حیات ابدی کی تلاش


 

زندگی، موت، حیات بعد از موت، حیات ابدی یعنی ایسی زندگی جس میں موت کا وجود یا تصور نہ ہو اور حیات ابدی بعد از موت بظاہر مختلف موضوعات ہیں مگر یہ تمام زندگی اور موت جیسے بنیادی تصورات کے گرد ہی گھومتے نظر آتے ہیں۔ موت اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے جس پر دنیا کے تمام مکاتب فکر متفق ہیں یعنی جو ذی روح اس دنیا میں آیا ہے اس نے ایک دن واپس جانا ہے۔

زندگی کی شروعات کے متعلق دو مختلف مکاتب فکر اپنے اپنے نظریات و تشریحات رکھتے ہیں۔ مذہبی مکاتب فکر کے نزدیک زمین، آسمان، اجرام اور زندگی اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آئے۔ سائنسی نقطہ نظر رکھنے والے علماء زندگی کو ایک خاص ارتقاء کا نتیجہ خیال کرتے ہیں جس میں جمادات، نباتات اور حیوانات کی پیدائش جیسے اہم سنگ میل شامل ہیں۔ ان دونوں میں سے کون سا نظریہ سچا، اچھا اور حتمی ہے یہ اس وقت کی بحث نہیں البتہ یہ اپنے اپنے ایمان کی بات ہے۔ موت کی طرح زندگی بھی ایک حقیقت ہے اور زندگی کی کوئی بھی صورت عارضی ہو یا ابدی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ انسان جب بھی امر خداوندی کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے خرابی کرتا ہے مثال کے طور پر موت کے معاملات کو اگر انسان اپنے ہاتھ میں لے لے تو قاتل کہلوائے گا۔ اسی طرح زندگی اور اس کی ابدیت کے معاملات میں چھیڑ خانی کرے گا تو بھی گڑبڑ کا سبب بنے گا۔ بہر کیف زندگی جیسے بھی وجود میں آئی ہو اپنے اندر زندہ رہنے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔

بیکٹیریا سے لے کر ادنیٰ جانداروں تک اور ہاتھی گھوڑوں سے لے کر وہیل مچھلیوں جیسے بڑے جانداروں میں مرتے دم تک زندہ رہنے کی خواہش اور جدوجہد موجود رہتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ محض خواہش نہیں بلکہ ہر جاندار کی بنیادی جبلت ہے۔ زندہ رہنے کی شدید خواہش یا جبلت کی دوڑ میں اشرف المخلوقات حضرت انسان بھلا کس طرح سے پیچھے رہ سکتا تھا۔ دوسرے جانداروں کی نسبت انسان کو شعور کی سہولت بھی میسر آ گئی جس سے محض زندہ رہنے کی سادہ جبلت ”ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے پیچیدہ جبلت“ میں تبدیل ہو گئی۔ عام جاندار بس زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن انسان ”ٹہکے“ یا پروٹوکول کے ساتھ ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے۔ حیات ابدی کی تلاش کے اس سفر میں انسان کیسے کیسے تجربات اور کیفیات میں سے گزرا ہے یا گزر رہا ہے ایک خاصی طویل مگر دلچسپ داستاں ہے۔

ارتقائی نقطہ نظر سے انسان نے شاید شعور کے آنے کے ساتھ اپنے پاس سے ہی حیات کے ساتھ میں ابدی کا سابقہ یا لاحقہ جوڑ لیا تھا۔ عینیت پسند نقطہ نظر میں یونانی اور مصری دیومالا میں حیات ابدی کے مضبوط تصورات کا ذکر ملتا ہے۔ اہرام مصر، بادشاہوں کی وادی میں مقبروں کی تعمیر و ڈیزائن سے اور باتوں کے علاوہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیاوی موت کے بعد حیات پر کامل ایمان رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک موت کے بعد والی زندگی ہی ابدی و اعلیٰ تھی۔

افلاطونی تعلیمات میں ”دنیاوی گھوڑے اور ابدی گھوڑے“ کا بہت ذکر ملتا ہے۔ افلاطون کے نزدیک ابدی گھوڑا امثال کی دنیا میں موجود ہے اور انسانوں نے دنیاوی گھوڑے کو اس امثالی گھوڑے کی وجہ سے پہچانا اور دنیاوی گھوڑا اپنی اصل میں ابدی گھوڑے کی ایک فضول سی نقل ہے اور وہ فانی ہے جبکہ ابدی گھوڑا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔

توریت مقدس، قدیم عہد نامہ کی کتاب پیدائش یا (God ’s Covenant with Adam) کے مطابق باغ عدن کے بہت سے درختوں کے درمیان موجود پھلدار درخت جن میں ایک نیک اور بد میں پہچان کا درخت اور دوسرا حیات ابدی کا درخت تھا۔ خدا تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو سختی سے تاکید کر رکھی تھی کہ ان دونوں درختوں کے قریب نہیں جانا، چھونا بھی نہیں اور ان کے پھلوں کو تو ہرگز نہیں کھانا۔ سانپ (شیطان ملعون) کے بہکاوے میں آ کر اماں حوا نے نیک اور بد کی پہچان کے درخت کا پھل ناصرف خود کھایا بلکہ حضرت آدم کو بھی کھلا دیا۔ اس پر خدا تعالیٰ سخت نالاں ہوا اور حضرت آدم و حوا اور سانپ کو سزائیں سنا کر تینوں کو باغ عدن سے نکال باہر کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کو اندیشہ لاحق ہو گیا کہ اگر یہ لوگ مزید باغ عدن میں رہے تو حیات ابدی کے درخت کا پھل کھا کر کہیں امر نہ ہو جائیں۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے حیات ابدی کے درخت کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا۔ ابراھیمی مذاہب میں حیات ابدی کے تصورات کا ماخذ قدیم عہد نامے کو مانا جا سکتا ہے۔

اسی ضمن میں قصص الانبیاء کا ایک مشہور قصہ ہے کہ حضرت سکندر ذوالقرنین کو معلوم ہوا کہ ایک قدیم کتاب ”وصیت نامہ آدم“ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوہ قاف میں چشمہ آب حیات پیدا کیا ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا، مکھن سے زیادہ نرم اور مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ جو اس کو پیے گا اس کو موت نہ آئے گی اور وہ قیامت تک زندہ رہے گا۔ چنانچہ حضرت سکندر ذوالقرنین نے اپنے خالہ زاد بھائی حضرت خضر ؑ کو ہمراہ لیا اور چشمہ حیات کی تلاش میں مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر کی صعوبتوں کے بعد آخر کار مطلوبہ چشمہ مل گیا اور حضرت خضرؑ نے آب حیات پی لیا مگر حضرت سکندر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا اور وہ آب حیات نہ پی سکے۔

ہمارے بعض دوست حضرت سکندر ذوالقرنین کو سکندر اعظم مقدونی سے غلط ملط کر دیتے ہیں اور ساتھ قصہ بھی جوڑ دیتے ہیں کہ سکندر اعظم آب حیات کی تلاش میں دنیا کو تاراج کرتا ہوا ملتان تک آیا مگر اسے سخت مایوسی ہوئی اور وہ دنیا پور سے ہوتا ہوا آخر دنیا سے ہی خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔

آج کے دن تک لاکھوں کی تعداد میں ہندو یوگی، جوگی، سنیاسی بابے، نانگے سادھو اور بدھ بھکشو ہمالیہ کے خطرناک پہاڑوں میں خاص جڑی بوٹیوں کی تلاش میں ہمہ وقت سرگرداں ہیں جن کے بارے میں انہیں کامل یقین ہے کہ ان جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ پھکی یا معجون کے استعمال سے حیات ابدی کی منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بدھ مت کے موجودہ روحانی پیشوا دلائی لامہ کے بارے میں بھی کچھ اسی طرح کی افواہیں گردش میں رہتی ہیں۔ ہندو مت میں حیات ابدی کا مترادف ”پرم جیون“ ہے۔

سلاطین دہلی کی نسبت ہندوستان کے مغل بادشاہوں نے اپنے دنیاوی محلات سے زیادہ اپنے مقبروں پر خاص توجہ دی اور بے بہا روپیہ خرچ کیا۔ مغل بادشاہوں کا اعتقاد تھا کہ بادشاہ نے اپنے محل میں قلیل عرصہ تک ہی رہنا ہے لیکن اپنے مقبرے میں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔ شاہ جہاں نے اپنے اور اپنی بیگم ممتاز محل کے مقبرے کا نام ”تاج محل“ رکھ دیا۔

بادشاہ تو بادشاہ ٹھہرے۔ درویش اور فقیر بھی ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں بابا بلھے شاہ نے اس کا برملا اظہار اپنے ایک شعر میں کیا ہے۔ بلھے شاہ اساں مرنا نہیں گور پیا کوئی ہور۔ ویسے بھی بلھے شاہ ”فنا فی المرشد“ کے آدمی تھے اور تصوف کا سب سے بڑا فائدہ شاید یہی ہے کہ اپنی ہر مشکل کو مرشد کی گردن پر فٹ کر دیا جائے۔

عام انسانوں کا المیہ تھوڑا مختلف ہے وہ بسا اوقات بے صبری یا بے علمی میں اس عارضی زندگی کو ہی ابدی خیال کر لیتا ہے اور اس عالم میں خاصے قابل ندامت کرتوتوں کا بھی مرتکب ہو جاتا ہے لیکن جلد ہی اس پر حقیقت آشکار ہو جاتی ہے اور وہ یو ٹرن لے کر حیات ابدی کی فروعی کوششوں میں مشغول ہو جاتا ہے جس میں نام و نسل کا زندہ رہنا، طالع آزمائی کرنا، تاریخ رقم کر کے پھر اس تاریخ میں زندہ رہنا، ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا، تاریخی اور قدیم عمارتوں کی دیواروں پر اپنا نام لکھنا، سو سو کتابیں لکھنا، کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنا وغیرہ۔ ان جیسی تمام حرکات و سکنات کے پیچھے حیات ابدی والی نفسیات ہی کارفرماء نظر آتی ہے۔ انسان پہلے مکمل کامیابی کی خواہش اور کوشش کرتا ہے۔ ناکامی کی صورت میں پھر فوراً سودے بازی پر اتر آتا ہے کہ ”میں تو شاید ہمیشہ زندہ نہ رہوں مگر میرا نام تو زندہ و جاوید رہے گا“ ۔

آخر میں ہم یہ وضاحت ضروری خیال کرتے ہیں کہ اگر دنیا کے کسی بھی انسان کو کسی بھی شکل میں اور کسی بھی ذریعہ سے حیات ابدی کی منزل حاصل ہو جاتی ہے تو راقم کو دلی خوشی ہوگی۔ ذاتی طور پر ہمارا مسئلہ بس اتنا ہے ہر انسان حیات ابدی کی وادی میں صرف اور صرف اپنے آپ کو ہی دیکھتا ہے اور حیات ابدی کے حصول کی ہر کوشش بھی اکیلا ہی کرتا ہے۔ اگر کبھی اجتماعی کوشش کی شکل بن بھی جائے تو بھی وہ اس میں اکیلا ہی دعوے دار رہے گا مثال کے طور پر اگر کوئی کوہ پیما ایورسٹ یا K۔ 2 کی چوٹی سر کر لے تو اس کے ساتھ دو چار قلی بھی ضرور ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ ہی چوٹی کو سر کرتے ہیں مگر حرام ہے کسی نے ان غریب قلیوں کا نام لیا ہو۔ اس طرح کا ذہنی اکیلا پن یا تنہائی انفرادی طور پر انسان کے لیے ضرر رساں تو ہے ہی لیکن اس کے معاشرتی اثرات اور نقصانات کا شاید اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔

Facebook Comments HS