ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی: پس منظر، اسباب اور اثرات
مشرقِ و سطیٰ کا خطہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے میں موجود قدرتی وسائل، فرقہ ورانہ تقسیم، نظریاتی اختلافات اور استعماری اثرات نے اسے مسلسل غیر مستحکم رکھا ہے۔ اسی غیر یقینی سیاسی فضا میں اسرائیل اور ایران کے مابین کشیدگی ایک مستقل تنازع کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو اب روایتی سفارتی تناؤ سے بڑھ کر عسکری حملوں، پراکسی جنگوں اور جوہری خطرات تک پھیل چکی ہے۔ اس مضمون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان دشمنی کی تاریخی، نظریاتی اور جغرافیائی وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا، اور عالم اسلام کی پوزیشن اور کردار پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
1979 میں ایران میں آنے والا اسلامی انقلاب محض حکومتی تبدیلی نہ تھی، بلکہ اس نے ریاست کے بنیادی نظریاتی ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا۔ شاہ ایران، جو اسرائیل کے قریبی اتحادی تھے، کی حکومت کے خاتمے کے بعد ، امام خمینی کی قیادت میں بننے والی اسلامی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دیے۔ اسرائیل کو ایک ”غاصب اور ناجائز ریاست“ قرار دیا گیا، اور فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایران نے فلسطین کو سفارتی طور پر تسلیم کیا اور اسرائیل کی جگہ وہاں اپنا سفارت خانہ قائم کیا۔ اس انقلابی تبدیلی نے ایران اور اسرائیل کے تعلقات کو مکمل طور پر دشمنی میں بدل دیا، جو آج تک مختلف شکلوں میں جاری ہے۔
ایران کی خارجہ پالیسی میں ”صیہونیت“ کو ایک عالمی استعماری سازش کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کا مقصد فلسطین کی سرزمین پر قبضہ اور مسلم دنیا کو تقسیم کرنا ہے۔ ایرانی حکومت نے اسرائیل کی مخالفت کو اپنی نظریاتی اساس کا حصہ بنا دیا ہے، اور اسرائیل کو امتِ مسلمہ کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل ایران کو نہ صرف ایک نظریاتی دشمن سمجھتا ہے، بلکہ اسے مشرقِ و سطیٰ میں دہشت گرد تنظیموں کا پشت پناہ بھی قرار دیتا ہے۔ اسرائیلی بیانیے کے مطابق، ایران کی جوہری سرگرمیاں اور پراکسیز خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ دونوں ممالک کا یہ سخت گیر اور متضاد بیانیہ نہ صرف سفارتی تعلقات کو ناممکن بناتا ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔
ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں فلسطین اور لبنان میں مزاحمتی گروہوں جیسے حماس اور حزب اللہ کی کھلے عام حمایت کی ہے۔ ایران انہیں ”مزاحمتی تحریکیں“ جبکہ اسرائیل انہیں ”دہشت گرد تنظیمیں“ قرار دیتا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کی عسکری طاقت اور اسرائیل کے ساتھ کئی جنگوں میں کردار، ایرانی اثر و رسوخ کی واضح مثال ہے۔ اسی طرح، فلسطین میں حماس کو دی جانے والی ایرانی امداد نے اسرائیل کو مسلسل غزہ پر حملوں کے جواز فراہم کیے ہیں۔ شام میں بھی ایران نے بشار الاسد حکومت کی بھرپور مدد کی، جو اسرائیل کے لیے خطرے کی ایک اور پرت ہے۔ اسرائیل نے ان گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں، سائبر حملے اور انٹیلی جنس آپریشنز کیے، جن سے مشرق و سطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔
ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل کے لیے سب سے بڑا اسٹریٹجک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ اگر ایران نیوکلیئر صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو پورا مشرق و سطیٰ طاقت کے توازن سے باہر ہو جائے گا، اور اسرائیل کی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ اسی لیے اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر نہ صرف خفیہ سائبر حملے کیے (جیسے مشہور ”Stuxnet“ وائرس) بلکہ اس کے نیوکلیئر سائنسدانوں کو بھی ٹارگٹ کیا۔ ایران نے ہمیشہ اپنے پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیا ہے، مگر اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادی ان دعوؤں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ مسئلہ اب بین الاقوامی سفارت کاری، اقوامِ متحدہ، اور جوہری معاہدوں (JCPOA) کی سیاست کا محور بن چکا ہے۔
اسرائیل اور ایران کی اس کشیدگی میں عالم اسلام کا کردار حد درجہ غیر موثر رہا ہے۔ او آئی سی جیسے ادارے رسمی بیانات جاری کر کے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں، مگر عملی اقدامات کے فقدان نے امتِ مسلمہ کو کمزور اور منتشر کر دیا ہے۔ عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی (ابراہام معاہدات) نے ایران کے بیانیے کو مزید کمزور کیا ہے۔ ترکی، ملائیشیا اور پاکستان جیسے ممالک اگرچہ فلسطینی حمایت کا اعلان کرتے ہیں، مگر اسرائیل کے خلاف کوئی اجتماعی یا موثر حکمت عملی اب تک سامنے نہیں آ سکی۔ ایران کی تنہائی اور اسرائیل کی عالمی طاقتوں سے وابستگی نے مسلم دنیا کو مزید دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج تو نظر آتا ہے، مگر حکومتی سطح پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی مخصوص واقعے یا اختلاف کی پیداوار نہیں بلکہ ایک گہرے نظریاتی، جغرافیائی اور سیاسی تصادم کی علامت ہے۔ ایران کی ”مزاحمتی پالیسی“ اور اسرائیل کی ”وجودی سلامتی“ کے مابین تضاد نے خطے کو مسلسل بحران کی حالت میں رکھا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی بنیاد پر فریقین کا ساتھ دے رہی ہیں، وہیں عالم اسلام کی کمزور اور منتشر پوزیشن نہایت افسوسناک ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ مسلم دنیا محض بیانات کی حد تک نہ رہے، بلکہ اتحاد، سفارت اور عملی اقدامات کے ذریعے اس تنازع میں متوازن اور موثر کردار ادا کرے، تاکہ امتِ مسلمہ کی سیاسی حیثیت دوبارہ اجاگر ہو سکے۔

