ہمیں اپنے سگنی فائر اور سگنی فائڈ بدلنے کی ضرورت ہے
لفظ وہ برتن ہے جس میں ہم اپنے جذبات یا تجربات انڈیل دیتے ہیں۔ اور وہ تجربہ یا تصور جو ہمارے ذہن میں لفظ سن کر ابھرتا ہے، وہ اس برتن کا مواد ہے۔
اگر آپ نے کسی بھی زبان یا ادب میں ماسٹرز کیا ہے تو آپ لسانیات/لنگویسٹکس پڑھتے ہوئے سگنی فائر اور سگنی فائڈ کے تصور تک ضرور پہنچے ہوں گے۔ یہ سیمینٹیکل تصور ہے اور کسی بھی لفظ کو سننے کے بعد ذہن میں اس سے منسلک خیال یا تصویر کے ابھرنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی لفظ کو ہمارے ذہن نے خود پر کیسے نقشا ہے، یہ جاننے کے لیے ہم سگنی فائر اور سگنی فائڈ سے مدد لیتے ہیں۔
سگنی فائر در اصل لفظ ہے۔ یہ کچھ حروف یا آوازوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور سگنی فائڈ وہ تصویر، نقشہ یا فکر ہے جو اس مخصوص لفظ کو سننے یا پڑھنے کے بعد ذہن کے دیوار پر ابھر آتی ہے۔ مثلاً لفظ کار کو سنتے ہی آپ کے ذہن میں کسی ماڈل کی اچھی سی کار کا تصور آئے گا نہ کہ ذہن میں وہ حروف: ک۔ ا۔ ر یا C۔ A۔ R چمکیں گے۔ آپ ضرور کسی ایسی کار کو سوچیں گے جو آپ کے زیر استعمال ہوگی یا آپ کو پسند ہوگی اور لینا چاہتے ہوں گے۔ لفظ کی آواز کے اندر وہ معنی نہیں ہیں، اس لفظ اور اس لفظ سے جڑے تصورات کے درمیان کوئی مرئی رشتہ نہیں ہے۔ اسے ہم نے جوڑا ہے۔ ہم چاہیں تو اسی آواز اور حروف والے لفظ کو کسی اور تصور سے جوڑ دیں۔ یعنی اگر ہم کار کا نام کار سے بدل کر میز رکھ دیں تو ذہن میز لفظ کو سننے کے بعد لکڑی کی ہموار سطح والی چار پائیوں والی کسی چیز کو نہیں سوچے گا بلکہ اسی گاڑی کے متعلق سوچے گا جس سے آپ نے اسے جوڑ دیا ہے۔
ہمارے دکھ اور زخموں کا اندمال جلد نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان (Signifieds) کے Signifiers کو ذہن میں جامد کر لیا ہوتا ہے۔
آپ کو کسی محبوب انسان نے دھوکہ دیا، تکلیف دی، نتیجے میں آپ اس سے الگ ہوئے لیکن اس کے رہے سہے دکھ آپ پیچھے چھوڑنے کے بجائے ساتھ چمٹائے رہے۔ آپ اس انسان کے ہم نام سے بھی دور ہوئے، اس انسان سے متعلقہ ہر چیز کو خود سے دور کیا۔ وہ اچھی چیزیں جو آپ مل کر کرتے تھے وہ اکیلے کرنا پڑیں تو دکھ کا احساس نئے انداز سے جاگا اور آپ نے اس دکھ کو کم کرنے کے لیے ان پسندیدہ مشاغل اور سرگرمیوں کو بھی ترک کر دیا۔ (ایک غلط انسان کے برے عمل کے پیچھے ایک سکون آور کام ترک کرنے کا غم اگانے کا بیج بھی بویا) جو آئندہ دنوں میں پہلے دکھ سے بڑا دکھ بنے گا۔ پچھتاوا۔ گنوا دینے کا احساس۔
اس سارے خسارے سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ذہن کو قابو میں کریں، پرانے الفاظ کو نئے مطالب سے جوڑیں اور پرانے مطلب کو سیلیکٹ کر کے کنٹرول پلس ڈی کر دیں۔
الفاظ انسانوں کو قابو کرتے ہیں اور الفاظ ہی رہائی دیتے ہیں۔ الفاظ ہی زخمی کرتے ہیں اور الفاظ ہی شفا یابی میں معاونت کرتے ہیں، زخم بھرتے ہیں۔
جن الفاظ سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے، ذہن میں ان سے بری یادیں جڑی ہوئی ہیں ان الفاظ کی فہرست بنائیں اور انہی الفاظ کے نئے مطالب، نئی یادوں اور تصویروں کے ساتھ ذہن کے حوالے کریں۔
جو لوگ کسی ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ آئندہ بھی ان کی زندگی میں ایسا کچھ نہ ہو تو وہ میری اس بات کو گرہ میں باندھ لیں کہ زندگی کی ساری خوبصورت یادوں میں سے کچھ یادیں صرف اپنے ساتھ بنائیں تا کہ وہ کبھی زخم نہ بن سکیں۔ جس نام سے پکارنے کا حق کسی ایک کو تفویض کر رکھا تھا اس ذاتی آئین کی شق میں ترمیم و تبدل کر لیں۔ کُچھ سفر اکیلے کریں۔ کچھ پسندیدہ گانے اکیلے سنیں، کچھ مشروبات اکیلے پئیں۔ جو انسان اپنا ساتھ دینا سیکھ لے کوئی اسے چھوڑ جانے کا زخم نہیں دے سکتا۔ اس کے لیے کسی کا جانا وہی ہے جو غالب نے کہا:
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

