امریکہ عالمی تصادم کےراستے پر گامزن

شام کے ائیر بیس پر امریکی کروز میزائل حملہ سے امریکہ کی پالیسی ایک نیا رخ اختیار کرلے گی۔ لیکن اس تبدیلی سے سب سے زیادہ صدر ٹرمپ کے ارادے اور وعدے ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جائیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران وہ جنوبی کوریا، جاپان ، سعودی عرب کے علاوہ نیٹو کو بھی دھمکاتے رہے ہیں کہ اب امریکہ صرف اپنے مفادات اور اپنے لوگوں کی بہبود پر توجہ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو سمیت دیگر ممالک اپنے دفاع کا انتظام کریں۔ اب امریکہ یہ ذمہ داری پوری کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ اب امریکہ اپنے وسائل اپنے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور ان کی زندگیاں بہتر بنانے کےلئے استعمال کرے گا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ روس کے ساتھ دیرینہ دشمنی ختم کرکے خوشگوار تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔ امریکہ کی ایجنسیاں اور ان کے حلیف ملک صدر ولادیمیر پیوٹن کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور امریکی انتخابات میں مداخلت کی شکایت کرتی تھیں لیکن ٹرمپ پیوٹن کو ذہین اور عقلمند صدر بتا کر ان کے ساتھ دوستی اور تعاون کی بات کرتے تھے۔
ابھی ان کی صدارت کے 100 دن بھی پورے نہیں ہوئے کہ ان کے ایک فیصلہ سے امریکہ براہ راست روس کے ساتھ تصادم کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ امریکہ کے صدر شام میں کیمیائی حملوں کے بعد سامنے آنے والے سیاسی دباؤ اور میڈیا کے پروپیگنڈا کے زیر اثر آج امریکہ کے حملہ کے بعد صبر و سکون سے حالات کا جائزہ لیں گے اور حالات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اور انہیں یہ ادراک بھی ہوگا کہ امریکہ خواہ کتنا ہی طاقتور اور بڑا ملک ہو، وہ دنیا میں ہونے والی سب ناانصافیوں کو ختم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ کا یہ نعرہ زیادہ حقیقت پسندانہ تھا کہ امریکی حکومت کو اپنے عوام کی ضرورتوں پر توجہ دینی چاہئے۔ دوسرے ملکوں میں جنگی اقدامات سے امریکی قومی بجٹ میں جو خسارہ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے، اس میں کمی کرنی چاہئے اور دنیا کے ممالک کو اپنے معاملات خود طے کرنے دینا چاہئے۔
شمالی کوریا کے بارے میں ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور شام پر حملہ کے فیصلہ کے بعد یہ بات تو واضح ہو رہی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اب اسی مزاج اور واشنگٹن کی اسی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بن رہے ہیں، جسے ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے انتخاب جیتا تھا۔ انسانوں کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ امریکہ سے باہر امریکہ کی فوجی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو اس سے دنیا کہیں زیادہ پرامن اور پرسکون ہو سکتی تھی۔ دنیا کے بڑے تنازعات امریکہ کے سپر پاور رول اور اس زعم کی وجہ سے پیدا ہوتے رہے ہیں کہ امریکہ کو ہر معاملہ میں مداخلت کرنے اور من پسند فیصلے کروانے کا حق حاصل ہے۔ 9/11 کے بعد اگرچہ امریکہ میں انتقام کا جذبہ فزوں تر تھا لیکن افغانستان کے بعد عراق پر حملہ دراصل وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کو دوام بخشنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ افغانستان پر امریکی فوج کشی کے نتیجہ میں دہشت گرد قوتوں میں اضافہ ہوا اور وہ افغانستان سے نکل کر پاکستان ، مشرق وسطیٰ اور اب دوسرے مسلمان ملکوں میں پھیلنے لگی ہیں۔ اسی طرح عراق پر حملہ کے بعد ہی داعش کی مزاحمتی جدوجہد کا آغاز ہوا اور جب عرب بہار کے احتجاجی طوفان کا اثر شام پہنچا تو یہ گروہ شام میں صورت حال کا فائدہ اٹھانے کےلئے وہاں جا پہنچا۔ امریکہ اور اس کے حلیف عرب ملکوں نے صدر بشار الاسد کے خلاف جو باغی گروہ کھڑے کئے تھے، انہوں نے دہشت گرد گروہوں سے بالواسطہ اشتراک و تعاون کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اسی صورتحال میں داعش نے دولت اسلامیہ بن کر شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا اور اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اب اس گروہ کے قبضہ سے یہ علاقے واگزار کروانے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔
داعش نے اس دوران سوشل میڈیا کے ذریعے ایسا پروپیگنڈا نظام استوار کیا ہے جو دنیا بھر کے ملکوں میں مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنا ہوا ہے۔ اب امریکہ اور دیگر قوتوں کی کوششوں سے اگر داعش کی باقاعدہ حکومت کا خاتمہ ہو بھی جائے تو بھی وہ اپنے جہادی جنگجوؤں اور پروپیگنڈا کی طاقت کے بل پر طویل عرصہ تک دنیا میں انتشار اور بدامنی پیدا کرنے کا سبب بنتے رہیں گے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کےلئے نئی جنگ شروع کرنے اور الزام تراشیوں سے معاملات طے نہیں ہو سکتے۔ بلکہ حالات کا جائزہ لے کر دشمن کی قوت کو ختم کرنے کےلئے تمام ملکوں اور عناصر کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ کی یہ پالیسی قابل عمل تھی کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ کو ختم کرنے کےلئے کام کرے۔ اگرچہ اس تعاون کےلئے ٹرمپ خود ہی مشکلات بھی پیدا کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف وہ روس کے ساتھ دوستی کی باتیں کرتے تھے تو دوسری طرف ایران کو مشرق وسطیٰ میں تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے رہے تھے۔ حالانکہ ایران شام اور روس کا قریبی حلیف ہے۔
