جغرافیائی سے زیادہ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ اہم ہے


کہتے ہیں کہ دنیا میں صرف دو ہی نظریاتی ریاستیں ہیں، ایک پاکستان جو برصغیر کے مسلمانوں کے لئے دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا تھا، اور دوسرا اسرائیل جو دنیا بھر کے یہودیوں کے لئے
صیہونی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

آپ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ نظریاتی سرحدیں اہم نہیں ہوتیں۔ ہمیں بھی یہ کوئی خاص اہم نہیں لگتی تھیں کیونکہ پاکستان میں نظریہ خواہ کوئی بھی ہو، اس کا ہندوستان، چین، ایران یا افغانستان میں ضم ہونا ممکن نہیں ہے اور یہ الگ ملک کے طور پر ہی وجود برقرار رکھے گا۔ ہماری یہ گمراہی اس وقت ختم ہوئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ نشاندہی کی کہ ’جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تو اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں جبکہ نظریاتی سرحد کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔ اگر نظریاتی سرحدیں نہ رہیں تو پھر جغرافیائی سرحدوں کا دفاع بھی مشکل ہے‘۔

بخدا ہم تو ہکے بکے رہ گئے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہماری عدلیہ ہماری نظریاتی سرحدوں کا تحفظ اسی جی جان سے کر رہی ہے جیسے افواجِ پاکستان ہماری جغرافیائی سرحدوں کا کیا کرتی ہیں۔ عدلیہ کے علاوہ یہ کام دفاع پاکستان کونسل، طالبان کے گاڈر فادر کہلائے جانے والے مولانا سمیع الحق صاحب، اور جماعت اسلامی وغیرہ جیسی تنظیمیں بھی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کی طرف سے اسلامی جمعیت طلبہ بھی ان سرحدوں کی حفاظت ملکی جامعات میں کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اس سے ہمیں تو یہی سمجھ آیا ہے کہ جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لئے ہمسایہ ملکوں کے فوجیوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو۔ نیز ان سرحدوں کا تحفظ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو سرکار کوئی اختیار دے۔ آپ ذاتی طور پر بھی اپنی ذاتی نظریاتی سرحد قائم کر کے اس کا تحفظ کرنے کی خاطر دوسرے شہریوں کو مار پیٹ سکتے ہیں۔ آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا ہے تو پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن والوں سے پوچھ لیں۔

بہرحال 1970 کے انتخابات کے بعد ہماری قوم کے حکمرانوں نے شیخ مجیب الرحمان کے چھے نکات کو دیکھ کر یہی فیصلہ کیا تھا کہ ’اگر نظریاتی سرحدیں نہ رہیں تو پھر جغرافیائی سرحدوں کا دفاع بھی مشکل ہے‘۔ ہم نے نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کا فیصلہ کیا اور جغرافیائی سرحدوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اب ادھر بنگلہ دیش کو ہی دیکھ لیں۔ بچاروں کے پاس نظریاتی سرحدیں ہی نہیں رہیں اور وہ پریشان بیٹھے ہیں کہ جغرافیائی سرحدوں کا اچار ڈالیں یا کیا کریں۔ وہ بھی دنیا کے ان باقی دو سو ممالک کی طرح ہی ہیں جو اپنی نظریاتی سرحدوں کی غیر موجودگی کے سبب اپنی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں۔

خدا کا شکر ہے کہ ابھی بھی ہماری نظریاتی سرحدیں قائم و دائم ہیں۔ نظریہ ہی نہ رہے تو لوگوں اور زمین کا کیا کرنا ہے۔ اہمیت نظریات کی ہوتی ہے، شہریوں کی نہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar