مون سون 2025: ہلاکتیں، سیلاب، اور ماحولیاتی خطرات

پاکستان 2025 کے مون سون سیزن کا ایک مشکل اور المناک آغاز برداشت کر رہا ہے، جہاں 26۔ 27 جون سے شروع ہونے والی بارشوں سے 10 جولائی تک ملک بھر میں کم از کم ستاسی افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ افسوسناک ہلاکتیں مختلف بارش سے جڑے حادثات جیسے کہ فلیش فلڈ، مکانوں کا منہدم ہونا، آسمانی بجلی گرنا، اور ڈوبنے کے واقعات سے ہوئی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )

Read more

سندھ کے ساتھ نا انصافی کا دہرایا جانے والا باب

سندھ کئی دہائیوں سے ابتدائی خریف کے موسم میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے، جس کا اثر سندھ اور بلوچستان کی پوری خریف کی فصل پر پڑتا ہے۔ سندھو دریا پر بنے تربیلا ڈیم، جس کی ملکیت واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے پاس ہے، سے پانی چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کے مصنوعی بحران کو ایک غیر منصفانہ فیصلے کی شکل دے دی گئی۔ یہ بحران کوئی قدرتی آفت نہیں تھا، بلکہ کمزور پالیسیوں اور

Read more

مون سون 2025 : سیلاب کا خطرہ اور ہماری لچک

دادو کے نزدیک، سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، 2022 کی تباہ کن بارشوں کے بعد ایک بوڑھی عورت اپنی گری ہوئی جھونپڑی کے باہر بیٹھی کہہ رہی تھی، ”پانی تو آیا، لیکن باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ نہ بہاؤ کا، نہ بچنے کا۔“ وہ منظر آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے۔ گاؤں پانی میں ڈوبا ہوا، آسمان مسلسل برستا رہا، اور لوگ بے بسی کے عالم میں سر جھکائے بیٹھے تھے۔ ایسی تھی وہ بے

Read more

پاکستان کی سیاحتی آفتیں : فہم عامہ، قابلیت اور انصاف کا فقدان

  قومیں اور ممالک تاریخ، تجربے، مشاہدے، علمی فکر اور تدبر سے سیکھتے ہیں۔ لیکن کچھ ممالک اور لوگ سیکھنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ جہالت، مشترکہ ضد، کند ذہنی اور حاکمانہ/مالکانہ عنصر کی وجہ سے نہ سیکھنے اور نہ ہی کچھ کرنے کی صلاحیت باقی رہ جاتی ہے۔ ہماری سیاسی، سماجی، علمی، حکومتی، ریاستی اور ادارتی سمجھ، فہم اور منصوبہ بندی دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتی ہے جہاں آفتوں /ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کی قوت بہت

Read more

پاکستان میں پانی کا بحران: شفافیت اور مشترکہ طرزِ حکمرانی کا امتحان

پاکستان اس وقت ایک کثیر جہتی اور وسیع پانی کے بحران کا شکار ہے، جو بنیادی طور پر سیاسی فیصلہ سازی (سیاسی و غیر سیاسی حکومتوں کی طرف سے ) ، اس کے نتیجے میں تکنیکی مسائل، اور اب موسمیاتی تبدیلی، اداراتی ناکامی، اور وفاقی۔ صوبائی عدم اعتماد کی صورت میں قومی اہمیت کے مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ صورتحال صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں رہی؛ یہ خوراک کی سلامتی، معاشی استحکام، اور وفاقی اتحاد

Read more

عالمی امن: جنگ کے بجائے سفارت کاری ہی راستہ ہے

ایک ایسی دنیا میں جو کئی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، یوکرین میں جاری تنازعے سے لے کر غزہ میں تباہ کن انسانی بحران تک، مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز جیسی شخصیات کے حالیہ بیانات ان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھنے کے لیے ایک اہم نقطہ نظر ایران کے ساتھ وسیع تر تنازعے کے امکان کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ ان کی تصفیہ اور سفارت کاری کے لیے جذباتی اپیل

Read more

ٹرمپ کا ایران مخمصہ: ایک کٹھن انتخاب جس میں آسان فتح نہیں

(یہ مضمون الجزیرہ کو حال ہی میں دیے گئے سینئر سیاسی تجزیہ کار مروان بشارا کے انٹرویو پر مبنی ہے ) الجزیرہ پر ہونے والی ایک اہم بحث میں، سینئر سیاسی تجزیہ کار مروان بشارا نے ایک ممکنہ ٹرمپ صدارت کو درپیش اہم فیصلے کا جائزہ لیا ہے : آیا ایران پر بمباری کی جائے یا غیر فوجی راستہ اختیار کیا جائے۔ ”ٹرمپ کا ایران مخمصہ بمباری کریں یا نہ کریں، ان کی صدارت کو تباہ  کر سکتا ہے“ کے

Read more

ابتدائی وارننگ سسٹم اور آفات

گزشتہ کئی صدیوں سے انسانوں نے اپنے مشاہدے، تجربے اور مقامی روایتی علم (Indigenous Knowledge) کی بنیاد پر قدرتی آفات سے بچاؤ کے طریقے سیکھے اور ابتدائی وارننگ سسٹمز کو فروغ دیا۔ ان روایتی طریقوں نے زندگی اور معیشت کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا، اور آج بھی کئی علاقوں میں ان کی افادیت برقرار ہے۔ انسانوں نے صدیوں قبل ہی فطری نشانیوں، جانوروں کے برتاؤ، ہوا کے رخ، اور دیگر علامات سے خطرات کی پیشگی اطلاع دینے کے

Read more

دریائے سندھ طاس کا مستقبل: قانون اور قدرتی حقوق کے درمیان ایک نیا راستہ

بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی نہ صرف جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کے دیرینہ نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ عمل پاکستان کے لیے ماحولیاتی، سفارتی اور قانونی لحاظ سے ایک شدید بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جو سرد جنگ، تین جنگوں اور بے شمار سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود قائم رہا۔ اب، جب دریائے سندھ کا نظام عدم تحفظ کا شکار ہو

Read more

عورتوں اور لڑکیوں کے لیے تپتی ہوئی زمین

پاکستان اس وقت ایک خوفناک حقیقت کی زد میں ہے یہ ملک اپنی عورتوں اور لڑکیوں کے لیے ایک دہکتا ہوا آتش فشاں ہے۔ ان کی روشن اور امیدوں سے بھری زندگیاں بے رحمی سے ختم کی جا رہی ہیں، گویا وہ ایندھن ہوں۔ یہ یورپی تاریخ کے تاریک دور کی یاد دلاتا ہے، جب عورتوں کو جادوگری کا الزام لگا کر جلایا جاتا تھا صرف اس لیے کہ انہوں نے مردوں کی جانب سے مسلط کردہ حدوں کو توڑنے

Read more

سندھ طاس معاہدہ اور جنوبی ایشیا کا امن

سندھ طاس / دریائے سندھ کے پانی کا معاہدہ (IWT) ، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی سے ہوا، طویل عرصے سے ہائیڈرو ڈپلومیسی / پانی والی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر سراہا جاتا رہا ہے۔ سندھ، ماحولیات اور ڈیلٹا اگرچہ اس کے متاثرین ہیں۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں (ستلج، راوی، اور بیاس) کے لامحدود استعمال کا حق ملا اور پاکستان کو مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، اور

Read more

شناخت کے دھاگے، قوم کے ستون: سندھ کی لازوال میراث

اجرک کے شوخ رنگ اور سندھی ٹوپی کی پیچیدہ دست کاری محض روایتی لباس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ وادی سندھ کی تہذیب کی جیتی جاگتی تاریخ ہیں، ایک ایسی شناخت سے ٹھوس روابط جو اس سرزمین پر ہزاروں سالوں سے پروان چڑھی ہے۔ یہ علامات، جو سندھ کی مقامی ہیں اور بلوچستان نیز جنوبی پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں بھی (مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کے امتزاج کے ساتھ) قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، ایک ایسے ثقافتی

