حُر کیمپ جوہی


سندھ کے عوام نے تاریخ کے ہر دور میں حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ یہ جذبہ ان کی تہذیب، روایت، اور خاندانی ورثے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایک مکمل قومی شعور کی تشکیل یا اس کا وسیع پھیلاؤ سندھ میں مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔ پھر بھی جب کبھی بیرونی جارحیت یا ظلم و ستم ہوا، سندھ کے مختلف قبیلوں نے انفرادی سطح پر بھرپور مزاحمت کی، جس کی تائید تاریخی شواہد سے ہوتی ہے۔

ان مزاحمتی تحریکوں میں ”حُرّ تحریک“ ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس کی جدوجہد کا انداز اور حُرّ عوام کی قربانیاں تاریخِ عالم میں بہت کم نظیر رکھتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی ایسی کوئی مثال ملے، جہاں کسی تحریک کے کارکنوں کو ان کے اہلِ خانہ سمیت صرف مزاحمت کے سبب حر کیمپوں میں خاندانوں کے ساتھ قیدِ میں رکھا گیا تھا۔ ان کیمپوں میں سے سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی میں حر کیمپ اذیت ناک تاریخ کا گواہ ہے۔

حُر تحریکِ کا پہلا مرحلہ پیر صبغت اللہ شاہ اوّل کی قیادت میں شروع ہوا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس تحریک کا آغاز 1890 کی دہائی میں ہوا، اور انگریز حکام نے اسے کچلنے کے لیے 1898 تک کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس دوران، 1893 سے 1898 تک مارشل لا نافذ رہا تاکہ اس تحریک کو دبایا جا سکے۔ اگرچہ تحریک کمزور ہو گئی، مگر اس کا وجود 1930 تک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔

تحریک کا دوسرا اور اہم مرحلہ سید صبغت اللہ شاہ دوم، جنہیں عوامی طور پر ”سوریہ بادشاہ“ کہا جاتا تھا، کی قیادت میں شروع ہوا۔ ان کی قیادت نے انگریزوں کی حکمرانی کو شدید چیلنج کیا۔ انہیں پہلی بار 1930 میں گرفتار کر کے رتناگری اور دیگر جیلوں میں 1936 تک قید رکھا گیا۔ رہائی کے بعد اکتوبر 1936 میں انہوں نے تحریک کو نئے جوش و خروش کے ساتھ دوبارہ منظم کیا۔ ان کی سرگرمیوں کے باعث انگریز حکومت نے انہیں دوبارہ گرفتار کیا، بعض ذرائع کے مطابق گرفتاری کی تاریخ 30 ستمبر 1940 تھی۔ 1939 کے بعد تحریک نے زور پکڑا، جس کے نتیجے میں حُرّ کارکنوں اور ان کے حامیوں کی، بشمول خواتین، بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں۔

تحریک کو توڑنے کے لیے انگریزوں نے پورے پورے حُرّ خاندانوں کو قید کرنا شروع کیا۔ پروفیسر محمد عمر چنڈ نے حُرّ کئمپوں کی تاریخ کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے : ”پہلا 1895 سے 1936، اور دوسرا 1941 سے 1952 تک“ ۔ یہ حُر کیمپ پورے برصغیر، بشمول سندھ، میں قائم کیے گئے۔ سندھ کے تین نمایاں کیمپوں میں وارہ (ضلع قمبر شہداد کوٹ) ، حیدرآباد، اور جوہی (ضلع دادو) شامل تھے، جنہیں مقامی طور پر سندھی زبان میں ”حُرن جا لوڑھا“ کہا جاتا تھا۔

جوہی کیمپ، جو جوہی شہر کے شمال مشرق میں، جوہی بیراج کی ساتویں شاخ (نالہ) کے قریب تقریباً 5۔ 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا، بیس ایکڑ پر مشتمل تھا۔ یہ کیمپ دو حصوں میں تقسیم تھا، ایک حصہ قیدیوں کے لیے اور دوسرا سرکاری عملے کے لیے، جس میں قیدیوں کا حصہ نمایاں طور پر بڑا تھا۔ دیوار کا کچھ حصہ پکی اینٹوں سے اور باقی مٹی سے تعمیر کیا گیا۔ چار مرکزی دروازے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کی سمت موجود تھے۔ مشرقی دروازے اور مغربی دروازے کے ستون 2022 کے سیلاب سے پہلے موجود تھے۔ امکان ہے کہ یہ تعمیر خود قیدیوں سے کرائی گئی ہو۔ قیدی خاندانوں کے رہائشی انتظامات کی درست تفصیل تو معلوم نہیں، لیکن شمال مغربی کونے میں ایک مسجد موجود تھی جو 2010 کے سیلاب میں تباہ ہو گئی۔ قیدی اور عملے کے حصے کے درمیان ایک گلی تھی۔ جنوبی دروازے کے قریب ایک جیل اور کچھ سرکاری عمارتیں تھیں جو پکی اینٹوں اور سیمنٹ سے بنی تھیں۔ جیل 1946 میں تعمیر ہوئی تھی۔ یہ سال جیل کی دیوار پر لکھا گیا تھا۔ بعد میں کچھ عرصے کے لیے عمارت پرائمری اسکول کے طور پر استعمال ہوئی۔ کیمپ کے پورے علاقے کو ایک حفاظتی بند سے گھیر کر سیلاب سے محفوظ کیا گیا تھا۔ مشرق کی طرف ایک تالاب بنایا گیا تھا۔

