لِلی اور اُس کا شہر ہاربن – مکمل کالم
آخری مرتبہ میں 2019 میں جب چین گیا تھا تو وہاں کووڈ آ گیا تھا، اَب کی بار خدا خیر کرے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اِس دفعہ کا سفر اُکتا دینے کی حد تک طویل تھا، گھر سے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے لے کر چین کے شہر ہاربن کے ہوٹل میں چیک اِن کرنے تک پورے چوبیس گھنٹے لگے، اور جب ہاربن پہنچا تو یہ جان کر بچا کُھچا جوش بھی ٹھنڈا پڑ گیا کہ سفری سامان بیجنگ میں ہی رہ گیا ہے۔ اگلی صبح ایک اہم سرکاری ملاقات تھی، میں نے اپنی میزبان سے پوچھا ”اب کیا ہوئیں گا؟“ اُس نے آبِ گُم کے قبلہ کی طرح جواب دیا ”دیکھتے جائیں۔“ اِس جواب سے میری تشفی نہیں ہوئی، میں نے کہا محترمہ میرا سوٹ اور ٹائی سب کچھ اسی بیگ میں تھا، کہنے لگی آپ اِن کپڑوں میں بھی کافی ”ٹھیک ٹھاک“ لگ رہے ہیں، فکر نہ کریں۔ اب اِس کے بعد بندہ کیا بولے۔ لیکن اُس خدا کی بندی نے اگلے پندرہ منٹ میں دو چار فون گھمائے اور پھر مجھے خوش خبری سنائی کہ ”ایئر چائنا نے یقین دلایا ہے کہ سامان کل صبح بیجنگ سے ہاربن پہنچ جائے گا، فی الحال میں نے آپ کے لیے ڈمپلنگ منگوائے ہیں، وہ کھائیں اور سو جائیں“ ۔
ہوٹل کا کمرہ بیسویں منزل پر تھا، اندر داخل ہوا تو ڈمپلنگ کی ٹرے موجود تھی، اور کمرا کیا وہ تو پورا اپارٹمنٹ تھا، چینی دوستوں نے میزبانی کی حد کر دی تھی۔ پلنگ کے سامنے قد آدم کھڑکی تھی جس سے ہوٹل کے باہر کا نظارہ دکھائی دے رہا تھا، رات کے بارہ بج رہے تھے، ہاربن کی سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں تھیں، سامنے قطار اندر قطار عمارتیں تھیں جن سے روشنی چھن کر باہر آ رہی تھی اور درمیان میں ہاربن کا پُرسکون دریا تھا۔ جیسا شہر ویسا دریا۔ اگلی صبح ’لِلی‘ نے بتایا کہ آپ کا سامان پہنچ گیا ہے مگر ایک مسئلہ ہے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا وہ کیا۔ کہنے لگی کچھ نہیں بس آپ کے سوٹ کیس میں کریک آ گیا ہے، اُس نے مجھے تصویر دکھائی، واقعی سوٹ کیس اب قابلِ استعمال نہیں رہا تھا۔ میں نے پوچھا ”اب کیا ہوئیں گا؟“ اطمینان سے بولی ”دیکھتے جائیں۔“ میں نے بھی دل میں سوچا کہ چلو دیکھتے ہیں اور اپنی میٹنگ میں چلا گیا۔ دوران میٹنگ ہی لِلی کا پیغام آیا کہ ائر چائنا والے کہہ رہے ہیں کہ سوٹ کیس کی معذرت، آپ نے جرمانہ وصول کرنا ہے یا نیا سوٹ کیس لینا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ نیا سوٹ کیس ہی ٹھیک ہے۔ اگلے روز نیا سوٹ کیس مل گیا۔
ہاربن کا نام میں نے چند ماہ پہلے اُس وقت سنا جب معلوم ہوا کہ یہاں موسم سرما کی ایشیائی گیمز منعقد ہو رہی ہیں۔ یہ شہر چین کے جس صوبے میں ہے اُس کی سرحد روس سے ملتی ہے، یہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی تیس ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے، اور باقی مہینوں میں خاصا خوشگوار رہتا ہے۔ مئی جیسے مہینے میں بھی ہاربن کا موسم ایسا تھا کہ دن کے وقت کوٹ پہننا پڑتا تھا اور رات کو اچھی خاصی ٹھنڈ ہو جاتی تھی۔ ہاربن والوں کو ٹھنڈ کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ اگر سردی نہ بھی ہو تو مصنوعی سردی پیدا کر لیتے ہیں۔
یہاں ایک اِن ڈور سکینگ سنٹر دیکھا جسے مصنوعی برف سے بنایا گیا تھا اور درجہ حرارت بھی منفی آٹھ یا دس ڈگری تھا، سردی کے اِس ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں ٹن کے ائر کنڈیشنر لگائے گئے تھے اور مصنوعی برف میں زمین کے نیچے پائپ بچھا کر ایسا انتظام کیا گیا تھا کہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ اصلی نہیں بلکہ نقلی برف ہے۔ سکینگ سنٹر میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے ہمیں بمبر جیکٹیں پہنا دیں لیکن اُن میں بھی سردی لگتی رہی البتہ جو شخص ہمیں بریفنگ دینے پر مامور تھا وہ نہ جانے کیا کھا کر آیا تھا، اُس نے محض ایک ٹی شرٹ کے اوپر باریک سی جیکٹ پہن رکھتی تھی۔ ایسا ہی تجربہ ہاربن میں ایک اور جگہ ہوا جہاں انہوں نے اسی مصنوعی انداز میں برف سے مختلف چیزیں بنا کر ایک میلے کا سا سماں پیدا کیا ہوا تھا، سردیوں میں یہ میلہ شہر کے وسط میں ہوتا ہے اور لوگ جوق در جوق اُس میں شرکت کرتے ہیں۔ سردیوں کا عاشق تو میں بھی ہوں مگر ہاربن کے شہریوں کا عِشق دیکھ کر تو میں نے بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔
بیرون ملک سفر کے لیے میں نے اصول بنا رکھا ہے کہ اُس ملک کی سِم ضرور حاصل کی جائے، چین جانے سے پہلے مجھے برادرم سردار اظہر سلطان صاحب نے، جنہوں نے چینی امور پر لگ بھگ پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اپنی چین کی سِم پلاسٹک کی تھیلی میں تعویذ کی طرح لپیٹ کر پیش کی کہ چین جا کر اپنے فون میں ڈال لوں۔ ہاربن پہنچ کر فون میں سِم ڈالی مگر اُس نے کام نہیں کیا، میں نے لِلی سے پوچھا ”اَب کیا ہوئیں گا؟“ کہنے لگی ”دیکھتے ہیں۔“ تھوڑی دیر بعد اُس نے فون کر کے بتایا کہ یہ سِم اپنی میعاد مکمل کر چکی ہے، اگر اسے چالو کروانا ہے تو پاسپورٹ لے کر گوانزو جانا پڑے گا جو کہ ممکن نہیں، میں نے کہا نئی سِم کیسے ملے گی، اُس نے کہا ابھی جا کر چائنا موبائل سے لے لیتے ہیں۔ یہ کام تو ہو گیا مگر اِس کے لیے لِلی کو میری ضمانت دینی پڑی، مجھے اپنا پاسپورٹ پیش کرنا پڑا اور انہوں نے میری تصویر بھی سکین کی۔ چین میں آپ کوئی کام بغیر شناخت یا دستاویزی ثبوت کے نہیں کر سکتے، ڈاک سے کوئی چیز بھی بھیجنی ہو تو شناختی کارڈ یا پاسپورٹ لازمی دکھانا ہو گا۔ یہ سارا نظام کیسے کام کرتا ہے، اِس پر بعد میں بات کریں گے۔