Read more

سندھ طاس معاہدے کے دیگر پہلو

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک قابلِ غور اور کثیر جہتی تجزیہ معروف بین الاقوامی آبی ماہر اور آبی جغرافیہ کے شناور، دانش مصطفیٰ صاحب کے خیالات پر مبنی ہے، جو انہوں نے اپنے مضمون ”پاکستان سندھ طاس معاہدے کی بھارتی معطلی سے کچھ نہیں کھوتا“ میں پیش کیا ہے۔ ذیل میں اس تجزیے کے اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اور جو خیالات میں نے تجزیاتی ترجمہ کرتے ہوئے اپنے طرف سے لکھے ہیں وہ بریکٹ میں

Read more

سندھ ڈیلٹا کی زندگی کا بحران: پانی کی مسلسل کمی، ماحولیاتی تباہی اور اس کے وسیع اثرات

سندھ ڈیلٹا، جو دنیا کے سب سے بڑے اور متنوع ترین دریائی ڈیلٹاؤں میں شامل ہے، پاکستان کے جنوبی ساحل پر واقع ہے، جہاں سندھو ندی بحیرہ عرب سے جا ملتی ہے۔ یہ علاقہ کبھی حیاتیاتی تنوع، مینگرووز/ تمر، ماہی گیری اور لاکھوں افراد کے روزگار کا مرکز تھا۔ مگر آج یہ نظام حیات، ایک شدید اور مسلسل زوال پذیر رجحان کی لپیٹ میں ہے۔ جس کی بنیاد پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ کوٹری بیراج کے

Read more

دریاؤں کے بہاؤ میں کمی اور پانی کا مستقبل

پاکستان کے وہ علاقے جو صدیوں سے سندھُو دریا اور اس کے معاون دریاؤں کے فیضان سے سرسبز رہے ہیں، آج ایک ایسے سنگین آبی بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں جو اس کے زرعی ڈھانچے، ماحولیاتی توازن اور توانائی کے نظام کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔ اور یہ بحران سندھ پہلے ہی سے جھیل رہا ہے۔ 1980 سے 2022 تک دریاؤں کے بہاؤ کے اعداد و شمار کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ مغربی دریاؤں (سندھُو، جہلم، چناب) اور مشرقی

Read more

مودی کا چیلنج اور پاکستان کی راہِ استقامت: ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی قوم

  جنوبی ایشیا اس وقت ایک بار پھر کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حالیہ تقریر، جو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی طرف سے کیے گئے ”آپریشن سندور“ کے تناظر میں دی گئی، ایک بار پھر خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہی ہے۔ مودی کا لب و لہجہ نہ صرف اشتعال انگیز تھا بلکہ ایک کھلا پیغام بھی کہ بھارت کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ انہوں نے

Read more

بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی: امن اور ترقی کے لیے امید کا لمحہ

  10 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بھارت اور پاکستان نے ایک ”مکمل اور فوری جنگ بندی“ پر اتفاق کیا ہے، جس کی تصدیق دونوں ممالک نے کی۔ یہ اعلان، جو امریکی کوششوں کے ذریعے گزشتہ رات کی طویل بات چیت کے بعد سامنے آیا، علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں زمین، ہوا اور سمندر پر تمام فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔ یہ کروڑوں انسانوں کے

Read more

آئیے امن کا انتخاب کریں

پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جنوبی ایشیا میں جنگ کے خوف کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ جیسے جیسے بیان بازی تیز ہوئی ہے، قومی جوش دونوں ممالک کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور جنگی جنون پورے خطے کے لیے تباہی لا سکتا ہے۔ پاکستان میں تیس سے زائد شہادتوں کے باوجود پاکستان کا صبر اور حکمت عملی تدبر کا مظہر ہے۔ اسے کمزوری سمجھنا جہالت ہے۔

Read more

پاکستان میں معمول سے زیادہ مون سون: آنے والے مہینوں میں کیا توقع کی جائے

جدید موسمیاتی پیشین گوئی کے مرکز میں یہ کمپیوٹر پروگرام ہیں، جنہیں موسمیاتی ماڈل کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر زمین اور اس کے ماحول کو ایک بڑے سہ جہتی گرڈ میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھر اس گرڈ کے ہر نقطہ پر مستقبل کے موسمی حالات کی پیشین گوئی کرنے کے لیے حسابات کیے جاتے ہیں۔ مختلف قسم کے موسمیاتی ماڈل ہیں، ہر ایک مخصوص مقصد کے لیے کام کرتا ہے۔ عالمی ماڈل پورے سیارے کا احاطہ کرتے ہیں

Read more

سندھ طاس معاہدے کی معطلی : بھارت کا سفارتی پاگل پن اور پاکستان کا ردعمل

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے /انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) کو معطل کرنے کا فیصلہ صرف ایک سفارتی چال نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا جغرافیائی سیاسی قدم ہے، جس کے خطے کے امن، استحکام اور پانی کے سرحد پار انتظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا سخت اور متنوع ردعمل محض رسمی احتجاج نہیں، بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی کا عکاس ہے، جسے محض خبروں کی سرخیوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اسلام آباد کا

Read more

عوام کی بھی جیت ہوتی ہے

28 اپریل 2025 کو، پاکستان کی مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) نے ایک اہم فیصلہ کیا جس نے متنازع نہروں کے منصوبے کو روک دیا، اور اس کی گونج اسلام آباد کے ایوانوں سے کہیں آگے تک پہنچی۔ سندھ کے عوام کے لیے، جنہوں نے اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی دنوں سے شاہراہوں پر دھرنے اور عوامی مظاہرے کیے، یہ پرامن جدوجہد کی شاندار فتح تھی۔ سندھ کے عوام کے لیے، پانی کے حقوق

Read more

1948 ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی کا عارضی معاہدہ

1947 ء میں جب ہندوستان اور پاکستان دو آزاد ریاستوں کے طور پر سامنے آئے اور برصغیر کی تقسیم ہوئی، تو سندھ طاس کا نظام بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ خاص طور پر مشرقی اور مغربی پنجاب کے صوبے نہ صرف خونریز تقسیم کے ساتھ بٹے بلکہ اپنے ہیڈ ورکس اور نہریں بھی بانٹ بیٹھے۔ مثال کے طور پر فیروزپور اور مادھوپور ہیڈ ورکس مشرقی پنجاب میں رہ گئے، جبکہ ان سے نکلنے والی نہریں مغربی پنجاب کو

Read more

پنجاب حکومت کا محبت نامہ اور سندھ کے درد

پنجاب حکومت کی جانب سے حالیہ بیانات اور خط نے پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک بحث کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ارسا ایڈوائزری کمیٹی (IAC) کی جانب سے ابتدائی خریف 2025 کے دوران 43 فیصد پانی کی قلت کے تخمینے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، حقائق اور اعداد و شمار کا بغور جائزہ لینے سے ایک زیادہ پیچیدہ صورتحال سامنے آتی ہے، جو منصفانہ آبی انتظام کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور

Read more

کوٹری سے نیچے ماحولیاتی بہاؤ اور ماحولیاتی نسل کشی

پانی، زندگی کا عین جوہر، بے شمار رنگوں اور صورتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ اور یہ جوہر لے کر دریائے سندھ پاکستان کے اور علاقوں کو سیراب کرتا ہوا، نیم صحرا سندھ میں زندگی کی نوید بن کر داخل ہوتا ہے! تاہم، کئی دہائیوں سے ایک مسلسل صدا گونج رہی ہے : ”سندھ والے پانی کا بے دریغ اسراف کرتے ہیں! کالا باغ ڈیم کی ان کی پرزور مخالفت کی کیا وجہ ہے؟ کوٹری سے نیچے کھربوں روپوں کا

