پاکستانی میڈیا امام کعبہ کو نہیں جانتا

ناموں کے تضاد اور تصاویربدلنے کے ساتھ ساتھ امام کعبہ کے دورے سے قبل بھی من مرضی کی خبریں شائع کیں جاتی رہیں۔ روزنامہ ایکسپرس نے گزشتہ روز فرنٹ پیج پر خبر چھاپی کہ امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ حالانکہ کئی روز قبل ہی یہ واضح ہو چکا تھا کہ پاکستان الشیخ صالح بن محمد آل طالب آئیں گے۔اس سے آپ پاکستانی میڈیا کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔عالم اسلام کی معتبر ترین شخصیات کے بارے ان کی معلومات کو اکیس توپوں کی سلامی دینے کو جی چاہتا ہے۔ اسی طرح کئی اخبارات نے پاکستان پہنچنے والے امام صاحب کے ساتھ ” نائب“ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ حالانکہ بیت اللہ شریف کے کسی امام کے ساتھ نائب کا لفظ نہیں لکھا جاتا۔ سب کے ساتھ امام ہی لکھا جاتا ہے۔ شاید اس بارے تحقیق کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی کہ مسجد الحرام بیت اللہ شریف کے ساتھ بیک وقت بارہ کے قریب امام منسلک ہوتے ہیں جو مختلف نمازوں کی امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

میڈیا میں بھی انسان ہی کام کرتے ہیں اور غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے لیکن بات ہے سنجیدگی اور توجہ کی۔ کئی ٹی وی چینلز میں کام کرنے اور میڈیا کا ایک مستقل ناظر و قاری ہونے کے باوجود یاد نہیںآ رہا کہ کبھی کسی فلمسٹار یا کھلاڑی کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا گیا ہو۔ تمام مشکل سے مشکل نام اور ملتی جلتی تصاویر، بھاری میک اپ میں ڈوبے چہروں کو بھی باآسانی پہچان لیا جاتا ہے۔ نام لیتے ہوئے زیر زبر اور لہجے تک کی غلطی نہیں ہوتی۔ یہ معاملہ سراسر توجہ اور سنجیدگی کا ہی ہے ورنہ اتنے بڑے بڑے میڈیا نیٹ ورکس اتنی بڑی غلطی فرنٹ صفحات پر کیسے جانے دیتے ہیں۔ میڈیا والوں کو پتہ ہے کہ کون اس بارے بولے گا، کسے فرق پڑے گا جو مرضی لکھ اور بول دیں، جسکی مرضی تصویر اور نام بدل دیں کوئی بھی نوٹس نہیں لے گا۔ کوئی معذرت نہیں کرنی پڑے گی۔ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کی ایک تصویر پر غلطی سے ملک کے چیف جسٹس کا نام لکھنے پر کئی افراد کو گرفتار کیا تھا۔ لیکن یہاں کون پوچھے گا اور کون غلطی تسلیم کرے گا۔ دراصل یہ سب ہمارے معاشرتی رویے کی عکاسی ہے کہ ہمارا میڈیا کن چیزوں کو کتنی اہمیت دیتا ہے اور کن چیزوں کے بارے اس قدر لاپرواہی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ امام کعبہ کو اردو نہیں آتی اور نہ وہ پاکستانی اخبارات کا مطالعہ فرمائیں گے اور دعا بھی یہی ہے کہ کوئی انہیں ہرگز نہ بتائے کہ پاکستانی میڈیا نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ ورنہ وہ کیا سوچیں گے کہ میں ایک ایسی قوم کا مہمان بنا ہوں کہ جو میرا نام تک نہیں جانتی اور نہ ہی مجھے پہچانتی ہے۔ جہاں تک میڈیا اداروں کے اعلی ترین دماغوں کا تعلق ہے تو ان سے درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ امام صاحب کو تھوڑی بہت کوریج دینا تو شاید ممکن نہ ہو کیونکہ اس سے ہالی وڈ، بالی وڈ کی کسی نہ کسی ہیروئن کی سالگرہ کی خبر نہ رہ جائے لیکن خدارا اگر مجبوراً دکھانا ہی پڑ جائے تو مسلمانوں کے مقدس ترین مقام بیت اللہ شریف کے امام کا نام اور تصویر تو کم سے کم پہچان لیں۔ کوئی آپ سے پوچھنے کی جرات نہیں کر سکتا لیکن جھوٹ، غیر سنجیدگی اور لاپروائی سے میڈیا کے اداروں کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ توضرور ہے۔۔۔

