وجود کی کیفیت


ایک مشہور قول ہے
”آپ جیسی زندگی جیتے ہیں اور جس دنیا میں رہتے ہیں وہ آپ کے اپنے انتخاب پر منحصر ہے۔“ آپ کے خیالات، جذبات، احساسات اور الفاظ آپ کے جسم کے ہر ایک خلیے کی سطح پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ پانی یادداشت رکھتا ہے، اور جب آپ کا جسم 70 فیصد پانی پر مشتمل ہو تو آپ کے اندر کے یہ مثبت یا منفی جذبات اسی پانی کو متاثر کرتے ہیں۔

امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام ہی نہیں ہے۔ امن ہوتا ہے جب آپ کے بچے گھر سے باہر محفوظ ہوں۔ جب آپ کی بچیاں باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس نہ کریں۔ جب آپ کو معاش کی تنگی نہ ہو۔ جب سب کو بنیادی ضروریات مہیا ہوں۔ جب ریاست اپنے آئین کی پاسداری کرے۔ آوازِ امن کے پیغام کے بعد ایک سوال ابھرتا ہے : امن کے بغیر کیا باقی رہ جاتا ہے؟

چلیں ہم سب خود سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟ کیا ہم ایک تیز دھار چاقو کی طرح ہر آنے والی صورتحال کو چیر پھاڑ دیں؟ بدقسمتی سے، آج کی عقل کا محرک زیادہ تر مالی مفاد بن چکا ہے، اور ہم کائنات کی حقیقتوں سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ جتنے انسان، اتنی سچائیاں، کیا یہ سچ نہیں۔ سب کا اپنا اپنا سچ ہوتا ہے۔ میں اگر یہاں یہ کہوں کہ اس وقت رات ہے تو وہ میرا سچ ہو گا۔ میرا آسٹریلیا میں رہنے والا دوست کہتا ہے یہاں دن ہے۔ تو ہم دونوں ہی سچے ہیں۔ لیکن کچھ سچ آفاقی ہوتے ہیں۔

لیکن یہ رویہ کہ ”میں صحیح ہوں، تم غلط“ ۔ ایک ادھورا سچ ہے۔ جب طاقت اور عقل اس سوچ سے کام لیتی ہے تو وہ اندھا دھند وار کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے حصول کے لیے قبائل سے لے کر عظیم سلطنتوں تک جنگیں لڑی گئیں۔ لیکن آج کا نیو نارمل کیا ہے؟

کیا یہ انسانیت کے دکھ میں لذت لینا ہے؟ درد دینے کے بعد کیا ہوتا ہے، کسی کے تڑپنے کا انتظار کرنا؟ اور پھر خود ساختہ سچائی میں گم ہو جانا؟ یہ کیسی بے حسی سے لبریز غرور ہے۔ کچھ برس پہلے ہم سب ایک امید میں جیتے تھے۔ ہم خوش تھے کہ اب دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ ہم معلومات رکھتے تھے، ترقی یافتہ قوموں کی دوڑ میں شامل تھے، ایک ایسے مثالی معاشرے کے خواب دیکھ رہے تھے جہاں کسی کی جان خطرے میں نہ ہو۔ مگر آج وہ خواب دھندلا چکے ہیں۔ کیا یہ لالچ ہے جس نے پرانی اقدار کو نگل لیا ہے؟ جب دوستی تھی، چاہے فرد سے فرد تک ہو یا ملکوں کے درمیان، خلوص پر مبنی ہوا کرتی تھی؟ کیا مفاد نے انسانیت کو کمتر کر دیا ہے؟ یا ہم نیشنلزم میں پڑ کر انسانیت کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں؟ یہ سب مجھے ایک پرانی کہانی یاد دلاتا ہے
ایک شخص، جو طاقت کے نشے میں چُور تھا ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے آب حیات پینے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ایک دانش مند دوست نے اسے روکا اور کہا:

”کیا تم نہیں سمجھتے ہو کہ ہمیشہ جینا کتنا بڑا عذاب ہے؟ میں ایک دن چلا جاؤں گا، تمہارے والدین، بیوی، بچے، ان کے بچے۔ سب مر جائیں گے، اور تم اکیلے رہ جاؤ گے۔ اس دنیا میں پھر تم کیا خوشی حاصل کرو گے؟“

وہ شخص چونک گیا، اس نے پانی کا پیالہ پھینک دیا اور ایک پُرامن زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
ہم سب کا وقت محدود ہے۔ ایک لمحے کی دیوانگی ہمارے جذبات کو برباد کر سکتی ہے۔ اور اگر ہماری عقل احساس سے زیادہ تیز ہو جائے، تو ہم انسانیت کے قصائی بن جاتے ہیں۔
قدرت میں کچھ وقت تنہائی میں گزاریے۔ آپ کو عجیب سی ندامت محسوس ہوگی۔ پتھر سے لے کر ہر ایک درخت کے پتے تک۔ ہر جاندار مخلوق دینے میں مصروف ہے۔ اور ہم، جو خود کو سب سے عقل مند سمجھتے ہیں، دوسروں کی حقیقتوں اور سچائیوں کو ماننے سے انکاری ہیں۔

آئیے ہم سب نفرت جیسے زہریلے جذبات کو چھوڑ دیں۔ یہی وہ جذبات ہیں جو ہمارے جسم کے پانی کو آلودہ کرتے ہیں، وہی پانی جو زندگی کے لیے ضروری غذائی اجزا پہنچاتا ہے۔ آئیے ہم امن کا انتخاب کریں اور ہر اس بری رسم کو ترک کر دیں جو دوسروں کی خوشیوں پر چھریاں چلائے اور لوگ ہمارے وقت سے پہلے جانے کی دعائیں کریں۔

Facebook Comments HS