Read more

کھوئی ہوئی جمہوریت، حقوق اور نہروں کے خلاف تحریک

جب سے معاشرہ وجود میں آیا ہے، تب سے کسی نہ کسی شکل میں سماجی تحرک معاشرے کے جسم میں خون کی مانند گردش کرتا رہا ہے۔ انہی سماجی ڈھانچوں سے بادشاہتیں، ریاستیں، جمہوریتیں، ممالک اور حکومتیں جنم لیتی رہی ہیں۔ ریاست اور حکومت کے نظم و نسق کے ساتھ سماجی تحریکیں بھی کسی نہ کسی صورت میں جڑی رہی ہیں۔ نئی سماجی تحریکیں اور متنازع رویوں کے مظاہر کو سڈنی ٹارو، جو اس موضوع پر گہری بصیرت رکھتے ہیں،

Read more

طرز حکمرانی۔ کرکٹ سے لے کر کرکٹ تک

انگریزوں کی روشناس کرائی ہوئی کئی چیزوں میں سے کرکٹ ایسا کھیل ہے جو کہ برصغیر کے لوگوں کے خون میں بسا ہوا ہے۔ شروع میں امیروں کے کھیل سے جلد ہی غریبوں تک پہلے شہروں اور پھر ہر گاؤں اور ہر محلے تک پھیل گیا۔ آزادی کے بعد ، جلد ہی پاکستان نے دنیا کو دکھانا شروع کیا کہ وہ ہاکی کے علاوہ کرکٹ میں عالمی سطح پر اک اہم طاقت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے رنگ

Read more

تیاگی گئی محبتیں اور ذبح کی گئی شیر جوانیاں!

میں کافی دیر قلم ہاتھ میں لیے ساکت رہا۔ الفاظ کے انتظار میں تھا کہ کہیں سے آ کر میری مدد کریں۔ آفات نے تو ہمارے ملک کا گھر دیکھ لیا ہے، اور ساتھ ساتھ سانحات نے بھی صدائیں لگا رکھیں ہیں کہ ہم سینہ کوبی کیوں نہیں کرتے، نوحے کیوں نہیں پڑھتے! آنسؤں کا آنکھوں میں پتھر ہونا کئی جگہ نثر اور نظم میں پڑھا تھا۔ بس آج اس کو محسوس کر لیا۔ پتھر جسم، پتھر آنکھیں اور پتھر

Read more

میرے استاد محترم کا دکھ اور ان کی نئی نصیحت

ان سے آج بات کرتے ہوئے پہلی بار احساس ہوا کہ امید دم توڑ چکی ہے۔ یہ کس کی امید ہے۔ شاید میری! یا شاید میرے استاد محترم کی۔ مجھے اک بات کا یقین تھا کہ گر اک ہزار، اک لاکھ، اک کروڑ یا اس سے زیادہ لوگ مایوس ہوجائیں، امید کا دامن چھوڑ دیں تب بھی استاد محترم ان میں شامل نہیں ہوں گے۔ پچھلے 22 برس سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ پہیوں والی کرسی اور بیڈ

Read more

”تم اک پیسا دوگے تو وہ دس لاکھ دے گا!“ اور آکسفیم کی رپورٹ

’غریبوں کی سنو، وہ تمہاری سنے گا، تم ایک پیسا دو گے وہ دس لاکھ دے گا‘ ۔ محمد رفیع اور آشا بھوسلے کی آواز میں یہ دوگانا 1966 کی ’دس لاکھ‘ فلم سے ہے! شاعر پریم دھون تھے۔ ان کو شاید پتا نہیں تھا، غریب کی مدد کی صورت میں یہ دعا یا پراتھنا غریب اور امیر کے درمیان کتنی نا برابری پھیلا رہی ہے! غریب کے دیے گئے اک پیسے کے عیوض امیر کی دولت کو دس کروڑ

Read more

چار آر کو کیسے آرپار کرنا ہے

ہم کچھ سیاسی، سماجی، سائنسی اور ادارتی مغالطوں میں محو رہتے ہیں۔ سیاسی مغالطہ یہ کہ جس طرح پورے 71 سال سے ملک کو چلایا جا رہا ہے، اس سے بہتر کوئی اور طریقے موجود ہی نہیں ہیں۔ اور اس لیے سیاست دانوں کی سیاست کرنا اور ملک چلانے جیسے اہم کام پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ سماجی مغالطہ یہ ہے کہ ہم جیسے سماجی اور اخلاقی اقدار کسی کے بھی نہیں ہو سکتے، اور جس کو ساری دنیا

Read more

کیا ہم سیکھیں گے؛ 2022 سے سبق؟

کہتے ہیں کہ جب ممالک اور اقوام پر کڑے وقت آتے ہیں، ایسے ہی جیسے ہم پر 2022 کی سیلابی آفت آئی، تو وہ تباہی اور بربادی کے ڈھیر سے نئی امنگ اور قوت کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ ایسی عالیشان مثالیں دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔ تباہی کے بعد ملنے والے عزم و حوصلے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ جس میں ان کا قومی کردار نمایاں ہوتا ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ وہ تباہی

Read more

سنہ 2011 سے 2022 تک کا سفر اور پچاس کا نوٹ۔

افریقی نژاد سندھیوں کو سندھ میں شیدی کہا جاتا ہے۔ جب سندھ کے آخری حکمران گھرانے ’تالپور‘ سے انگریزوں نے 1843 میں سندھ فتح کیا تو اس وقت فوج کے سپہ سالار شہید ہوش محمد تھے۔ وہ شیدی تھے ؛ اور انگریزوں کے خلاف جنگ میں مشہور زمانہ نعرہ لگاتے ہوئے شہید ہوئے کہ ”مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں!“ ( مر جائیں گے لیکن سندھ نہیں دیں گے ) ۔ 1849 تک پنجاب بھی فتح ہو گیا کیونکہ مہاراجہ رنجیت

Read more

آفات صرف تباہی نہیں لاتیں، فائدہ بھی دیتی ہیں!

ہم پاکستانی اک با صبر قوم ہیں، متواتر سانحوں اور آفات سے گزرتے ہیں، تنگ ہوتے ہیں، چڑچڑے بن جاتے ہیں، لیکن مایوس نہیں ہوتے۔ حاکموں کی عیاشیوں پر ہلکا پھلکا احتجاج کرتے ہیں، وہ بھی سوشل میڈیا پر، باقی پورا دیہاتی پاکستان اور کسی حد تک شہری پاکستان صبر میں رہتا ہے اور اپنے رب سے راضی رہتا ہے! اب تو حکام، مالکان لوریاں بھی نہیں سناتے، سبز باغ بھی نہیں دکھاتے، حتیٰ کہ کوئی امید بھی نہیں بندھاتے!

Read more

مارکس تھامپسن، بڑے لوگ اور بڑی گاڑیاں

پاکستانی قوم کا عجیب مزاج ہے، یہاں پر ہر طبقے اور ہر شعبے کے لوگ گاڑیوں کے شوقین ہیں، خاص کر کے اگر وہ آفس کی یا سرکاری گاڑی ہو! وزراء، افسر شاہی، ’جیم‘ والے لوگ، بڑی گاڑیوں کو بڑا پسند کرتے ہیں۔ ان کو یہ بات اک آنکھ نہیں بھاتی گر ان سے گریڈ میں چھوٹا افسر یا ماتحت کے پاس کوئی اچھی گاڑی ہو۔ بس ان کو پھر سب کچھ یاد آ جاتا ہے اور پاکستان کی ہر

Read more

بے گناہ مقتول کو دھرم پال جیسا باپ کیوں نہیں ملا؟!

عدالت عالیہ کی طرف سے کسی کو رہائی کے بعد کوئی تبصرہ مناسب یا نامناسب ہونے پر بہت سی عالمانہ اور قانونی آراء موجود ہیں۔ در اصل آج کسی کو سزا ملنے یا نہ ملنے کا مدعا زیر بحث نہیں لانا چاہتا۔ بس اک بے گناہ مقتول ستیش کے باپ دھرم پال کے بارے میں آپ کو بتانا ہے۔ دھرم پال کے شہر کندھ کوٹ کا ذکر خیر بھی کرنا ہے۔ یہ جو آج کل سندھ کے شہر اور دیہات

Read more

صدر کلنٹن کی رپورٹ اور آفات کے بعد کی تعمیرات

ہر گزرتا ہوا دن موسمیاتی بدلاؤ کے شدید اثرات پوری دنیا میں ظاہر کرتا نظر آ رہا ہے۔ اک بات جو محققین کی نظر میں اہم بن گئی وہ یہ کسی بھی آفت کے بعد میں جو تعمیر اور بحالی کے کام تھے۔ وہ اتنے بہتر نہ تھے ؛ اس لیے ہر آنے والی نئی آفت سخت و تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ اس لیے Building Back Better (BBB) کی حکمت عملی پر کافی کام ہوا ہے۔ جب میں

Read more

آئیں، اونچے کمیونٹی سینٹر بنائیں

اونچی پختہ عمارتیں کیا کمال کرتی ہیں! بھلے وہ کسی قبرستان میں مقبرہ ہی کیوں نہ ہوں! بات عجیب ہے، لیکن ہے سچی۔ بدین کے لوگوں کے لیے تباہی اور اموات جو 1999 کا سمندری طوفان لایا تھا، وہ ابھی بھولے ہی نہیں تھے کہ 2003 کی بارشوں نے ان کو آن دبوچا اور ایک بار پھر تہس نہس کر دیا! بدین ضلع میں اک مکان روپاماڑی ہے جو کچھ تاریخی روایات کے مطابق سومروں کے دؤر میں سندھ کا

Read more

لوگوں کو اپنی قسمت کا حال بتائیں

اک عمرانی اور آئینی معاہدے کے تحت پاکستان کی عوام نے اداروں کے حوالے اپنے اور اپنے ملک کے معاملات کیے ہیں۔ ریاست اس معاہدے کے تحت آئینی طور پے پابند ہے۔ اور آئین میں بھی واضح ہے کہ مالکی اس کی جو سب جہانوں کا مالک ہے، اس کے بعد اس کی مخلوق/عوام ملک کی مالک ہے۔ ریاست نے برابری، انصاف، باوقار زندگی کا حق اور بہت سے اور حقوق جن کو آئین میں کھلے ہوئے لفظوں میں بیان

Read more

ڈوبی ہوئی پرامید قوم

تجربوں سے گزری ہوئی یہ قوم اور ملک شاید صبر کے اس کنارے آ گئے ہیں جہاں پر حد پوری ہو جاتی ہے۔ بظاہر ہر بات پر احتجاج کرنے والی، چھوٹی چھوٹی بات پر لڑنے کے لیے اور بعض اوقات مرنے کے لیے تیار یہ قوم اپنی سسکتی ہوئی موت پر جو آہستہ آہستہ چور پانی یا دیمک کی طرح اس کے جسم میں پھیل رہی ہے، اس سے یا تو بے خبر ہے یا صبر کیے ہوئے ہے۔ اپنے

Read more

! کہیں سے مجھے کھموں ملاح لادو

بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور اب کے پی، سب ڈوب رہے ہیں۔ بے یاری و مددگاری اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ پورے پاکستان میں زندگی بوجھ لگنے لگی ہے۔ میں اپنے شہر گھوٹکی سے لے کر زیرو پوائنٹ بدین تک، سب کچھ پانی کے حوالے ہوتے ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ حکومتی لوگ، تنظیمیں اور ادارے شاید کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔ پر کہیں بھی مجھے کھموں ملاح نظر نہیں آ

Read more