پاکستان اور بھارت میں مذہب کے نام پر تشدد


 پاکستان میں گزشہ روز لاہور میں ایک احمدی ڈاکٹر کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس طرح ایک ہفتہ کے دوران دوسرے احمدی شہری کو نشانہ باندھ کر قتل کیا گیا ہے۔ ننکانہ صاحب میں ہونے والے قتل کی طرح لاہور میں قتل کرنے والوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے لیکن یہ سب کے علم میں ہے کہ کون سے عناصر اور گروہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف سرگرم ہیں اور ان پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔ اسی طرح جمعہ کے روز بھارت کے ضلع جھارکنڈ کے ایک قصبہ میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے ایک 20 سالہ مسلمان نوجوان محمد سالک کو تشدد کرکے ہلاک کردیا۔ اس نوجوان کا قصور یہ تھا کہ اسے ایک ہندو لڑکی سے محبت تھی۔ وہ اپنی دوست کو اسکوٹر پر اس کے گھر چھوڑ کر جارہا تھا کہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے اسے پکڑ لیا اور ایک کھمبے سے باندھ کر تشدد کرنا شروع کردیا حتی کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ اس سفاکانہ عمل کے دوران نہ تو پولیس کا پتہ تھا اور نہ ہی کسی نے گروہ کو اس بہیمانہ فعل سے منع کرنے کی کوشش کی۔

بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی مقبولیت کی وجہ سے ہندو انتہا پسندوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ دو روز قبل راجستھان میں ایک مسلمان تاجر کو گائے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے شبہ میں مار مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس کے کئی ساتھی زخمی ہوئے تھے۔ اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت بننے اور انتہا پسند ہندو لیڈر یوگی آدتیا ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد مسلمانوں کے خلاف ہندو گروہوں کے حملوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ گوشت ذبیحہ رکوانے کے لئے بھی ان گروہوں نے مسلمان تاجروں اور عام شہریوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد جب سے نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ، ریاست میں گوشت کا کاروبار بند ہو چکا ہے۔ غیر قانونی ذبیحہ کا الزام عائد کرکے بیشتر سلاٹر ہاؤسز بند کروا دیئے گئے ہیں۔ حکومت اسے قانون پر عمل داری کا نام دے رہی ہے لیکن درپردہ اس طریقہ سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

نریندر مودی کی قیادت میں 2014 میں قومی انتخابات جیتنے کے بعد سے ملک میں ہندو توا تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ ان میں سے بعض مسلح جتھوں کو منظم کرتی ہیں اور ان کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی نہ کسی بہانے ان گروہوں کو مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پر حملہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جو ہندوتوا گروہ عدم تشدد کا اعلان بھی کرتے ہیں وہ بھی ہندو قوم پرستی کا پرچار کرتے ہوئے ’شدھ بھارت‘ کا پرچار کرتے ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک ملک میں ہندوؤں کے علاوہ کسی مذہب یا عقیدہ کے لوگوں کو رہنے کا حق نہیں ہے۔ اسی حوالے سے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہمیں بھی چلائی جاتی ہیں۔ ایسی تحریک چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں لوگ مسلمان حملہ آوروں کی وجہ سے مسلمان ہوئے تھے ، اس لئے انہیں ہندو دھرم میں واپس لانا ضروری ہے۔ بھارت کا آئین اگرچہ سیکولر ہے اور اس کے تحت ہر عقیدہ اور مذہب کو مساوی حقوق حاصل ہیں لیکن عملی طور پر اب ملک میں اقلیتوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ ہندوؤں کا پہلا نشانہ البتہ بھارت میں رہنے والے مسلمان ہیں۔

ایک طرف بھارت جیسے سیکولر ملک میں مذہب کے نام تشدد اور ناانصافی کا چلن عام کیا جارہا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں جس کے آئین میں اسے اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی تمام عقائد اور مذاہب کے ماننے والوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔۔۔۔۔ وہاں بھی مذہب اور مسلک کے نام پر خوں ریزی کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں یوں تو ہر قسم کی مذہبی اقلیتیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنتی ہے لیکن خاص طور سے احمدیوں کے خلاف نفرت اور تعصب عام کی جاتی ہے اور ریاست کا کوئی ادارہ اس قسم کے رویوں کی روک تھام کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ دو برس کے دوران اقلیتوں کی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے ذاتی طور پر اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے لیکن عملی طور پر ملک کی اقلیتیں ہر آنے والے دن کے ساتھ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

بھارت میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی اقلیتوں کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہوں نے حکم دیا ہے کہ مسلمانوں پر حملے کرنے والوں کو سختی سے روکا جائے۔ لیکن وہ اور ان کے سیاسی ساتھی مسلسل مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور عدم برداشت کا پرچار کرنے والے گروہوں اور لیڈروں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرتے ہیں ۔ اتر پردیش میں انتہا پسند مذہبی رہنما یوگی آدتیا ناتھ کا وزیر اعلیٰ کے طور پر تقرر اسی منفی اور افسوسناک مزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔ بی جے پی کی قیادت ملک میں انتہاپسند ہندو مذہبی رجحانات کی ترویج کا سبب بن رہی ہے جو اقلیتی مذاہب کے لئے خطرے میں اضافہ کررہے ہیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف مظالم کی خبریں جب پاکستان میں پہنچتی ہیں تو ان پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے اور ہندو انتہا پسندی پر الزام عائد کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی مسلمان اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں غور کرنے اور ان کا تدارک کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس طرح اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ اس مزاج کا خاتمہ کئے بغیر اور یہ تسلیم کئے بغیر کہ جدید جمہوری معاشرہ میں تعصب اور امتیازی سلوک کی گنجائش نہیں ہے، انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے پاکستان کے مسلمانوں اور بھارت کے ہندوؤں کو ایک دوسرے سے انتہا پسندی کا سبق سیکھنے کی بجائے حسن سلوک اور مفاہمت اور بھائی چارے کا چلن عام کرنا چاہئے ۔ تاکہ سب مذاہب کے ماننے والے خود کو محفوظ محسوس کرسکیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali