فارغین مدارس عملی زندگی میں ناکام کیوں؟
مجھے شدّت سے احساس ہے۔ کیونکہ میں اک مدرسے کا فارغ التحصیل ہوں لیکن ہنوز میرا تعلیمی سفر جاری ہے۔ یہاں ناکام لکھنے سے ہر جہت سے ناکامی مراد نہیں۔ بلکہ کچھ مخصوص پہلووں سے ہے۔ فارغین مدارس کی معاشی زندگی کے بارے میں عوام سنجیدہ ہیں، نہ تنظیمیں، نہ انجمنیں، نہ حکومتی اراکین۔ہم میں سے ہر اک انفرادی طور پر اک سرسری جائزہ لے تو اندازہ ہو گا۔ کسی بھی مسلکی تخصیص کے بغیر مدارس کے فارغین کرام کی عملی زندگی کو دیکھیں تو استثنائی موارد، کچھ گنے چنے افراد کے علاوہ غالباً اکثریت ”کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
مدارس میں 90 فیصد طالب علم کسی ویژن کے بغیر حادثاتی طور پر یا احساساتی و جذباتی پہلو غالب ہو کر یا گھر والوں کی خواہش کو مدنظر رکھ کر آتے ہیں۔ پھر اک سسٹم میں ڈھل کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ معدودے چند ہی تخلیقی و تجدیدی صلاحیتوں سے مالا مال ہو کر نکلتے ہیں۔ اس بنیاد پر جب عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں۔ نہ ڈگری کی کوئی ویلیو، نہ کوئی ہنر سے مزین، نہ کوئی تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور۔ اب جو کچھ صلاحیت ہے وہ بھی غمِ روزگار سے مجبور کر انجمنوں، تنظیموں، مختلف مذہبی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں یرغمال ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتائج نہایت بھیانک اور ناگفتہ بہ نکلتے ہیں۔ وہ کیسے؟
ہر مسلمان فرد چاہتا ہے کہ وہ دینی تعلیم سے مزین ہو لیکن جب خارج میں، عملی میدان میں دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کی حالت زار دیکھتے ہیں تو کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ان کے بچے دینی تعلیم حاصل کر کے عملی زندگی میں ناکام فرد کے طور پر زندگی بسر کریں۔
یہ سب تفریق ہم نے ہی رکھی ہیں۔ ورنہ اسلام میں ”نظریہ تفریق بین دین و دنیا“ ہے نہیں۔ اسلام نے کبھی دین کو دنیا سے جدا ذکر ہی نہیں کیا۔ بلکہ ”الدنیا مزرعة الاخرة“ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یعنی دنیا کو بطور اسباب استعمال کیے بغیر آخرت میں کامیابی چی معنی دارد۔
اک دینی علوم سے مزین شخص ہر لحاظ سے دوسروں کے لیے رول ماڈل ”نمونہ عمل“ ہونا چاہیے۔ کیونکہ ”العلماء ورثة الانبیاء“ کے مصداق ہونے کے ناتے اک مثالی معاشرے کی تعمیر و احیاء میں علماء کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایسے میں اگر فارغین مدارس معاشی، تخلیقی و تجدیدی پہلووں سے کمزور ہوں تو ظاہر سی بات ہے اک مثالی معاشرے کا احیاء ممکن نہیں۔
پھر کوئی عالم، فاضل کسی مدرسہ، مسجد میں کسی عہدے پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں تو وہاں کے ذمہ داران اس لحاظ سے نہایت ہی بخیل ثابت ہوتے ہیں کہ 10 سے 15 ہزار کی تنخواہ پر 24 گھنٹے کی ذمہ داری لگا کے عہدہ برا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ مستزاد اس پر منت و احسان کا بوجھ کہ ہم اس مولوی کو تنخواہ دیتے ہیں۔ حالانکہ وہی لوگ لاکھوں میں تنخواہ اٹھا کر مہینے میں گزارا مشکل سے ہونے کا رونا روتے ہیں۔
مدارس کے حل و عقد کو سنجیدگی کے ساتھ ان مسئلوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کرام معاشرے میں ایک باعزت، خودمختار، خود کفیل فرد کے طور پر زندگی گزارنے کے لیے فارغ ہونے سے پہلے ہم کیا کام کریں۔ جو مستقبل میں ان کے لیے آسانی کا سبب ہو۔
چند امور جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
دینی و دنیاوی تعلیم کی تفریق کو مٹانا۔ جب تک اس تفریق کو نہیں مٹائیں گے۔ تب تک اس مخدوش و مکدر پاکستانی نظام تعلیم میں فارغین مدارس کو جگہ پانا نہایت ہی مشکل ہے۔
مختلف ورکشاپس کا انعقاد جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو بلا کر گائیڈ کرنا۔
آج کل کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ مختلف تکنیکی و فنی ہنر سکھانا۔
فری لانسنگ کے حوالے سے جانکاری اور آشنائی۔
اس کے علاوہ مختلف انٹرنیشنل یونیورسٹیز کے اندر داخلوں، اسکالرشپز، کے حوالے سے ضروری، ابتدائی معیارات کے بارے میں آگاہی دینا۔
عملی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے دور طالب علمی میں ہی آگاہی دینا۔
ہر ادارے کے اپنے مخصوص رول ریگولیشنز ہوتے ہیں۔ مدارس میں زیر تعلیم طلبا معاصر مسائل، عالمی تبدیلیوں، معاشرتی، معاشی، ثقافتی لحاظ سے بدلتے حالات سے نابلد ہوتے ہیں۔ اس لیے عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد اک احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً بہت سارے مقابلوں میں شرکت کرنے سے کتراتے ہیں۔ در حقیقت دوسرے تعلیمی اداروں کے مقابلے میں مدارس کے طلباء محنتی، قابل، ہوشیار، نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے آپ پر اعتماد، بھروسا کی کمی دوسروں کے مقابل میں ابھر کے آنے کے لیے مانع ثابت ہوتا ہے۔
اسکے علاوہ کچھ ظاہری موانع بھی جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
1: معاشرتی جبر
معاشرتی جبر اک ناقابل انکار ناسور ہے۔ کسی بھی عذر شرعی، علت و سبب کے بغیر قدغنیں اور بندشیں لگانا۔ مدارس سے فارغ کوئی فاضل بزنس کی طرف جاتا ہے۔ اب وہ بزنس چھوٹے، بڑے دونوں لیول پر ہوسکتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ کبھی یہ چاہتا ہی نہیں کہ کوئی فاضل کاروباری دنیا میں قدم جمائے۔ اگر سو میں سے ایک اس طرف آئے تو اس کے لیے ہزار باتیں کستے ہیں۔ حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ بہت سارے فارغین اس معاشرتی جبر سے مجبور ہو کر بزنس کی طرف رُخ نہیں کرتے۔ صرف امامت و خطابت سے گھر کا چولہا نہیں جلتا۔ پس سفید پوشی میں گھٹ گھٹ مرتے ہیں۔ حالانکہ پیغمبر اکرم ﷺ کی احادیث میں تجارت کی تحسین ہوئی ہے۔ بلکہ مستحب و مستحسن عمل ہے۔ تاریخ و سیر کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کتنے کبار اصحاب، فقہا و عارفین ذاتی کاروبار سے منسلک تھے۔ بلکہ اپنے پیشے کے لحاظ سے معروف و مشہور تھے۔ یہاں تک ان کے نام کے ساتھ بھی وہ پیشہ بطور لقب معروف ہے۔
2: خوش فہمی
غالباً فارغین مدارس کے اندر اک خوش فہمی پائی جاتی ہے کہ مدرسے کے آٹھ دس سالوں میں ہم نے فقہ کی موشگافیوں سے لے کر ادب و زبان کی فنی باریکیوں تک، منبر و محراب سے لے کر جبہ و دستار تک، تقریر و تحریر سے لے کر دم درود تک میں دسترس حاصل کر لی اب عملی زندگی میں ہم پر کامیابیوں کے ہزار در وا ہوں گے۔ لیکن جوں ہی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں خوش فہمیوں کی شاندار عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔
3: عوام الناس کی توقعات بیجا
عوام الناس یہ توقع رکھتے ہیں کہ جبہ و دستار، مخصوص مذہبی و دینی حُلیے، پھٹے پرانے کپڑوں میں زندگی کرے۔ کوئی کاروباری معاشی دیگر سرگرمیوں سے مکمل اجتناب کرے۔ ایسے میں فارغین مدارس ان میدانوں میں قدم جمانے کی کوشش کریں تو جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔
کہنے کو بہت ساری باتیں، دُکھ، درد، احساس، جذبات ہیں۔ لیکن دامن قرطاس میں جگہ نہیں۔ ہم سب کو مل کر ان خامیوں کے تدارک، خوبیوں کا پرچار کرنے کی ضرورت ہے۔ فارغین مدارس اس زمینی مخلوق سے ہٹ کر کوئی خلائی مخلوق نہیں۔ وہی گوشت و پوست کا مجموعہ، وہی سینے میں دل، وہی احساسات و جذبات کے حامل ہیں۔
اس دُنیا میں جینے کے لیے اُن تمام اسباب کا حصول ضروری ہے۔ جو اک عام انسان کے لیے ضروری ہے۔
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔


