بھوک دماغ سے محسوس ہوتی ہے یا پیٹ سے؟


یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے انسانی تجسس کو مہمیز کرتا رہا ہے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو ہمیں کھانے پر اکساتی ہے؟ کیا یہ ہمارے خالی پیٹ کی گڑگڑاہٹ ہے جو ہمیں خوراک کی تلاش پر مجبور کرتی ہے، یا یہ ہمارے دماغ میں موجود کوئی پوشیدہ مرکز ہے جو ہمیں بھوک کا احساس دلاتا ہے؟ بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال لگتا ہے، لیکن اس کی گہرائی میں انسانی جسم کی ایک پیچیدہ اور دلچسپ کہانی پوشیدہ ہے۔

آئیے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ بھوک کا مرکز درحقیقت کہاں واقع ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے۔

سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بھوک کا مرکز بنیادی طور پر ہمارے دماغ میں موجود ہوتا ہے، خاص طور پر ایک چھوٹے لیکن انتہائی اہم حصے میں جسے زیریں دماغ یا ہائپوتھیلمس (زیرِمہادماغ) کہتے ہیں۔ یہ حصہ دماغ کے نچلے حصے میں واقع ہوتا ہے اور ہمارے جسم کے کئی اہم افعال کو کنٹرول کرتا ہے، جن میں بھوک، پیاس، جسمانی درجہ حرارت، اور نیند کے دورانیے شامل ہیں۔

ہائپوتھیلمس کے دو خاص علاقے بھوک کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں : پہلا، جانبی ہائپوتھیلمس (Lateral Hypothalamus) جو بھوک کو بڑھاتا ہے، اور دوسرا، بطنی۔ میانی ہائپوتھیلمس (Ventromedial Hypothalamus) جو کھانے کے بعد پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے۔

سن انیس سو انتالیس عیسوی میں آنند اور بروبیک نامی دو محققین نے اپنی تحقیق میں جانبی ہائپوتھیلمس کو ”خوراک کا مرکز“ اور وسطی زیریں ہائپوتھیلمس کو ”سیر ہونے کا مرکز“ قرار دیا۔ ان کی اس دریافت نے بھوک کے میکانزم کو سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لی۔

جب ہمیں بھوک لگتی ہے، تو یہ ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جو جسمانی اور کیمیائی پیغامات کے ایک سلسلے کے ذریعے شروع ہوتا ہے۔ ان پیغامات میں ایک اہم کردار غرلین نامی ہارمون ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون ہمارے معدے سے خارج ہوتا ہے اور خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے۔ جب یہ ہارمون ہائپوتھیلمس تک پہنچتا ہے، تو یہ اسے متحرک کرتا ہے کہ جسم کو اب خوراک کی ضرورت ہے۔ اس اہم ہارمون کو سن انیس سو ننانوے عیسوی میں کوجیما اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا تھا۔

اس کے علاوہ، ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود خاص ریسیپٹرز بھی کھانے کی موجودگی یا عدم موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں۔ جب پیٹ خالی ہوتا ہے، تو معدہ سکڑنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں ہمیں بھوک کی تکلیف یا پیٹ میں گڑگڑاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہ سگنلز ویگس نرو نامی ایک اہم عصبی ریشے کے ذریعے دماغ کو بھیجے جاتے ہیں۔

سن انیس سو چون عیسوی میں جیمز اولڈز اور پیٹر ملنر نے اپنی تحقیق میں یہ انکشاف کیا کہ دماغ کے مخصوص نیورونز بھوک اور انعام کے نظام کے لیے بہت اہم ہیں۔ اس دریافت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھوک کا عمل صرف ایک جسمانی ضرورت ہی نہیں بلکہ اس کے نفسیاتی پہلو بھی ہیں۔ کھانے کا ذائقہ اور خوشبو ہمارے ہائپوتھیلمس کو مزید متحرک کر سکتی ہے، جس سے ہمیں اور زیادہ کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔

ہماری بھوک پر بیرونی عوامل بھی گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم کسی لذیذ کھانے کی خوشبو سونگھ لیں یا کسی اشتہار میں اشتہا انگیز کھانا دیکھ لیں تو ہمیں بھوک لگنے لگتی ہے، چاہے ہمارا جسمانی طور پر کھانے کا وقت نہ بھی ہو۔ نفسیاتی ماہر پال روزن نے بھوک کے ان نفسیاتی پہلوؤں پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہماری کھانے کی عادات اور بھوک کا احساس صرف جسمانی ضرورت تک محدود نہیں ہے۔

اگرچہ معدہ اور آنتیں بھوک کے بارے میں اہم سگنلز فراہم کرتی ہیں، لیکن بھوک کا اصل احساس ہمارے دماغ میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ معدہ ایک پیغام رساں کی طرح کام کرتا ہے جو دماغ کو بتاتا ہے کہ جسم کو خوراک کی ضرورت ہے۔ لیکن اس پیغام کو سمجھنے اور بھوک کے احساس کو پیدا کرنے کی ذمہ داری دماغ پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اس لیے، یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ بھوک محسوس کرنے کی بنیادی ذمہ داری دماغ پر ہی عائد ہوتی ہے۔

اب اگر ہم اس مسئلے کو سماجی اور نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ہمیں مزید دلچسپ پہلو نظر آتے ہیں۔

ہماری سماجی زندگی اور ثقافتی روایات ہماری بھوک اور کھانے کی عادات پر گہرا اثر انداز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمارے معاشرے میں مختلف اوقات میں کھانا کھانے کا رواج ہے، اور ہم عام طور پر ان اوقات کے قریب بھوک محسوس کرنے لگتے ہیں، چاہے جسمانی طور پر ہمیں اس وقت اتنی توانائی کی ضرورت نہ بھی ہو۔ تہواروں اور سماجی اجتماعات میں ہم اکثر اپنی جسمانی بھوک سے زیادہ کھا لیتے ہیں، جس کی وجہ سماجی دباؤ یا محض ماحول کی خوشگوار فضا ہوتی ہے۔ مختلف ثقافتوں میں کھانے کی دستیابی اور غذائی عادات بھی بھوک کے احساس کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہیں۔ کم آمدنی والے طبقوں میں غذائی قلت ایک مستقل مسئلہ ہے جو بھوک کے دائمی احساس کو جنم دیتا ہے، جبکہ خوشحال معاشروں میں ضرورت سے زیادہ خوراک کی دستیابی مختلف قسم کے کھانے کے عوارض کا سبب بن سکتی ہے۔

نفسیاتی عوامل بھی ہماری بھوک کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ جذبات، تناؤ، اور ذہنی حالت ہماری کھانے کی عادات اور بھوک کے احساس کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ تناؤ یا اداسی کی حالت میں زیادہ کھانا کھاتے ہیں، جسے جذباتی کھانا (ایموشنل ایٹنگ) کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، کچھ لوگ پریشانی یا غم کی حالت میں اپنی بھوک کھو دیتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ ہماری یادیں اور تجربات بھی ہماری بھوک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کسی خاص کھانے کی خوشبو یا ذائقہ ہمیں ماضی کی خوشگوار یادیں دلا سکتا ہے اور ہماری بھوک کو بڑھا سکتا ہے۔ کھانے کے عوارض جیسے کہ انوریکسیا نرووسا اور بلی میا نرووسا نفسیاتی مسائل ہیں جو بھوک کے ادراک اور کھانے کی عادات کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ بھوک کا احساس بنیادی طور پر ہمارے دماغ میں موجود ہائپوتھیلمس کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔ اگرچہ معدہ اور آنتیں اہم سگنلز فراہم کرتی ہیں، لیکن بھوک کا اصل ادراک دماغ میں ہی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سماجی اور نفسیاتی عوامل بھی ہماری بھوک اور کھانے کی عادات پر گہرا اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان تمام پیچیدہ تعاملات کو سمجھنا ہمیں نہ صرف اپنے جسم کی کارکردگی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ صحت مند کھانے کی عادات اپنانے اور مختلف قسم کے کھانے کے عوارض سے بچنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani