وہ شخص ہم بھی ہو سکتے ہیں؟
حجام کی دکان میں کرسی پر بیٹھ کر میں ہمیشہ ہی بے چینی کا شکار ہو جاتا ہوں۔ ان کے روایتی اور ہر شخص پر استعمال ہونے والے یہ اوزار نئے بلیڈ کے استعمال کے باوجود ہمیشہ مجھے خوف زدہ کیے رکھتے ہیں۔ میں اس کا برملا حجام سے اظہار بھی کرتا ہوں اور ان کو صفائی اور بیماری کے گٹھ جوڑ کے متعلق حتی الوسع آگاہی بھی فراہم کرتا ہوں۔ اس کاوش کے باوجود مجھے جراثیم ان کے اوزاروں پر رینگتے دکھائی دیتے ہیں۔
کل جب میں ایک حجام کے پاس گیا تو ایک حیران کن صورتحال میری منتظر تھی۔ مجھے کرسی پر بٹھا کر حجام نے استرا نکالا، اس میں نیا بلیڈ لگایا، اور پھر ایک باریک لمبے منہ والی بوتل سے استرے اور بلیڈ کے جوڑ پر الکحل ڈالا۔ پھر اس نے جیب سے لائٹر نکالا اور اس الکوحل کو آگ لگا دی۔ کئی سیکنڈ تک آگ جلتی رہی۔ پھر اس نے استرا الٹایا اور دوسری طرف بھی یہی عمل کیا۔ بطور ایک بائیولوجی کے استاد کے، میں جانتا تھا کہ اس سے بہتر جراثیم کش طریقہ ممکن ہی نہ تھا۔ کام کے دوران باقی صفائی کا خیال بھی ایسے رکھا جیسے ایک مائیکروبیالوجسٹ اپنی لیب میں رکھتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس کی ڈریسنگ ٹیبل پر بلیڈ کو ڈسپوز کرنے والی چھوٹی سی ڈبی بھی موجود تھی جس پر جلی لفظوں میں ”ہیپاٹائیٹس اور انفیکشن کنٹرول پروگرام“ لکھا ہوا تھا۔ اس یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اس کو حکومت کی طرف سے تربیت دی گئی ہے۔
حجام سے یہ خوف کوئی میرا نفسیاتی خوف نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیش تر بیماریوں خصوصاً ہیپاٹائیٹس بی اور سی کے علاوہ ایڈز بھی ان حجاموں سے پھیلتی ہیں۔ دیہات میں مہینوں استعمال ہونے والے بلیڈ لیس استرے اور حجاموں کی دکان پر بار بار استعمال ہونے والے پرانے استرے پر نیا بلیڈ دونوں ہی درج بالا بیماریوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہیں۔
ایک شخص کو شیو کے دوران لگنے والے کٹ کی صورت میں پھٹکڑی کا ٹکڑا استعمال ہوتا ہے۔ یہی پھٹکڑی کا ٹکڑا دوسرے شخص کے خون کو روکنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ یقینی طور پر انتقال خون کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح بلیڈ نیا لگا کر بھی استرے کو ایک ہی ربڑ پلیٹ پر بار بار فوم صاف کرنے کے لئے استعمال کرنا بھی نئے بلیڈ کو عملاً بے اثر کر دیتا ہے۔
اور کچھ نہ بھی ہو تو حجام کے ہاتھ بھی اپنے اندر استعمال شدہ بلیڈ کی ہی تاثیر لئے ہوتے ہیں اور اس کا تولیہ تو کئی طرح کے جراثیم کا ”کاک ٹیل“ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے سوائے بال کٹوانے کے میں کبھی حجام کے پاس نہیں گیا۔ شیو گھر پر کرتا ہوں اور بال کٹوائی کے دوران بھی نئے بلیڈ اور صفائی پر خصوصی توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ انتقال خون کی یہی صورتحال ایک اتائی ڈاکٹر کے کلینک پر بھی ہوتی ہے جو بظاہر علاج گاہ مگر درحقیقت بیماریاں پھیلانے کی جگہ ہوتی ہے۔
اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، ہسپتالوں اور لیبارٹریز کا ڈیٹا چیک کریں تو آپ پر خوفناک انکشاف ہو گا کہ صرف ہیپاٹائیٹس کے مریضوں کی شرح تین سے لے کر سات فیصد تک ہے۔ کچھ اضلاع میں یہ سترہ فیصد کو بھی چھو جاتی ہے۔ اگر آپ دیہات میں رہتے ہیں تو یوں تصور کر لیں کہ اگر ہیپاٹائیٹس سے مرنے والوں کی قبر پر سرخ کتبہ لگائیں تو آپ کو قبرستان میں آدھے سے زیادہ کتبے سرخ نظر آئیں گے۔
آپ بھی آگاہ ہوں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔ اپنی شیو گھر پر خود بنائیں اور حجاموں کے پاس جانا ہو تو ان کو بھی آگاہ کریں۔ حکومت تک بھی پیغام پہنچنا چاہیے کہ ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کے لیے الگ سینٹر بنانے اور لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے کی بجائے صرف حجام کی ٹریننگ کروا دی جائے اور ان کو لائسنس کے بغیر کام نہ کرنے دیا جائے تو ادھا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پڑھا لکھا طبقہ لائسنس دیکھ کر ہی سیٹ پر بیٹھے گا اور بغیر لائسنس والوں کا دھندا ماند پڑا تو وہ خود ہی لائسنس کی طرف آئیں گے۔
یاد رکھیں کہ ڈیٹا کے مطابق چوبیس کروڑ کی آبادی میں سے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ لوگ اس مرض کا شکار ہیں۔ اس ڈیٹا اور اپنے تجربہ کی روشنی میں لیبارٹریوں والا عملہ اکثر یہ کہتا ملتا ہے کہ صرف وہی شخص اس بیماری سے محفوظ ہے جس نے اپنا ٹیسٹ نہیں کروایا۔ وہ شخص آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی۔ بظاہر یہ ایک لطیف اور مبالغہ آمیز بات ہے مگر آگاہی پیدا کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی جملہ ممکن نہیں ہے۔ لوگوں سے بات کریں اور آگاہی پھیلائیں۔



Good one. Thx