آف سپلٹ بلڈ۔ یہ ایک خوبصورت آرتھوڈوکس چرچ ہے جو اپنے پیچیدہ موزائیک اور اچھوتے تعمیراتی انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

پیٹر ہاف محل۔ اسے زار ملکہ کیتھرین دی گریٹ کا گرمائی محل بھی کہا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے مضافات میں واقع یہ ایک عظیم الشان محل ہے جو محل سے ملحق پارک کمپلیکس اور سنہری فواروں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

کیتھرین محل۔ سارسکوف سیلو میں واقع یہ ایک شاندار محل ہے جو بھاری پتھروں کی قدیم ترین فن تعمیر کا نمونہ ہے جس میں بنا ہوا امبر روم دید کے لائق ہے محل کے احاطہ میں وسیع پارک ہیں۔

پیٹر اور پال فورٹرس۔ یہ ایک تاریخی قلعہ ہے جس میں پیٹر اور پال کیتھیڈرل واقع ہیں۔ یہ بہت سے روسی شہنشاہ زاروں کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔

سینٹ آئزک کیتھیڈرل۔ سنہری گنبد کے ساتھ یہ ایک شاندار کیتھیڈرل ہے جو اپنی خوبصورتی اور رصد گاہ کے خوبصورت نظاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔

نیووسکی پراسپکٹ۔ دکانوں، ریستورانوں اور تاریخی عمارتوں سے جڑی ایک ہنگامہ خیز گلی جو سیاحوں کے رش کی وجہ سے ایک انتہائی متحرک ماحول پیش کرتی ہے۔

س سکوائر۔ شہر کے درمیان میں واقع ایک وسیع جگہ جس میں سرمائی محل، الیگزینڈر کالم اور دیگر تاریخی عمارتیں ہیں،

سینٹ پیٹرز برگ کے متعدد پل خاص طور پر ڈرا برج جو بحری جہازوں کو گزارنے کے لیے کھلتے ہیں شہر کی ایک منفرد خصوصیت ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی سڑکیں انتہائی چوڑی ہیں۔ فٹ پاتھ بھی بہت چوڑے ہیں۔ یورپ کا سٹائل اس شہر میں جھلکتا ہے۔ بہت ہی خوبصورت عمارتوں کا شہر ہے۔ کشادہ گلیاں جس پر خوبصورت روسی مرد خواتین بڑی تیزی سے چلتے نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments HS