جدید مغرب اور ہمارے فرسودہ مغالطے

رشوت، سفارش اور کرپشن ہماری نسبت سینکڑوں نہیں ہزاروں گنا کم ہے۔ جھوٹ اور منافقت کا تو تقابل کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہاں انصاف کا خون ہوتے نظر نہیں آتا۔ کوئی کسی کی جائداد پر قابض ہوتا ہے نہ کسی کا حق مار سکتا ہے۔ کوئی کسی کی عزت نفس پرحملہ نہیں کرتا۔ مال پٹوار کا یہاں رواج نہیں۔ نوکر شاہی اور سرکاری افسر سے عام لوگوں کو کوئی کام، کوئی سروکار نہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک طبقاتی سماج ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق ہے۔ مگر یہ معاشی تضاد کسی سماجی تضاد کی شکل میں سامنے نہیں آتا۔ بلکہ بسا اوقات کروڑپتی اور عام فیکٹری مزدور ایک ہی طرح کی خوراک، پوشاک اور رہاش رکھتے ہوئے نظر اتے ہیں۔ سماج کی ایک پرت میں غربت بھی ہے۔ مگر یہ صرف غربت ہے روگ نہیں ،زلت نہیں۔ اس غربت کی وجہ سے کوئی بھوکھا نہیں سوتا۔ کوئی ننگے پاوں نہیں چلتا۔ کوئی سردی سے نہیں مرتا۔ کوئی بیمار دوا نہ ہونے کی وجہ سے دم نہیں توڑتا۔ کسی کو کینسر کے مہنگے علاج کے لیے چندے کی اپیلیں نہیں کرنی پڑتیں۔ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں ہوتا۔ انصاف ہر ایک کو میسر ہے۔ جو ملزم جو اپنی صفائی کے لیے وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے سرکار ان کی صفائی پر کھربوں خرچ کرتی ہے۔ یہ جو پورا نظام زندگی قائم ہے اس میں عیسائیت کا یا چرچ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ریاستیں مکمل طور پر سیکولر ہیں۔ قوانین سیکولر ہیں۔ اس کے بر عکس ہمارے نظام ہیں جس میں ہر چیز مذہب سے شروع ہو کر مذہب پر ختم ہو تی ہے۔ ملکوں کے نام مذہبی ہیں۔ آ ئین و قوانین مذہبی ہیں۔ تعلیم اور ثقافت سمیت زندگی کے ہر شعبے پر مذہب کی گہری چھاپ ہے۔ ہماری ہر سماجی اور اخلاقی قدر مذہبی ہے۔ لوگ جھوٹ سے اس لیے اجتناب نہیں برتتے کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ وہ جھوٹ بولنے سے اس لیے اجتناب کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے۔ اور گناہ کی اگلے جہاں میں سزا ہو گی۔ یہ بات ہر برائی ہر جرم پر صادق آتی ہے۔ گویا ہمارے ہاں اچھے کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی وجہ مذہب ہے۔ گناہ و ثواب کا تصور ہے۔ دوزخ کا خوف ہے۔ جنت کی لالچ ہے۔ اس قدر گہری مذہبی اخلاقیات رکھنے کے باوجود ہم جب نتائج کے اعتبار سے مغرب سے اپنا موازنہ کرتے ہیں تو سر چکرا دینے والے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔
ہمارے ہاں عام سماجی اور معاشی لین دین میں جھوٹ، منافقت، بددیانتی کی شرح کیا ہے؟ ہمارے ہاں نا انصافی کی کیا کیا شکلیں ہیں۔ موت و پیدائش کے سرٹیفیکیٹ لینے سے لیکر بیمارکوہسپتال میں داخلے کے لیے رشوت اور سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔ غریب اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں بچوں کو قلم اور کتاب تک رسائی نہیں۔ امیر اور غریب کے درمیاں فرق صرف معاشی نہیں۔ یہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہے۔ امیر کاغرور و تکبر چھپائے نہیں چھپتا۔ غریب کے لیے حقارت اس کے چہرے سے ٹپکتی ہے۔ اخلاقی اقدارروبہ زوال ہیں۔ اس کے باوجود ہم اپنے اپ کو مغرب سے برتر سمجھنے پر بضد ہیں۔ اور اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ مغرب میں سب کچھ غیر اخلاقی اور شیطانی ہے۔ اور اگر کچھ اچھا ہے تو بس وہ اقدار جو اس نے ہم سے چرائی ہیں۔ مگر اب جدید ڈیجیٹل دور اور نت نئے ذرائع ابلاغ روزانہ ہمارے ان مغالطوں کو بے نقاب کر تے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم احساس برتری کے خبط سے نکل کر سچائی کا سامنا کریں۔

