سیاست محبت جیسی ہے

میاں افتخار حسین سے کبھی کوئی وہ واقعہ سنے کہ جب باچا خان ان کی تقریر میں شعلہ بیانی سے ناراض ہوئے تو انہوں نے کیا کیا۔ صرف اتنا کہ خاموش ہو گئے بات پھیل گئی کہ بابا ناراض ہیں۔ جب اندازہ ہوا کہ کس سے ناراض ہیں تو میاں افتخار حسین بھاگ کر منانے گئے۔
باچا خان چارپائی پر لیٹے تھے۔ میاں نے ٹانگیں دبانے کو ہاتھ بڑھائے تو باچا خان نے اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں۔ میاں نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تو بابا نے یہ کہہ کر گلے لگا لیا کہ لوگوں کو جلسوں میں کوئی ایسے اشتعال دلاتا ہے؟ تم نے مجھ سے یہ سیکھا تھا۔ کیا پیارا انداز تھا تربیت کا جس نے ہمیں ایک بہترین سیاسی کارکن فراہم کیا جو سب کو اب اپنا لگتا ہے۔
اک بڑے خان نے اپنے ووٹر چھوٹے خان کا کام کرنے سے انکار کر دیا۔ چھوٹے خان نے کہا کہ پھر ووٹ لینے آنا کبھی تو بڑے خان نے کہا کہ یہ ووٹ بتی بنا کر لے لو۔ الیکشن تب دو ڈھائی سال بعد ہی ہو جایا کرتے تھے بڑے خان کو پھر ووٹ مانگنے اسی کے دروازے پر جانا پڑا جس کو بتی والا مشورہ دیا تھا۔
چھوٹے خان نے کہا تمھیں یاد ہے تم نے کیا کہا تھا کہ بتی بنا کر لے لو اپنا ووٹ۔ بڑا خان بولا کہ ہاں ابھی یہی کہنے آیا ہوں کہ وہی ووٹ مجھے درکار ہے اور تم شوق سے بتی بنا کر مجھے دے دو۔ بات شاید کچھ واہیات ہے لیکن یہ انکار اقرار اور رابطہ وہ سیاست ہے جس میں محبت شامل ہے۔
راوی کنارے ایک حلقہ ہے جہاں ایک امیدوار مارشل لا کی لمبی رات گزرنے کے بعد راوی والوں سے انتخابی تقریر میں یہ کہتا پایا گیا کہ ”دہ وی (دس بیس) سال ہو گئے نے…. سے اجتماعی زیادتی کراتے کراتے۔ ہک واری مڑ میرے کولوں کرا کے ویکھو “۔ لوگوں کو یہ انداز پیارا لگا اور ڈھیروں ووٹ سے لاد کر اسے اسمبلی پہنچا دیا۔
جے یو آئی کے ایک مولانا ہیں الیکشن ہارے تو انکے جذباتی سپورٹر حضرات کو لگا کہ کچھ پولنگ میں دھاندلی ہو گء ہے جذباتی کارکنوں نے جیتنے والے امیدوار پر یلغار کا پروگرام بنا لیا مولانا صاحب سکون سے دیکھتے سنتے رہے وہ افغانستان میں کمانڈر بھی رہ چکے ہیں تقریر مزے کی کرتے ہیں اور اپنے کابلی سک یعنی مکے پر فخر بھی کرتے ہیں خیر۔
جب سپورٹر حضرات بالکل تل گئے اور یلغار کے لئے روانہ ہونے لگے تو مولانا بولے کہ سب پیدل جائیں گے کیونکہ گاڑیاں اتنی نہیں ہیں کہ سب سوار ہو کر جا سکیں۔ جذباتی دستے پیدل روانہ ہوئے ادھے کلومیٹر پر ہی عقل ٹھکانے آنا شروع ہوئی اور ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر بالکل بے حال ہو گئے تو جو پہلے پرجوش ہوئے پھر رہے تھے انہوں نے صلاح کی تو یاد آیا کہ مولانا نے تو کوئی رائے ہی نہیں دی۔
مولانا سے پوچھا گیا کہ آپ کی کیا صلاح ہے؟ مولانا نے کہا میں تو آپ کی محبت میں آ گیا اگر آپ کا احتجاج مکمل ہو چکا تو اب پھر گھروں کو چلتے ہیں۔ مخالف سے اگلے الیکشن میں دیکھ لیں گے۔
جو سیاست کو محبت سمجھ کر نبھاتے ہیں وہ اپنے سپورٹر کو معشوق بھی سمجھتے ہیں اور انہیں اپنی سیاست کی وجہ سے مسائل میں الجھانے سے گریز کرتے ہیں۔