اگلے روز میٹنگ سے جلدی فراغت مل گئی تو لِلی ہمیں ٹائیگر پارک لے گئی، دو سال پہلے نیروبی کے جنگل میں جب ’براہ راست‘ دو چار شیر دیکھنے کا موقع ملا تھا تو یوں لگا تھا جیسے کوئی بڑا معرکہ مار لیا ہو مگر کیا معلوم تھا کہ ہاربن جیسے شہر میں یار لوگوں نے تین سو شیر قید کر رکھے ہیں۔ یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ہمیں ایک بس میں بٹھا دیا گیا جو چاروں طرف سے بند تھی اور اُس کی کھڑکی میں چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے۔ بس نے دھیرے دھیرے چلنا شروع کیا تو تھوڑی ہی دیر میں ہمارے گرد شیر اکٹھے ہو گئے جو اچھل اچھل کر اُن سوراخوں پر پنجے مار رہے تھے۔ لِلی نے ایک گوشت کی بالٹی لی جس میں بڑی سی قینچی تھی جو گوشت کے پارچے پکڑنے کے کام آتی ہے، اُس نے قینچی کی مدد سے گوشت کا ٹکڑا اٹھایا اور سوراخ میں رکھ دیا، شیر نے اپنا جبڑا کھولا اور جھٹ سے وہ ٹکڑا دانتوں میں دبا لیا۔ لِلی نے گوشت کی بالٹی مجھے دے دی کہ اب میں یہ تجربہ کروں، میں نے بھی یہی حرکت کی، بڑی فرحت محسوس ہوئی۔ شیر تھے کہ ایک کے بعد ایک لپک رہے تھے، اُن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہمیں کچا چبا جائیں۔ ساتھ ایک گائیڈ بھی تھی جو چینی زبان میں اِن شیروں کے خصائل بیان کر رہی تھی، لِلی نے ترجمہ کر کے بتایا کہ وہ جو گرانڈیل قسم کا شیر نظر آ رہا ہے وہ سب سے زیادہ بدمعاش ہے، میں نے بھی غور کیا، واقعی اُس کی دہشت اور شخصیت متاثر کُن تھی، لِلی نے بتایا کہ پارک کی کئی شیرنیاں اُس پر فریفتہ ہیں۔ اب آپ جو بھی اِس کا مطلب نکال لیں۔
شام کو ہم سینٹرل سٹریٹ گئے، دنیا کے ہر بڑے شہر میں ایسی ایک سڑک ضرور ہوتی ہے جو ٹریفک کے لیے بند ہوتی ہے اور لوگ وہاں پیدل چہل قدمی کرتے ہیں، کافی پیتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، خریداری کرتے ہیں۔ ہاربن کی سینٹرل سٹریٹ بھی ایسی ہی تھی، گزر گاہ درختوں سے ڈھکی ہوئی تھی، سردیوں میں اِن درختوں پر برف پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے سڑک نے سفید چادر اوڑھ لی ہو۔ آگے چل کر یہ سڑک دریا کے پاس ختم ہو جاتی ہے۔ میں ابھی اِس نظارے سے لطف اندوز ہو ہی رہا تھا کہ مجھے لِلی کی آواز آئی: ”آپ کی کل صبح شنگھائی روانگی ہے ناں؟“ میں نے چونک کر کہا ”ہاں، کیا ہوا؟“ لِلی بولی ”مجھے ابھی ہوائی اڈے سے فون آیا ہے کہ آپ کے ٹکٹ پہ پاسپورٹ نمبر غلط درج ہے، جب تک یہ درست نہیں ہو گا آپ جہاز پر سوار نہیں ہو سکیں گے۔“ میرے چھکے چھوٹ گئے۔ ”اب کیا ہوئیں گا؟“ میں نے لِلی سے پوچھا۔ اُس نے گہری سانس لی اور جواب دیا: ”دیکھ لیں گے۔“ (جاری ہے ) ۔


