”مریم نواز پنجاب کی نئی تاریخ ساز“ مگر بھکر پھر نظرانداز
لیہ یونیورسٹی میں گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تاریخی اعلانات کیے، جن میں لیہ میں فوری میڈیکل کالج کی تعمیر، لیہ اور ڈی جی خان یونیورسٹیوں کے لیے 3 ارب روپے کے فنڈز، ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے تحت طلبہ کو لیپ ٹاپس اور اسکالرشپس کی تقسیم شامل ہیں، جن سے ہزاروں طلبہ مستفید ہوں گے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ ضلع بھکر، جو لیہ سے ملحقہ ہے، کے دو ایم این اے اور پانچ ایم پی اے میں سے ایک ایم این اے اور تین ایم پی اے کا تعلق نون لیگ سے ہے، لیکن سارے ترقیاتی پیکیج لیہ کو ملے، جہاں اراکین اسمبلی کی اکثریت کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔ یہ ہمارے علاقے کی بدقسمتی ہے یا بھکر سے تعلق رکھنے والے نون لیگی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی نا اہلی، اس کا فیصلہ عوام کریں۔ مجھے اس پروگرام میں شرکت کے لیے خصوصی دعوت دی گئی تھی، لیکن نجی و کاروباری مصروفیات کی وجہ سے میں نہ جا سکا، اس لیے آج ان کی کارکردگی پر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔
میرا دماغ تو ابھی تک اِس معاملے میں مکمل Confuse ہے کہ مریم صاحبہ نے زندگی میں پہلی بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا اور وہ بھی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا جہاں شہباز شریف کی Legacy کا مقابلہ کرنا تو دُور کی بات اُس تسلسل کو جاری رکھنا ہی ناممکن تھا مگر وہم و گمان میں نہیں تھا کہ مریم نواز اِتنی well prepared ہیں کہ وہ ایک سال میں اتنا کچھ Achieve کر لیں گی کہ پنجاب کے عوام ان کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کریں۔ ایک سال میں 90 سے زائد عوامی فلاح کے منصوبوں کا آغاز اور 50 سے زیادہ کی تکمیل کوئی معمولی بات نہیں۔ صاف ستھرا پنجاب پروگرام نے صوبے بھر میں صفائی کے نظام کو نئی جہت دی، جہاں 1,200 سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے، 500 سے زیادہ ویسٹ منیجمنٹ یونٹس قائم کیے گئے، اور 10,000 صفائی کارکنوں کو بھرتی کر کے دیہات سے شہروں تک کوڑا کرکٹ کے ڈھیر ختم کیے گئے، جس سے ماحول بہتر ہوا اور بیماریوں میں 30 فیصد کمی آئی۔ ائر ایمبولینس سروس نے دور دراز علاقوں میں ہنگامی طبی امداد کو ممکن بنایا۔ مریم کی دَستک پروگرام نے 60 سے زائد سرکاری خدمات گھر کی دہلیز پر پہنچائیں۔ آسان کاروبار کارڈ اور چیف منسٹر آسان کاروبار فنانس سکیم نے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے بالترتیب 10 لاکھ اور 3 کروڑ تک کے سود سے پاک قرضے متعارف کرائے۔ فری سولر پینل سکیم نے ایک لاکھ گھرانوں کو 550 واٹ اور 1100 واٹ کے سولر سسٹم مفت دیے، جو 57,000 ٹن کاربن اخراج کم کرنے کا باعث بنے۔ زرعی ٹیوب ویل سولرائزیشن پروگرام نے 8,000 ٹیوب ویلوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا، جس کے لیے 1 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام اور گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن نے 35 آئی ٹی مراکز میں ہزاروں نوجوانوں کو مفت کورسز دیے۔ گرین ٹریکٹر پروگرام نے کسانوں کو 10 لاکھ روپے سبسڈی پر ٹریکٹر فراہم کیے، جبکہ ایگریکلچر انٹرنشپ پروگرام نے 1,000 زرعی گریجویٹس کو عملی تربیت دی۔ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری (پی ایس ای آر) نے مستحق خاندانوں کی شناخت کے لیے شفاف ڈیٹا بیس بنایا۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام نے 30,000 طلبہ کو سالانہ 1.2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی۔ اقلیتوں کے لیے مینارٹی کارڈ اور کرسچن کمیونٹی کے لیے خصوصی سہولتوں نے سب کو برابر حقوق دیے۔ معذور افراد کے لیے ہمت کارڈ نے 10,500 روپے کی سہ ماہی امداد اور مفت خدمات متعارف کیں۔ دھی رانی پروگرام نے خواتین کی فلاح کو ترجیح دی، جبکہ سستے نرخوں پر روٹی نے عام آدمی کی زندگی آسان بنائی۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، لاہور میں نواز شریف کینسر ہسپتال، اور سرگودھا میں کارڈیالوجی ہسپتال نے معیاری طبی سہولتیں دیں۔ مریم نواز نے فائلوں میں بند منصوبوں کو زمین پر اتارا اور ہر طبقے کے مسائل کو سمجھ کر حل نکالا۔ ان کا ویژن واضح ہے کہ سیاست تنقید کا نام نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ ہے۔ ناقدین جہاں تشہیر پر تنقید کرتے ہیں، وہیں ان کے اقدامات کروڑوں کی زندگیوں میں بہتری لا رہے ہیں۔ مریم نواز نہ صرف شہباز شریف کی لیگیسی کو آگے لے جا رہی ہیں بلکہ ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں جو پنجاب کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گی۔


