مسلم ممالک کے دائیں بازو کی فکری تقسیم میں برطانیہ کا کردار
برطانیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے بنائے ہوئے قضیے انسانوں کی بنائی ہوئی کسی بھی دوسری یادگار سے زیادہ پائیدار ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا قبرص کا، سرزمین فلسطین پر اسرائیل کا قیام ہو یا پھر سلطنت عثمانیہ کے تیل کی دولت سے مالامال سنی علاقوں کو جدید ترکی کی بجائے عراق کا حصہ بنانا، یہ سب عالمی مسائل تاج برطانیہ کی دین ہیں۔
برطانیہ کی پالیسی ہمیشہ سے ’تقسیم کرو اور راج کرو‘ کی رہی ہے۔ اس کا نتیجہ ہم برصغیر میں ٹیپو سلطان کی سلطنت خداداد میسور کے مقابلے میں نظام حیدر آباد کو کھڑا کرنے میں بھی دیکھتے ہیں اور 1857 کے بعد ہندو مسلم دشمنی پیدا کرنے میں بھی۔ حالانکہ اس سے پہلے ایک ہزار برس تک ہندو اور مسلمان ہندوستان میں اکٹھے رہ رہے تھے۔ اکثریتی ہندو مسلمان بادشاہوں کی حکومتوں میں نہایت خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے اور ان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی بھرپور آزادی تھی۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ مسلمانوں کے دور حکومت میں ہندو انتہاپسندوں نے کبھی مسلم کش فساد کیا ہو یا پھر کوئی مسجد وغیرہ ڈھائی ہو۔ مسلمان حکمران ایسے شرپسندوں کو سختی سے کچل کر ان کو عبرت کا نشان بنا دیا کرتے تھے تاکہ باقی رعایا کو کان ہو جائیں۔
یہی پالیسی مشرق وسطی میں بھی استعمال کی گئی۔ جس وقت خلافت عثمانیہ کے جری سپاہی اپنے عظیم جرنیل مصطفی کمال پاشا کی سرکردگی میں گیلی پولی کے یورپی محاذ پر اتحادی فوجوں کے دانت کھٹے کر رہے تھے اور یورپی اپنے تمام تر جدید اسلحے اور کثیر فوج کے باوجود شکست سے دوچار تھے، تو برطانیہ نے نہایت عیاری سے کام لیتے ہوئے اپنے ایجنٹ لارنس آف عریبیا کو حجاز بھیجا جس نے عرب ترک نسلی عصبیت کو ہوا دے کر سلطنت عثمانیہ کے عرب صوبوں میں بغاوت کروا دی۔ خلافت عثمانیہ کی فوج دو محاذوں پر تقسیم ہو گئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ یورپی محاذ پر بھی ایسی بدترین شکست سے دوچار ہوئی کہ قسطنطنیہ پر بھی اتحادیوں کا قبضہ ہو گیا۔
برطانوی اتحادی تو پوری ترک سلطنت ہڑپ کرنے کے چکر میں تھے مگر عین وقت پر بہادر ترکوں نے مصطفی کمال پاشا کی سربراہی میں جنگ آزادی شروع کی اور موجودہ ترکی کو اتحادیوں سے بچا لیا۔ لیکن اس کے بعد جو معاہدہ ہوا اس کے نتیجے میں حجاز اور نجد، عراق، شام، فلسطین، اردن، عرب امارات، کویت، بحرین اور مصر وغیرہ کے الگ الگ ممالک غیر فطری طور پر وجود میں آ گئے۔

ان ممالک میں ایک سازش کے تحت جمہوریت کو دبایا گیا کیونکہ عوام کی مرضی چلتی تو وہ راسخ العقیدہ مغرب دشمن افراد کو حکمران بناتے۔ مگر اس کی بجائے کٹھ پتلی حکمرانوں کو بندوق کے زور پر مسلط کیا گیا جنہوں نے اخوان المسلمین، الفتح، القاعدہ، جماعت اسلامی اور ایسی ہی دوسری تنظیموں پر گرفت کی جو کہ پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ملک کو اہل افراد کے سپرد کرنا چاہتی تھیں۔ ان تنظیموں کی اپنی لیڈر شپ میں ہی یہ اہل افراد موجود تھے مگر مغرب تو میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے اس لئے ان تنظیموں کو ایسے بدنام کیا گیا کہ لوگ ان کو ووٹ نہیں ڈالتے تھے۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد جب تہذیبوں کے تصادم کا پرچار کرتے ہوئے کھلے عام مسلمانوں کو مغرب کا ہدف قرار دیا گیا تو اسلامی ممالک پر بلاوجہ حملے شروع کر دیے گئے تاکہ ان کی بے پناہ دولت کو لوٹ لیا جائے۔ جو جو طاقتور فوج ان کے سامنے کھڑی ہو سکتی تھی، اسے تہس نہس کر دیا گیا۔ لیبیا میں اسلامی اتحاد کے داعی قذافی کو مار ڈالا گیا۔ عراق میں صدام حسین مشرق وسطی کی سب سے زیادہ طاقتور فوج کے مالک تھے، ان سے نجات پائی گئی۔ اسرائیل کے ہمسایوں میں مصر اور اردن تو پہلے ہی اس کے غلام تھے، اس کے واحد دشمن شام کو خانہ جنگی کا شکار کر دیا گیا تاکہ لبنان میں اسرائیل کی شکست کا انتقام لیا جا سکے۔ ان سب سے پہلے ایران میں شاہ ایران کو اقتدار سے ہٹا کر اس طاقتور ملک کو مذہبی جنونیت کے حوالے کر دیا گیا۔ لیکن مرزا غالب کہہ گئے ہیں کہ ’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘۔
ترکی سے تبدیلی کی لہر اٹھی۔ وہاں اے کے پارٹی ابھری۔ اس کے بعد اس کی کارکردگی دیکھتے ہوئے مصر میں بھی شدید عوامی تحریک کے نتیجے میں اخوان کی حکومت آئی جس نے فوراً ہی نہی عن المنکر کا کام شروع کیا تو برطانیہ کے حکم پر اس کے خلاف بغاوت کر دی گئی۔ ترکی میں رجب طیب ایردوان کے خلاف جب تمام سازشیں ناکام ہو گئیں تو تنگ آ کر شام اور عراق میں جنگ کے شعلے بھڑکا دیے گئے جن کی لپیٹ میں خود ترکی بھی آ گیا حالانکہ اس نے بھرپور کوشش کی تھی کہ پڑوسی ملک کی خود مختاری کا احترام کرے اور شام کے معاملات میں دخل مت دے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان پر ان برطانوی منصوبہ سازوں کی نظر نہیں ہے۔ افغانستان میں جنگ پر ایک نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیسے پاکستان دشمنوں کو افغانستان کا اقتدار سونپا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں دائیں بازو کی جماعتوں کی مسلسل تقسیم در تقسیم کا منظر بھی دیکھیں کہ کیسے ان میں اختلافات پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ متحد نہ ہو سکتیں۔ کبھی مسلک کی بنیاد پر اور کبھی اقتدار کا لالچ دے کر ان کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی جماعت طاقت پکڑنے لگتی ہے اور مقبولیت پاتی ہے تو اسی میں سے کسی لیڈر کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس جماعت کا الگ دھڑا بنا دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا کرنے میں ناکامی ہو تو اس جماعت کے خلاف ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے کہ ووٹر اس سے دور دوڑنے لگتا ہے۔ دائیں بازو کی یہ سب نظریاتی اور مذہبی جماعتیں اتحاد بین المسلمین کی داعی ہیں بلکہ تمام دنیا پر ایک خلافت قائم کرنا چاہتی ہیں، مگر صرف اور صرف ان مغربی سازشوں کی وجہ سے ہی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کی روادار نہیں رہیں۔
سوشل میڈیا کی مقبولیت کے بعد برطانوی منصوبہ ساز اس بات پر پریشان تھے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنا تو آسان ہے مگر اب اب سوشل میڈیا کو کیسے ناکام کیا جائے؟ جوش و جذبے سے بھرے ہوئے عوام پر قابو پانا تو اتنا آسان نہیں ہے۔ مگر گورا واقعی بہت عیار ہے۔ یہاں بھی وہی پرانا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے کہ ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘۔ جیسے ہی سوشل میڈیا پر دائیں بازو کا کوئی گروہ مقبولیت حاصل کرنا شروع کرتا ہے تو آزمودہ برطانوی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے اسے تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا جانے لگتا ہے۔
رواداری کے داعی لیفٹ والوں کو اس پر ہرگز بھی خوش نہیں ہونا چاہیے۔ برطانیہ کا ہدف صرف دایاں بازو نہیں ہے بلکہ جب لیفٹ کے محب وطن کارکن بھی ایک خاص حد سے زیادہ قوت پکڑتے دکھائی دیں گے تو یہی حربہ ان پر بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ قوم متحد اور یکسو نہ ہو سکے۔ لبرل تو تکثیریت کے قائل ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ کسی ایک فکر کا غلبہ ملک کی تباہی کا باعث ہو گا۔ ایک متوازن معاشرے کے قیام کے لئے دائیں اور بائیں بازو کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کسی ایک جانب کی انتہا پسندی سے ملک کو بچایا جا سکے۔ نہ کمال اتاترک کی سیکولر انتہا پسندی ملک کے لئے بہتر ہے اور نہ افغان طالبان کی اسلامی انتہا پسندی۔ بہرحال ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ اعتدال پسند بائیں بازو کے لوگ آسانی سے جذباتی نہیں ہوا کرتے اور منطقی انداز میں تجزیہ کر کے برطانیہ کی سازشوں کو سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے ان میں تقسیم در تقسیم کا یہ عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔
بدقسمتی سے دائیں بازو کے لوگ جذباتی پن کا شکار ہو کر جلد ہی فروعی معاملات پر باہمی اختلافات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یا پھر ان کو جاہ اور منصب کے لالچ سے گھیر لیا جاتا ہے۔ تفرقے کے اس مقصد کے حصول کے لئے فنڈنگ کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں اور ایسے افراد بھی نظر آتے ہیں عام سیدھے سادے لوگوں کو بہکا کر تقسیم در تقسیم کا شکار کرتے ہیں۔ پرانا شکاری نیا جال لایا ہے، ہمیں ان بھیانک سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ مغربی ایجنڈے پر کام کرنے والے یہ افراد آپ کے بہت قریبی حلقے میں شامل ہوں گے، آپ کے بہت معتقد دکھائی دیں گے، مگر پھر آپ کے حلقے کے نمایاں لوگوں کر پرچا کر الگ گروہ بنا ڈالیں گے۔ منت خوشامد حرص ہر ہتھیار ان کے پاس ہے۔
ہم متحد رہ کر ہی ان سازشوں کا توڑ کر سکتے ہیں۔