داعش کے خلاف جنگ جیتنے کےلئے ان دونوں ملکوں کا تعاون حاصل کئے بغیر کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اب ٹرمپ حکومت نے شام کی حکومت کے حوالے سے یوٹرن لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن یہ اعلان کر رہے تھے کہ صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا شامی عوام کا کام ہے۔ یہ ہمارا مطمع نظر نہیں ہے۔ لیکن اب امریکہ پھر سے ’’انسانیت دشمن‘‘ بشار الاسد کو بہرصورت شام میں اقتدار سے ہٹانے کی باتیں کرنے لگا ہے۔ یہ بات بھی عجوبہ روزگار ہے کہ اسی ہفتے کے شروع میں مصر کے صدر عبدالفتح السیسی صدر ٹرمپ کے مہمان تھے اور امریکی صدر اس آمر حکمران کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ اگر بشار الاسد نے اپنے عوام کے خلاف جرائم کئے ہیں تو صدر السیسی کے ہاتھ بھی اپنے ہی لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن انسانیت کے نام پر دعوے کرتے وقت عالمی لیڈروں کو اپنے بیان اور کردار کے تضاد کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ان کی آنکھوں پر اپنے وقتی مفادات کی پٹی بندھی ہوتی ہے۔
اس میں شبہ نہیں ہے کہ شام کے سابق صدر حافظ الاسد اور پھر ان کے بیٹے بشار الاسد نے سخت گیر حکومت قائم کئے رکھی ہے۔ اس حکومت نے اختلاف کا حق نہیں دیا اور رائے کا اظہار کرنے والے لوگوں کو ظالمانہ طریقہ سے کچل دیا۔ لیکن یہ طریقہ بشار الاسد سے مخصوص نہیں تھا۔ مشرق وسطیٰ میں قائم بیشتر آمرانہ حکومتیں اپنے لوگوں کے خلاف اسی قسم کا جابرانہ طرز عمل اختیار کرتی ہیں۔ تاہم عراق میں صدر صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد امریکہ کو اس کے عرب حلیفوں نے یہ خواب دکھایا کہ اگر شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم کر دی جائے تو اس علاقے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کر دیا جائے گا۔ سعودی عرب بشار الاسد کے بعد شام میں ایسی حکومت لانا چاہتا تھا جو اس کے اشاروں پر چلتی رہے۔ تاہم یہ منصوبے کامیاب نہیں ہوئے اور شام کو ایسی خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا جس کی وجہ سے ملک کی نصف آبادی بے گھر ہے اور ایک چوتھائی ملک سے بھاگنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ شام کو بشار الاسد کی آمریت سے نجات دلانے کی دعوے دار یورپی اور امریکی حکومتیں اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے شامی باشندوں کی مدد کرنے اور انہیں پناہ گزینوں کے طور پر قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ اسی بحران سے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں نے جنم لیا ہے جو اس وقت امریکہ اور پوری دنیا کےلئے سب سے سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
منگل کو ادلب کے علاقے خان الشیخون میں شام کی فضائیہ نے حملہ کیا جس میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے تھے۔ اس حملہ سے متاثر ہونے والوں کی تصویروں اور ویڈیوز نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مغربی میڈیا اس انسانیت سوز حملہ پر چیخ اٹھا۔ لیکن یہ تصدیق کئے بغیر کہ سانحہ کیسے اور کیوں رونما ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کے صدر بشار الاسد پر اس کا الزام عائد کر دیا گیا۔ اب اسی جرم کی سزا دینے کےلئے صدر ٹرمپ نے شام کے ایک ائیر بیس کو تباہ کیا ہے۔ اگرچہ شام اور روس کا موقف ہے کہ شامی فضائیہ نے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کئے بلکہ باغیوں کے جس گودام پر حملہ کیا گیا تھا، وہاں پر دیگر اسلحہ کے علاوہ کیمیائی مواد بھی ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اسی مواد کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے شام کے مختلف گروہوں کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاعات آتی رہی ہیں، اس لئے اس موقف کو غیر جانبدارانہ تحقیقات سے قبل مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس حوالے سے بشار الاسد حکومت کا ماضی کا ریکارڈ بھی قابل تحسین نہیں ہے۔ 2013 میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرکے سینکڑوں شہری ہلاک کر دیئے تھے۔ تاہم امریکہ کے نومنتخب صدر عجلت میں فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ میڈیا اور واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ برداشت نہیں کر سکے۔ اس طرح امریکہ نے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کےلئے شام پر حملہ کرنا ضروری سمجھا۔
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکہ شام کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتا ہے۔ اگر ٹرمپ حکومت نے یہ غلط اندازہ قائم کر لیا کہ وہ میزائل حملے جاری رکھ کر بشار الاسد کی حکومت کو اس قدر کمزور کر سکتا ہے کہ باغی فوجیں ان کی حکومت کو ختم کرکے دمشق پر قبضہ کر لیں گی تو مزید حملوں کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس صورت میں روس کے ساتھ تصادم کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا جو بشار الاسد حکومت کی حمایت کرے گا اور اسے بچانے کےلئے اقدامات بھی کرے گا۔ یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ بشار الاسد کی فوجی قوت مفلوج ہونے کی صورت میں باغی فوج کی بجائے داعش اور دیگر جہادی گروہ دمشق پر قابض ہو جائیں۔ اس طرح جس گروہ کو ختم کرنا صدر ٹرمپ کے ایجنڈے پر سرفہرست تھا، وہ امریکہ ہی کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے اتنا طاقتور ہو سکتا ہے کہ اسے شکست دینا ممکن ہی نہ رہے۔

