پروین شاکر کے ساتھ زیادتی

پروین شاکر کو پڑھتے ہی قاری کے ذہن میں پہلی رائے یہی قائم ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جو ناکام نسائی چاہت کی زبان بنیں۔ ان کے کلام کو رومانی احساسات کے منفرد اظہار اور انسانی زندگی کے رومانی المیوں کی کتھا کے طور پر ہی زیادہ تر دیکھا گیا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ صرف رومانوی شاعرہ کے طور پر محدود کرنا پروین شاکر کے ساتھ بڑی نا انصافی ہے۔ وہ انسانی زندگی کی ایسی نوحہ گر شاعرہ ہیں جو المیوں کو رومان کے آنچل میں لپیٹ کر دنیا کے سامنے پیش کرتیہیں۔ احساسات کی ترجمانی اور انسانی زندگی کے چھوٹے چھوٹے دکھ درد کو قلم کی زبان سے بیان کرنے پر جو عبور پروین شاکر کو حاصل تھا وہ ایسے درجنوں شعرا کو بھی نصیب نہیں ہوا جن شاعروں کو ہم دہائیوں سے ڈھو رہے ہیں۔
پروین شاکر کی خصوصیات میں دو چیزیں اسے ممتاز کرتی ہیں۔ پہلا انسانی زندگی کی محرومیوں کا نوحہ اور دوسرا بے مثال منظرنگاری اور ویزولائزیشن۔ پروین شاکر کے یہاں صرف رومانوی مباحث پانے والے ان کے کچھ ایسے اشعار کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں جو انہیں روایتی رومانوی شاعرہ کے دائرے میں محدود نہیں ہونے دیتے۔
بند باندھا ہے سروں کا میرے دہقانوں نے
اب میری فصل کو لے جائے سیلاب کہاں
پروین شاکر نے کسان کو بطور استعارہ بڑے سلیقے سے برتا ہے۔ ان اشعار میں کسان روایتی طور پر کھیتی کرنے والے فرد سے بڑھ کر معاشرے کے نہ جانے کتنے چہروں کا ترجمان نظر آتا ہے۔
یہی رہا ہے مقدر، مرے کسانوں کا
کہ چاند بوئیں اور ان کو گہن زمیں سے ملیں
پروین شاکر پر بات کرنے والوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ رومانت کی بھول بھلیوں میں گول گول چکر لگانے میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ انہیں سماجی مباحث کے نام پر پروین شاکر کے ہاں کچھ نظر ہی نہیں آتا جبکہ واقعہ یہ ہے کہ پروین شاکر سماج کے فکری دیوالیہ پن اور عمل سے عاری طبیعت کی جتنی نوحہ گر ہے اتنا تو بڑے بڑے شعرا بھی نہیں لکھ سکے۔
میں بچ بھی جاوں تو تنہائی مار ڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے
خواب غفلت میں پڑے سماج کو ٹہوکہ دے کر اٹھانے کی بجائے پروین شاکر اس کا شانہ جھنجھوڑ کر اسے جگانے کی کوشش کرتی ہے اور کبھی کبھی تو وہ اس نیند پر جھنجھلا بھی جاتی ہے۔
ایسی خالی نسل کے خواب ہی کیا ہوں گے
جس کی نیند کا سَر چشمہ ہی چرس میں ہے
ناعاقبت اندیشی اور کور نگاہی کا ٹھینکرا صرف نوجوانوں پر پھوڑنے کی اردو شاعری کی روایت کو پروین شاکر نے ایگے نہیں بڑھایا بلکہ اجتماعی جوابدہی یا کلیکٹیو اکاونٹبلیٹی کی زیادہ بات کی۔
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہلِ کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
بہت سے لوگوں نے پروین شاکر کو فیمینزم سے بھی جوڑا ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ پروین شاکر کے یہاں عورت شاعری کا مرکزی خیال ہے لیکن اس کے یہاں عورت کا تصور ذرا مختلف ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ پروین شاکر کے یہاں بھی کئی جگہ ہجر کی ماری عورت کی آہ و زاری نظر آتی ہے لیکن اس نے اسی عورت کو حوصلے اور عزم کا استعارہ بھی بنایا ہے۔
میں اِک نو زائیدہ چڑیا ہوں لیکن
پرانا باز ، مجھ سے ڈر رہا ہے
سپرد کرکے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤنگی
پروین شاکر کی شاعری کے بارے میں مندرجہ بالا چند بے ترتیب سطور، ان کی شاعری پر کوئی مضمون نہیں بلکہ دراصل کچھ ایسے چیدہ چیدہ نکات ہیں جن کے سہارے اس کی شاعری کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

