امتِ مسلمہ اور افریقہ کے جنگل کی کہانی
مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی۔ یہ کہنا تھا پاکستان کے و زیرِ دفاع خواجہ آصف کا۔ یہ سوچ و فکر نئی نہیں بلکہ یہی نظریہ و فکر علامہ اقبال نے اہلِ ہندوستاں کو دیتے ہوئے فرمایا تھا:
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ایماں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
علامہاقبال کے شعر میں ”ہندوستاں“ کی جگہ ”ایماں“ لایا ہوں اس پر ان کی روح سے معذرت خواہ ہوں۔ اقبال نے صرف ہندوستانی مسلمانوں کو نہیں بلکہ تمام ملتِ اسلامیہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر تم نے وقت کے تقاضے نہ سمجھے، دشمن کی چالوں کو نہ پہچانا، اور اتحاد و کردار سے ہاتھ کھینچ لیا تو تمہارا انجام بھی اُن قوموں جیسا ہو گا جن کا صرف نام باقی رہ گیا ہے۔ اس کی ایک عام فہم مثال ہم سب دیکھتے ہیں کہ افریقہ کے جنگل میں سے دو تین شیر نکلتے ہیں موٹی تازی بھینسوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک بھینس کو گِرا لیتے ہیں اور سبھی اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور جب اس بھینس کو زندگی کی کوئی آس اور امید نہیں رہتی، یہ موت کی قطعی اور آخری علامت ہوتی ہے جسے ”غرغرہ“ کی کیفیت کا شروع ہونا کہا جاتا ہے۔ پھر اس بھینس کے غرغرہ موت کی آوزیں آس پاس کھڑے بیل اور بھینسیں سن رہی ہوتی ہیں، جیسے جیسے آواز بند ہوتی گوشت ختم ہوتا ہے تو جانوروں کا ہجوم بھی ایک ایک کر کے ختم ہو جاتا ہے، اگلے دن سب پھر سے دہرایا جاتا ہے۔
یہی کہانی امتِ مسلمہ کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔ یہود و نصاریٰ ایک ایک کر کے مسلم ممالک کو شکار کر رہے ہیں، اور باقی مسلم دنیا تماشائی بنی ان کی غرغرہ موت کی آوازیں سن رہی ہے۔ کسی وقت مذمت کی قرار دادیں، کسی وقت اقوام متحدہ میں بے جان تقریریں، اور کبھی ٹی وی اسکرینوں پر دو آنسو بہا کر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ جیسے وہ بھینس جو گرائی جاتی ہے، اس کی چیخیں سن کر باقی ریوڑ چونکتا ضرور ہے، مگر حرکت نہیں کرتا۔ اسی طرح عراق کی چیخیں فلسطین نے سنیں، لیکن خاموش رہا۔ افغانستان کی موت کا ماتم شام نے دیکھا، لیکن بے بس رہا۔ لیبیا کے جلتے گھر دیکھ کر یمن نے آنکھیں بند کر لیں۔ کشمیر کی فریاد سن کر باقی دنیا نے صرف سر ہلایا۔ غزہ جلتا رہا، امت تسبیح پر ورد کرتی رہی عرب حج و عمرہ میں مصروف رہے۔ جب نوبت آج ایران تک روئے زمین کے سب سے بڑے درندے اور دہشت گرد اسرائیل کی صورت میں آن پہنچی ہے تو وہی کہانی پھر دہرائی جا رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے صحیح کہا ہے کہ ”اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی۔“ آج حالت یہی ہے سب مسلم ممالک اپنے اپنے ایجنڈے اور مفادات کا تحفظ کر رہے وہ یہ بھول گئے ہیں کہ بھینس کی طرح ہماری باری بھی آئے گی۔ آج ہر ملک اپنی باری کے انتظار میں کھڑا ہے۔ ہر حکمران صرف اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ہے، امت کی اجتماعی غیرت، وحدت، اور قیادت کا جنازہ بہت پہلے نکل چکا ہے۔ دشمن ہر روز نئی چال چلتا ہے، لیکن ہم پرانی نیند سے بیدار ہونے کا نام نہیں لیتے۔
یہ عراق، فلسطین اور آج ایران کی موت کی وہ آہٹ ہے جو زندہ کو جھنجھوڑ دینے والی ہونی چاہیے، مگر یہ آہٹ جنگل کے دیگر جانوروں کے لیے صرف ایک ”عادت“ بن چکی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سہم کر ایک لمحے کو رکتے ہیں۔ اور پھر پیٹھ موڑ لیتے ہیں۔ اگلے دن، اگلا شکار، اگلا تماشا۔ اور خاموشی! اور آج یہ چھینا چھپٹی، گرتی لاشیں پاکستان کے ایک کونے (عراق) سے دوسرے کونے (ایران ) تک آ پہنچی ہیں، اب تو جاگ اے پاکستان کہ تیرے ارد گرد مسلم امہ کا خون بہہ رہا ہے۔ اب تو جاگ اے عرب کہ تیرے ارد گرد مسلم امہ کا خون بہہ رہا ہے۔
یاد رکھو! جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، وہ خود تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، ایک عبرتناک مثال کے طور پر نہ کہ ایک روشن کردار کے طور پر اور امتِ مسلمہ کے پاس آج اور اب بھی وقت ہے کہ وہ بیدار ہو، یکجہتی، قیادت، خود انحصاری اور عسکری اتحاد و طاقت کی طرف پلٹے، ورنہ غرغرہ کی یہ آواز کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری امت کی آخری سانسوں کی صدا بن سکتی ہے۔

