سفر حج۔ چوتھا حصہ
صحن حرم میں ہوں کعبہ اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے رات کے اخیر پہر میں بھی مصنوعی لائٹس سے دن کا سماں بندھا ہوا ہے۔ کعبے کا غلاف نیچے سے تھوڑا اٹھایا ہوا ہے جیسے اکثر لوگ پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرلیتے ہیں۔ لاکھوں لوگ دیوانہ وار کعبے کی مقناطیسیت کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور اپنی اپنی زبانوں میں اپنے اپنے مولویوں کے بتائے ہوئے وظیفے پڑھ رہے ہیں۔
یہاں ایرانی گروپس نے موبائل پہ مرثیے لگائے ہوئے ہیں اور ہلکا ہلکا سینہ کوبی کرتے ہوئے خدائے ایزدی کی بارگاہ میں چل رہے ہیں۔ مجھے تو مرثیہ و نوحہ سن کر جو پہلا نام ذہن میں آتا ہے وہ ندیم جیکسن کا ہے سو ندیم بھائی کے لئے دعا کی اور نوحے کے بندھتے سماں میں جڑ گیا۔
ادھر انڈیا سے ایک بھائی امام احمد رضا خان کے کلام کا شعر بار بار کعبے کو دیکھ کر پڑھ رہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کعبے کا کعبہ تو مدینہ ہے۔ اور وہ یہ بات کعبے کو زور زور سے کہہ کہ جتا رہا تھا، وہ بھائی شاید یہ بات کعبے سے منوانا چاہتا ہے، کعبہ اسے بھی مسکرا کر ہی دیکھتا ہو گا۔
بنگلہ دیشی بھائی طواف کرتے ہوئے صرف یہی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کی عورت کو کسی نے چھوا تو نہیں۔ دو بار تو میں نے انہیں یقین دلایا کہ یار میں تو خود اپنی بیوی کے ساتھ ہوں آپ چکر لگائیں ان چکروں میں نہ پڑھیں۔
سب سے مزے میں افریقی ممالک کے لوگ ہیں جو کہ اس محاورے کے مصداق ہیں نہ ڈھولا ہو سی نہ رولا ہو سی۔
میری دانست اور مشاہدے کے مطابق کعبے میں نماز پڑھنے کے بعد جس چیز کو سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے وہ موبائل اور موبائل نیٹ ورک ہے جو کہ اک عمومی اندازے کے مطابق وجوب کا درجہ تک ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو موبائل نیٹ ورک صحن حرم سے ویڈیو کال اچھی طرح کنیکٹ کروا دے وہ اللہ کے ہاں زیادہ مقرب ہے۔ صحن حرم میں عبادت کرنے والے اور موبائل۔ استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں موبائل استعمال کرنے والے واضح برتری رکھتے ہیں کیونکہ اس مستقل جاری و ساری ایونٹ کا مہمان خصوصی و منظور نظر ہمیشہ سے کعبہ ہی ہے اس لیے کعبہ لوگوں کے اس رویے پہ ہرگز نالاں نہیں لگتا۔
صحن کعبہ میں بیٹھ کر مدینہ یاد کرنے کا لطف ہی الگ ہے کہ مدینے والے سرکار خود کعبے کے عشق میں مبتلا تھے۔ یہاں بیٹھ کر مدینہ کی بارگاہ وہاں کے مناظر سوچنے کا لطف ہی الگ ہے۔ اور پھر ایسا لگتا ہے جیسے مدینے کی باتیں سننا خود کعبے کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ممتاز مفتی نے لکھا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کعبہ کوئی زندہ چیز ہے جو باتیں کرتا ہے آپ کو دیکھتا ہے آپ کی سنتا ہے، میں صحن حرم سے اس بات پہ اپنی طرف سے مہر ثبت کرتا ہوں کہ کعبہ باقاعدہ اک زندہ چیز محسوس ہوتی ہے۔ اور وہ واقعی ہر ایک سے اس کی مناسبت و مطابقت سے بات کرتا ہے۔
دن گزرتے گئے اور بالآخر منی روانگی کا وقت قریب آ گیا ہے یعنی اصل مراد سفر، کل منی کے لئے روانگی ہے خدا کے بے تحاشا احسانات و کرم میں مزید اضافہ یہ سفر ہے۔
اک دوست و مربی ہیں انہوں نے
خواہش کی تھی کہ جب حج پہ جائیں تو میرا دیا ہوا احرام پہنیں۔
کسی بھی مرد کی جانب سے میرے برہنہ جسم کو صرف اس کی دی ہوئی چادر سے ڈھانپنے کی یہ پہلی اور شاید آخری خواہش ہے جو میں جسم میں جھرجھری محسوس کرتے ہوئے پوری کروں گا اور عین وقت جھرجھری انہیں یاد بھی کروں گا۔


