دریائے سندھ طاس کا مستقبل: قانون اور قدرتی حقوق کے درمیان ایک نیا راستہ


بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی نہ صرف جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کے دیرینہ نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ عمل پاکستان کے لیے ماحولیاتی، سفارتی اور قانونی لحاظ سے ایک شدید بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جو سرد جنگ، تین جنگوں اور بے شمار سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود قائم رہا۔ اب، جب دریائے سندھ کا نظام عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے، تو لازم ہے کہ ہم نئی راہوں کی تلاش کریں۔ ایسی راہیں جو صرف سیاست یا طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون، انصاف اور قدرتی ماحولیاتی حقوق کے اصولوں پر استوار ہوں۔

عالمی سطح پر، پانی کی تقسیم سے متعلق دو نمایاں رجحانات ابھر کر سامنے آئے ہیں : پہلا، بین الاقوامی آبی قانون کا روایتی فریم ورک؛ اور دوسرا، دریاؤں کو زندہ وجود تسلیم کرنے کا ابھرتا ہوا تصور جسے ”دریاؤں کے حقوق“ (Rights of Rivers) کہا جاتا ہے۔

بین الاقوامی آبی قانون، جو کئی دہائیوں سے قوموں کے درمیان دریا کے پانی کے منصفانہ اور معقول استعمال کا ضامن رہا ہے، آج بھی اپنی افادیت رکھتا ہے۔ اس قانونی روایت کی بنیاد 1966 کے ”ہلسنکی اصول“ پر پڑی، جنہوں نے پہلی بار اس تصور کو جنم دیا کہ سرحد پار بہنے والے پانی کو سب فریق منصفانہ طریقے سے استعمال کریں گے۔ اس کے بعد 1997 میں اقوامِ متحدہ نے ”واٹر کورسز کنوینشن“ کے ذریعے پانی کے بہاؤ، نقصان نہ پہنچانے، اور تعاون کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو باقاعدہ قانونی شکل دی۔ 2014 میں یہ معاہدہ نافذ ہوا اور اب تک متعدد ممالک اس کا حصہ بن چکے ہیں۔

دوسری طرف، ایک نئی قانونی اور اخلاقی سوچ دنیا میں ابھری ہے، جس میں دریا کو محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ ایک جاندار، خودمختار وجود کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ سوچ ”یونیورسل ڈیکلریشن آف دی رائٹس آف ریورز“ کے ذریعے عالمی سطح پر سامنے آئی، جس میں کہا گیا کہ ہر دریا کو بہنے، صاف رہنے، قدرتی طور پر خود کو بحال کرنے، اور اپنی نمائندگی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ نیوزی لینڈ نے 2017 میں وہانگانوی دریا کو قانونی شخصیت دے کر ماؤری برادری کے نمائندے بطور سرپرست مقرر کیے۔ اسی برس کولمبیا میں اتراتُو دریا کو حقوق دیے گئے تاکہ جنگلات کی کٹائی اور آلودگی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے 2019 میں تمام دریاؤں کو قانونی حیثیت دے کر ماحولیاتی تحفظ کی طرف عملی قدم اٹھایا۔

یہ سوچ کہ دریا بھی ایک قانونی فریق ہو سکتا ہے، بظاہر غیر روایتی لگتی ہے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دور رس ہیں۔ اگر پاکستان بھی اس ماڈل کو اپنائے، اور دریائے سندھ کو ایک زندہ ماحولیاتی وجود مان کر اس کے حقوق متعین کرے، تو ہم اس دریا کے استحصال سے گریز کرتے ہوئے اسے ماحولیاتی توازن کی بنیاد بنا سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون (جو ریاستی خودمختاری اور معاہداتی فریم ورک پر زور دیتا ہے ) اور دریا کے حقوق (جو قدرتی وجود کی خودمختاری اور ماحولیاتی توازن کو مقدم رکھتے ہیں ) کو یکجا کیا جا سکتا ہے؟ جواب ہاں میں ہے۔ ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو قانونی سختی کے ساتھ ساتھ اخلاقی وسعت بھی رکھتا ہو۔ بین الاقوامی قانون ”نقصان نہ پہنچانے“ اور ”منصفانہ استعمال“ جیسے اصول دیتا ہے، جب کہ دریاؤں کے حقوق کا تصور دریا کو نقصان سے بچانے کے لیے فطری اور اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے۔

یہ دونوں نقطہ نظر مل کر ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، جس میں ریاستیں نہ صرف پانی بانٹیں بلکہ دریا کو ایک مشترکہ قدرتی ورثہ سمجھ کر اس کی نگہداشت بھی کریں۔ جنوبی ایشیا میں ایسا تصور نیا ہے، مگر دنیا کے دوسرے خطوں۔ خاص طور پر میکونگ دریا کے خطے میں۔ اس طرز کی کوششیں پہلے سے جاری ہیں۔ وہاں میکونگ ریور کمیشن ریاستوں کے درمیان تعاون، ڈیٹا شیئرنگ/ معلومات کا تبادلہ، اور ماحولیاتی تحفظ کا ایک متحرک پلیٹ فارم ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو صرف ایک سفارتی تنازع نہ سمجھے، بلکہ اسے ایک موقع سمجھے کہ وہ اپنی پانی کی پالیسی اور سفارت کاری کو جدید بنیادوں پر استوار کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے ادارے۔ صوبائی آبپاشی کے محکمے، واپڈا، ارسا، وزارت آبی وسائل، محکمہ جنگلات، ماہرین ماحولیات، اور قانونی ماہرین۔ سب مل کر کام کریں اور ایک ایسا بین الریاستی فریم ورک وضع کریں جس میں دریا کا ماحولیاتی وجود مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔

یقیناً، دریا کے حقوق کا ماڈل اپنی جگہ کئی چیلنجز رکھتا ہے۔ بھارت میں گنگا اور جمنا کو وقتی طور پر قانونی حقوق دیے گئے مگر بعد میں عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان فیصلوں پر عمل نہ ہو سکا۔ ایکواڈور میں ولکابامبا دریا کو حقوق دیے گئے لیکن نفاذ کی کمزوری نے اس کامیابی کو محدود کر دیا۔ ان مثالوں سے ہمیں سیکھنا ہو گا کہ قانون بنانا کافی نہیں اس پر عملدرآمد کے لیے مضبوط ادارے، تربیت یافتہ افراد، سیاسی عزم، اور عوامی شعور بھی ناگزیر ہے۔

پاکستان کے لیے اب وقت آ چکا ہے کہ وہ دریا کو محض ایک معاشی وسیلہ نہیں بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام سمجھے۔ ایک ایسا نظام جو ہماری زراعت، موسمیاتی توازن، اور نسلوں کی بقا سے جڑا ہوا ہے۔ قانون اور حقوق کے اس امتزاج میں ہی شاید وہ مستقبل چھپا ہے جس کے ذریعے ہم دریائے سندھ کو بچا سکتے ہیں۔ نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔

Facebook Comments HS