پاکستانی سیاست میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں


پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خواتین نے سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا، لیکن اس کردار کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں اور چیلنجز حائل رہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر 2024 کے عام انتخابات تک، خواتین کی سیاسی نمائندگی ایک ارتقائی عمل سے گزری ہے۔ اس مضمون میں خواتین کی پارلیمانی تاریخ، سیاسی جماعتوں میں ان کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک، 2024 کے انتخابات میں ان کی شرکت اور موجودہ چیلنجز کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں خواتین کی شمولیت کا آغاز قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہوا۔ پاکستان میں خواتین کی مخصوص نشستیں سیاست میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم آئینی اقدام ہیں۔ اس نظام کے ذریعے ایسی خواتین کو بھی پارلیمان میں آنے کا موقع ملتا ہے جو براہِ راست انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ 1956 کے آئین پاکستان میں پہلی بار خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا تصور پیش کیا گیا 1973 کے آئین میں مخصوص نشستوں کو آئینی حیثیت دی گئی اور آئندہ انتخابات میں ان پر عملدرآمد کی بنیاد رکھی گئی۔ 2002 کی اصلاحات میں قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد 60 کر دی گئی۔ صوبائی اسمبلیوں میں بھی مجموعی نشستوں کا تقریباً 17 % خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا۔

خواتین کی مخصوص نشستوں کا مقصد

1۔ خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانا
2۔ برابری کے مواقع فراہم کرنا
3۔ سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں مدد دینا
4۔ قانون سازی میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا

اگرچہ مخصوص نشستیں خواتین کی شمولیت کا ایک ذریعہ ہیں، لیکن مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین اکثر پارٹی قیادت کی مرضی کی پابند ہوتی ہیں۔ موروثی یا اشرافیہ کی نمائندگی ہوتی ہے کیونکہ ان نشستوں پر اکثر با اثر سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین آتی ہیں، جس سے عام عورت کی نمائندگی محدود ہو جاتی ہے۔ چونکہ یہ خواتین انتخابی عمل سے نہیں گزرتیں، ان کے پاس عوامی رابطے اور سیاسی تربیت کا تجربہ کم ہوتا ہے۔

مستقبل کی سمت اور تجاویز

1۔ جنرل نشستوں پر خواتین کو زیادہ ٹکٹ دیے جائیں تاکہ وہ براہِ راست انتخاب جیت کر آئیں۔
2۔ مخصوص نشستوں کے لیے میرٹ پر مبنی اور شفاف انتخابی نظام متعارف کروایا جائے۔
3۔ سیاسی تربیت اور لیڈرشپ پروگرامز کے ذریعے خواتین کی صلاحیتیں نکھاری جائیں۔
4۔ نچلی سطح کی سیاست (یونین کونسلز وغیرہ) میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ بتدریج اوپر آئیں۔

خواتین کی مخصوص نشستیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم قدم ہیں، لیکن یہ صرف پہلا قدم ہیں۔ اصل مقصد خواتین کو با اختیار بنانا، فیصلہ سازی میں شامل کرنا، اور انہیں عوامی اعتماد کے ذریعے اسمبلیوں میں لانا ہے۔ اگر مخصوص نشستوں کے ساتھ ساتھ براہِ راست انتخابات میں بھی خواتین کی شرکت کو فروغ دیا جائے، تو پاکستان ایک زیادہ متوازن اور جامع جمہوری نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ بینظیر بھٹو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں، جو خواتین کی سیاسی قیادت کی ایک تاریخی مثال ہے۔ اگرچہ خواتین پارلیمان کا حصہ بنتی رہی ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کے اندر ان کے لیے راستے ہمیشہ ہموار نہیں رہے ٹکٹ کی تقسیم میں امتیازی سلوک کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ کم دیے جاتے ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں کئی جماعتوں نے 5 ٪ کی قانونی شرط کو بھی پورا نہیں کیا۔ اکثر خواتین مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلیوں میں آتی ہیں اور پارٹی قیادت کے زیرِ اثر ہوتی ہیں، جس سے ان کی آزادی اور اثر پذیری کم ہو جاتی ہے۔

سیاست کو مردوں کا میدان سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو نہ صرف خاندان بلکہ عوامی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ علاقوں میں خواتین ووٹرز کے باہر آنے پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، اور سیاسی امیدوار بننے والی خواتین کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں خواتین کی نمائندگی نہایت محدود رہی۔ مجموعی امیدواروں میں صرف 4.6 فیصد خواتین شامل تھیں۔ بیشتر سیاسی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 206، جو خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے کا پابند بناتی ہے، پر عمل نہ کر سکیں۔ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں اضافہ ضرور ہوا، مگر کچھ علاقوں میں اب بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین کی سیاسی شرکت اب بھی نمائشی حد تک محدود ہے۔ پاکستان میں خواتین کی سیاسی شمولیت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں خواتین کو جنرل نشستوں پر عملی مواقع فراہم کریں۔ قانون سازی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، خاص طور پر ٹکٹ کی تقسیم سے متعلق قوانین پر اور خواتین کی سیاسی تربیت اور لیڈرشپ پروگرامز کو فروغ دیا جائے۔ انتخابی عمل میں شفافیت اور خواتین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

میڈیا خواتین رہنماؤں کی مثبت تصویر پیش کرے تاکہ عوامی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ پاکستان کی سیاست میں خواتین کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ اس کردار کو نمائشی حد سے نکال کر پالیسی سازی، لیڈرشپ اور فیصلہ سازی کے عمل میں موثر بنایا جائے۔ تاریخ، قانون اور آئین خواتین کو برابر کا شہری تسلیم کرتے ہیں، اب ضرورت ہے کہ عملی سیاست بھی اس برابری کو تسلیم کرے۔

Facebook Comments HS