خواب، محبت اور زندگی 35


mahnaz rahman

ابتدائی سیاسی مہم جوئیاں

یونیورسٹی میں میرے ابتدائی دنوں میں ایوب خان نے بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت تک میرے یونیورسٹی میں کسی سے سیاسی روابط نہیں تھے۔ اور کوئی سیاسی وابستگی بھی نہیں تھی۔ لیکن مجھے یہ خبر سن کر بہت غصہ آیا۔ اور میں نے اپنی ہوسٹل کی چند دوستوں کو احتجاج پر آمادہ کر لیا۔ ہم نے مل کے بھٹو کی رہائی کے مطالبے کے لئے پوسٹرز تیار کیے۔ اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی اور اس ٹولی میں شامل ممتاز اور لئیقہ (ایک اور نئی دوست جو عربی میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں، ترقی پسند تھیں اور عالمی ڈائجسٹ میں نجلا حسن کے قلمی نام سے لکھتی تھیں ) اپنے رشتہ داروں سے ملنے چلی گئیں۔ اس مشن کو پورا کرنے کے لئے بلی (بلقیس) اور میں رہ گئے۔

بلی کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ ایک غیر سیاسی شخصیت تھی لیکن ایک دوست کی حیثیت سے ہمارا ساتھ دے رہی تھی یا پھر اس کے لئے یہ ایک سنسنی خیز ایڈونچر تھا۔ چھٹی کا دن تھا، یونیورسٹی سنسان پڑی تھی صرف چوکیدار یا گارڈز گھوم رہے تھے۔ ہم دونوں پوسٹرز، گوند اور ٹیپ جیسے ’ہتھیار‘ اٹھائے ہوسٹل سے نکلے۔ ہم نے ایک سادہ سی حکمت عملی اپنائی۔ جس دیوار پر پوسٹر لگانا ہوتا، میں وہاں جا کے کھڑی ہو جاتی اور بلی آگے جا کے دیکھتی کہ کوئی چوکیدار تو اس طرف نہیں آ رہا۔ اس کا اشارہ ملتے ہی میں پوسٹر دیوار پر لگا دیتی۔ اس طرح ہم مختلف ڈپارٹمنٹس میں پوسٹرز لگا کر واپس آ گئے۔ پیر کی صبح جب ہم یونیورسٹی گئے تو پوسٹرز اتارے جا چکے تھے، صرف ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں ایک پوسٹر لگا رہ گیا تھا، وہ بھی چند گھنٹوں بعد اتار لیا گیا۔ شام کو ہوسٹل واپس آنے کے بعد بلی نے مجھے بتایا کہ صبح اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جاتے ہوئے اس نے ایک چوکیدار کو ہمارا ایک پوسٹر ہاتھ میں لئے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے جاتے دیکھا تھا۔ شاید وہ سوچ رہا ہو کہ طلبا کو اس معاملے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ لوگ یہاں پڑھنے آتے ہیں یا یہ سب کرنے آتے ہیں۔ ظاہر ہے یونیورسٹی میں کسی کو بھی اس احتجاج کی توقع نہیں تھی اور وہ بھی ایک نا معلوم ”گروپ“ کی جانب سے۔ میرے اندر ایک سیمابی روح تھی۔ میں نے ہمیشہ وہ کیا جو مجھے صحیح لگا۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، کالج کے دنوں میں، میں ساحر لدھیانوی کی انقلابی شاعری کی دیوانی تھی اور ان کی شاعری کا مجموعہ ”تلخیاں اور پرچھائیاں“ اپنے سرہانے رکھ کر سوتی تھی۔ ساحر کی شاعری نے میرے دل میں انقلاب کی آگ بھڑکا دی تھی۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ یونیورسٹی ہوسٹل میں ایک لڑکی سے سیاسی بحث ہو رہی تھی تو میری باتیں سن کر اس نے کہا تھا، ”اچھا تو پھر تم یقیناً این ایس ایف (نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن) میں ہو گی۔ میں حیران رہ گئی کیونکہ میں نے تو جب تک این ایس ایف کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ لیکن میں جب بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتی، اسلامی جمعیت طلبا کی ہمدرد لڑکیاں مجھے این ایس ایف کا رکن ہی سمجھتیں۔

رخسانہ آفریدی جو اس وقت کے بائیں بازو کے مشہور طالب علم رہنما معراج محمد خان کی بھتیجی تھی، سے دوبارہ یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔ اس نے بھی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا تھا اور جلد ہی ہم گہرے دوست بن گئے۔ تب تو لوگوں کو پکا یقین ہو گیا کہ میرا تعلق این ایس ایف سے ہے۔ یوں میں قدرتی طور پر این ایس ایف کی سرگرمیوں کا حصہ بنتی چلی گئی۔ ان دنوں این ایس ایف کا حال کچھ اچھا نہیں تھا۔ یونیورسٹی پر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کا غلبہ تھا۔ وائس چانسلر اشتیاق حسین قریشی سمیت تدریسی عملے کی اکثریت جمعیت نواز تھی۔ ایک روز اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن نے ہمیں ایک سوالنامہ تھما دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے جوابات صیغہ راز میں رکھے جائیں گے اور کبھی کسی کو بتائے نہیں جائیں گے۔ وہ مذہب کے بارے میں ہمارے خیالات جاننا چاہتے تھے۔ میں نے اقبال کے اجتہاد کے تصور اور اسلامی فکر کی تعمیر نو کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جمعیت والوں کے لئے میری باتیں یقیناً حیران کن ہوں گی لیکن اس وقت وہ کچھ نہیں بولے۔

میں نے ہڑتال کروائی

ایم اے میں ہمارا ایک مضمون ’پبلک فنانس‘ تھا۔ ایک مرتبہ تعلیم کے مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے ہمارے استاد سر جعفر نے فرمایا ’لوگ مختلف مقاصد کے لئے تعلیم حاصل کرنے یونیورسٹی آتے ہیں جیسے کچھ لڑکیاں اپنے لئے شوہر ڈھونڈنے یونیورسٹی آتی ہیں۔ ‘ ایک لمحے کے لئے تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ ساری کلاس خاموشی سے سنتی رہی مگر میرے اندر غصہ ابلنا شروع ہو گیا۔ کلاس ختم ہونے کے بعد میں نے لان میں کھڑی لڑکیوں سے کہا کہ ’استاد محترم نے ہم لڑکیوں کی بے عزتی کی ہے۔ کیا ہم شوہر ڈھونڈنے آئی ہیں؟‘ سب لڑکیوں نے میرا ساتھ دیا اور میں نے اعلان کر دیا کہ جب تک جعفر صاحب اپنے الفاظ واپس نہیں لیں گے اور لڑکیوں سے معافی نہیں مانگیں گے۔ ہم ان کی کلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ کلاس کے لڑکوں کے ایک گروپ نے فوراً مصالحت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ وہ کبھی اسٹاف روم میں جعفر صاحب کے پاس جاتے، کبھی لان میں جمع لڑکیوں کے گروپ کے پاس آتے اور فریقین کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچاتے۔ ظاہر ہے لڑکے اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بالآخر جعفر صاحب نے لڑکیوں سے معذرت کی اور اپنے الفاظ واپس لئے تو ہم نے ہڑتال ختم کر دی۔ یہ میری زندگی کی پہلی ’سیاسی‘ ہڑتال تھی۔ اس کی کامیابی نے مجھے بے حد اعتماد بخشا۔

Facebook Comments HS