میرا خیال ہے کہ جوہی حُر کیمپ 1941 کے بعد اس وقت قائم کیا گیا استاد نظامانی لکھتے ہیں، ”جب تحریک نے شدت اختیار کی اور حُرّ ایکٹ کے تحت مارشل لا نافذ کیا گیا“ ۔ قیدیوں کو سخت اذیتیں دی گئیں۔ قیدی یعقوب قادری بتاتے ہیں کہ، ”شدید گرمی، علاج کی کمی، اور مویشیوں کے ضیاع کی وجہ سے کئی قیدی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے“ ۔ قیدی ملھار فقیر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ، ”روزانہ کی حاضری اور گنتی کے لیے مرد و خواتین کو قطار میں کھڑا کیا جاتا تھا۔ ہر مرد قیدی کے بازو پر ایک تانبے کا کڑا ہوتا تھا جس پر اس کا نام اور کیمپ کا نام درج ہوتا تھا، اور اس کے گھر پر ایک پلیٹ نصب ہوتی تھی جس میں اہلِ خانہ اور مویشیوں کی تعداد لکھی ہوتی تھی۔ مویشیوں کا نقصان ہونے پر سزا دی جاتی تھی۔ قیدیوں کی مزدوری کی اجرت سے پولیس کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی، جسے ”پولیس جرمانہ“ کہا جاتا تھا“ ۔

اگرچہ قیدیوں کی درست تعداد معلوم نہیں، لیکن میرے والد سُومار خان کنگرانی اور چچا اللہ بچایو کنگرانی کے مطابق تقریباً 1200 حُرّ اس کیمپ میں قید تھے، جن میں سید، چانگ، راجڑ، منگریو، خاصخیلی اور دیگر قبائل کے لوگ شامل تھے۔ ان سخت حالات کے باوجود حُرّوں نے جرات مندی کی مثال قائم کی۔ مقامی لوگ ان کی جرات سے خوفزدہ ہو کر انہیں ”حُرّ بادشاہ“ کہتے تھے۔ ان کا نعرہ ”بھیج پگاڑا“ تھا۔ میرے چچا جو جوہی میں آبپاشی محکمے میں داروغہ تھے، انہوں نے بتایا کہ ان کے ماتحت دس حُرّ کام کرتے تھے، جن میں ایک طالب خاصخیلی بھی تھا۔ میرے والد اور چچا مویشیوں کے تنازعات کی کہانیاں سناتے تھے، کیونکہ ان کے نقصان سے کیمپ میں انہیں سخت سزائیں ملتی تھیں۔ مقامی روایات کے مطابق، بھورو اور اس کے بھائی لعل بخش خاصخیلی اس دور کے مشہور پہلوان (ملھ) تھے۔

استاد نظامانی لکھتے ہیں کہ، ”1943 میں سوریہ بادشاہ کی شہادت اور لاش گم ہونے کے بعد ایک بار پھر مارشل لا نافذ کر دیا گیا، اور ریاستی تشدد میں شدت آ گئی“ ۔ مزید لکھتے ہیں کہ، ”یہ ظلم و ستم، قتل و گرفتاریاں یکم اپریل 1947 تک جاری رہیں۔ 1952 میں ان کیمپوں کو باضابطہ طور پر ختم کیا گیا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد پیر سید علی مردان شاہ پگاڑا موجودہ پیر پگاڑا کے والد نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ“ جب وہ اور ان کے بھائی نادر علی شاہ انگلینڈ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، تو انہیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مدعو کیا۔ وزیر اعظم نے ان کی تحریک کو سراہا اور ان کی مذہبی قیادت (گدی) کی بحالی کا وعدہ کیا ”۔ حُرّ قیدی 1954 تک اپنے علاقوں میں واپس جانا شروع ہو گئے تھے۔

آج جوہی حُر کیمپ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔ 1976، 1995، 2010 اور 2022 کے سیلابوں کے ساتھ ساتھ مقامی بے حسی اور توڑ پھوڑ نے اسے مٹا دیا۔ تاہم، یہ علاقہ حُر کیمپ کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔ یہ مقام آج بھی حُرّ عوام کی قربانیوں اور نو آبادیاتی مظالم کی ایک زندہ علامت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS