خیبر پختونخوا صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن: ایک جائزہ
خیبر پختونخوا حکومت نے حالیہ دنوں میں صوبائی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن (Khyber Pakhtunkhwa Higher Education Commission۔ KPHEC) کے قیام میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، اور اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو ایک ماہ کے اندر عملی سفارشات مرتب کرے گی۔ اس اعلان کو اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ ادارہ واقعی ایک خودمختار، موثر اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر قائم کیا گیا تو یہ نہ صرف تعلیمی نظام کو مقامی ضروریات کے مطابق بنانے میں مدد دے گا بلکہ صوبے کی جامعات کی کارکردگی اور گورننس کو بھی بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم، اس فیصلے کے کئی اہم پہلو ایسے ہیں جن پر مزید وضاحت اور سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا صوبائی حکومت واقعی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے یا یہ ادارہ محض اختیارات کی تقسیم اور بیوروکریٹک ساخت میں اضافہ کا سبب بنے گا؟ اس وقت پہلے سے ہی صوبائی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ موجود ہے، جو پالیسی سازی، نگرانی اور مالی امور کی ذمہ داری سنبھال رہا ہے۔ ایسے میں اگر KPHEC ایک نیا ادارہ بن کر ابھرتا ہے، تو اس کے اختیارات اور دائرہ کار کی وضاحت نہ ہونے سے ادارہ جاتی تضادات اور پالیسی سطح پر ہم آہنگی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس وقت خیبر پختونخوا کی تمام نمایاں اور پرانی جامعات سنگین مالی بحران کا شکار ہیں۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) پشاور، یونیورسٹی آف پشاور، ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان۔ سبھی ادارے مالی تنگی، بجٹ کٹوتیوں اور انتظامی بحران سے دوچار ہیں۔ ان جامعات میں تدریسی اور تحقیقی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اساتذہ اور عملے کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بعض اداروں میں تدریسی عملے کی کمی بھی رپورٹ کی گئی ہے، جس کا اثر براہ راست تعلیمی معیار پر پڑ رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبے روک دیے گئے ہیں اور تحقیقی فنڈز میں کمی سے تحقیقی کلچر زوال کا شکار ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ KPHEC کو صرف پالیسی سازی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے مکمل اختیارات اور وسائل کی موثر تقسیم کا اختیار بھی دیا جائے۔ جب تک ان جامعات کے مالی بحران کا مستقل حل پیش نہیں کیا جاتا، تب تک اعلیٰ تعلیم کے کسی بھی ادارہ جاتی اصلاحاتی اقدام کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔
ایک اور اہم پہلو بین الاقوامی تسلیم شدگی سے جڑا ہے۔ اگر KPHEC کو مستقبل میں ڈگریوں کی توثیق (recognition) اور تصدیق (attestation) کا اختیار دیا جاتا ہے، تو اس بات کی وضاحت ضروری ہوگی کہ ان اسناد کی بین الاقوامی سطح پر کیا حیثیت ہوگی۔ اس وقت پاکستان کی نمائندگی یونیسکو سمیت تمام بین الاقوامی معاہدوں میں وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اسلام آباد کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر خیبر پختونخوا کی جامعات کی ڈگریاں KPHEC سے توثیق شدہ ہوں تو طلباء کو بیرونِ ملک تعلیم یا ملازمت کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، اور ممکنہ طور پر دوبارہ وفاقی HEC سے تصدیق کرانا پڑے گا۔
لہٰذا، KPHEC کا قیام اس وقت ہی موثر اور سودمند ثابت ہو سکتا ہے جب یہ ادارہ:
* مکمل ادارہ جاتی خودمختاری اور مالی خود کفالت کا حامل ہو؛
* وفاقی HEC کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور تعاون کا واضح نظام رکھتا ہو؛
* صوبے کی تمام پرانی جامعات کو درپیش مالی بحران کا مستقل اور حقیقت پسندانہ حل فراہم کرے ؛
* اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدگی کے تقاضوں کو مکمل طور پر مدنظر رکھے۔
اگر ان نکات کو نظر انداز کیا گیا، تو KPHEC کا قیام ایک اور ادارہ جاتی الجھن، پالیسی تضاد اور تعلیمی نظام میں غیر یقینی کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست صوبے کے طلباء، اساتذہ اور تعلیمی معیار پر مرتب ہوں گے۔


