مودی اور پاکستان کا معاشی مقام: سیاسی حکمت عملی یا زمینی حقیقت؟


بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کے لیے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ برسوں میں علاقائی سیاست اور اقتصادی ترقی دونوں میں برتری حاصل کی ہے۔ تاہم، ان کے ریمارکس نے اکثر پاکستان سے اقتصادی مشابہت پیدا کی ہے، جو مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔

مودی انتظامیہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہندوستان کی جی ڈی پی، غیر ملکی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنالوجی سبھی نے نمایاں ترقی کی ہے۔ تاہم، پاکستان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسے کرنسی کی قدر میں کمی، آئی ایم ایف پر انحصار، اور سیاسی عدم استحکام۔ کیا اس موازنہ کا سیاسی اثر ہے، یا یہ صرف معاشی ہے؟ مودی کا پاکستان کو موازنہ کے طور پر استعمال کرنا ان کے حامیوں میں شدید جذبات پیدا کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب انتخابات قریب آ رہے ہیں۔

اگرچہ ہندوستان کا معاشی غلبہ ناقابل تردید ہے، لیکن اس برتری کی بنیاد پر پڑوسی ملک کے زوال کی طرف مسلسل توجہ مبذول کرنا پڑوسی ریاست کے لیے کوئی مہربان پیغام نہیں ہے۔ معاشی حقائق کو تسلیم کرنا ضروری ہے، لیکن علاقے میں سلامتی اور امن کا دار و مدار بھی اچھی طرح سے اور تعمیری سفارتی نقطہ نظر پر ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں بیان دیا کہ ”ہم دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں 1947 میں ہم سے جدا ہوا تھا۔“ ایک طرف وزیراعظم مودی اس قسم کی بیان بازی کے ذریعے اپنے سیاسی ووٹ بینک کو مضبوط کر رہے ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم نہ صرف اپنی سابقہ سطح پر برقرار نہیں رہ سکے، بلکہ معاشی طور پر مزید نیچے چلے گئے ہیں۔ ہمارا ملک مکمل طور پر دوسرے ممالک کے قرضوں پر چل رہا ہے، اور ہم نے کبھی بھی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے نہ سنجیدگی سے سوچا اور نہ ہی عملی اقدامات کیے۔ سوائے ملک کو لوٹنے، برباد کرنے اور لوٹ مار کے بعد ملک سے فرار ہونے کے، کوئی سنجیدہ کام نہیں کیا گیا۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جب کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ پاکستان ان ممالک کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہے جہاں سے ہم نے قرضے لیے ہوئے ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ گویا یہ ایک قتل گاہ بن چکی ہے، اور اس کا بنیادی سبب معیشت کی کمزوری ہے۔

جن ممالک کی معیشت مضبوط ہے، وہاں دہشت گردی کا نام و نشان نہیں ہے۔ پاکستان جب بھی بین الاقوامی قرضے لیتا ہے، تو وہ دہشت گردی کے خاتمے جیسے نعروں کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور نئی ایجادات کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی سائنسدان جدید ٹیکنالوجی اور دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے سے قاصر ہیں۔

پاکستان کی معاشی کمزوری کے باعث ملک قیمتی معدنیات نکالنے سے بھی قاصر ہے، کیونکہ ریاست کے پاس ایسے مالی وسائل موجود نہیں جن کی مدد سے ان معدنیات کو موثر طریقے سے نکالا جا سکے، انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے، اور عالمی منڈی میں بہتر قیمت پر فروخت کیا جا سکے تاکہ حاصل شدہ آمدن سے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جا سکے۔

اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک واضح مثال شمالی وزیرستان کے علاقے ”لانڈ محمد خیل“ کی ہے، جہاں چین کی مدد سے تانبا اور کرومائٹ نکالا جا رہا ہے۔ ان معدنیات کو صاف اور کارآمد بنانے کے لیے چینی کمپنیوں کے پاس بھیجا جاتا ہے، جس کا زیادہ تر فائدہ چین کو ہوتا ہے، جبکہ پاکستان کو نہ ہونے کے برابر فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اب تک تقریباً 600 ملین ٹن تانبا چین بھیجا جا چکا ہے، مگر اس کا کوئی واضح فائدہ پاکستان میں نظر نہیں آتا۔

یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملکی ترقی اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے معاشی استحکام بنیادی حیثیت رکھتا ہے

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ برسوں میں بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں جی ڈی پی، غیر ملکی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان معاشی بحران، کرنسی کی گراوٹ، آئی ایم ایف پر انحصار، اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ مودی کی طرف سے پاکستان کا طنزیہ موازنہ سیاسی مقاصد، خاص طور پر انتخابی مہم، کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹرز میں جذبات ابھارے جا سکیں۔

پاکستانی معیشت کی زبوں حالی نے نہ صرف سیاسی بدحالی کو جنم دیا ہے بلکہ ریاست کو قیمتی معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے سے بھی محروم رکھا ہے۔ مالی وسائل کی کمی کے باعث معدنیات کو نہ تو موثر انداز میں نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں عالمی معیار کے مطابق تیار کر کے عالمی منڈی میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ ایک مثال شمالی وزیرستان کے علاقے لانڈ محمد خیل کی ہے، جہاں چین کی مدد سے تانبا اور کرومائٹ نکالا جا رہا ہے، لیکن اس کا بڑا فائدہ چین کو ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان کو بہت کم یا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

پاکستانی معیشت کی کمزوری کی وجہ سے تعلیم، تحقیق، اور سائنسی ترقی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ معاشی خودمختاری کے بغیر کوئی ملک ترقی، استحکام یا عالمی اثر و رسوخ حاصل نہیں کر سکتا۔ جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی کے لیے ایک متوازن، تعمیری اور باہمی احترام پر مبنی سفارتی رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS