کارکنوں کی اجرتوں کی چوری!


مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائی سادگی سے کھا گیا مزدور مات

کارکنوں کی اجرتیں (Wages) وہ ادائیگیاں ہیں جو کارکنوں کی جانب سے ان کی خدمات کی تفویض کردہ مالی قدر (Monetary value) ہے۔ چنانچہ اجرت کو ”مزدور کی قیمت“ بھی کہا جاتا ہے۔ اجرت، آجروں کی جانب سے معاہدہ ملازمت کی چند ایک شرائط پوری ہونے پر ادا کی جاتی ہے، جن میں کارکن کی باقاعدہ حاضری، کام کے معیار اور کام کی تکمیل شامل ہے۔ کام کے عوض اجرت کی ادائیگی مزدور کا بنیادی حق ہے اور آجر کی طرف سے کوئی احسان نہیں ہے۔

پاکستانی میں کارکنوں کی اجرتوں کی ادائیگی کے لئے درج ذیل تین مختلف قوانین رائج ہیں۔

1۔ ادائیگی اجرت ایکٹ 1936۔ یہ قانون اجرت کی تعریف، اجرت کی ادائیگی کے اصول اور کٹوتیوں کو بیان کرتا ہے، تاکہ کارکنوں کو ان کی کمائی سے نا انصافی سے محروم نہ کیا جائے۔

2۔ کم از کم اجرت آرڈیننس 1961۔ یہ قانون مختلف کارکنوں کے لئے کم از کم اجرت متعین کرتا ہے۔

3۔ غیر ہنر مند کارکنوں کی کم از کم اجرت آرڈیننس 1969۔ یہ قانون غیر ہنر مند کارکنوں کے لئے اجرت کا تعین کرتا ہے۔

ادائیگی اجرت قانون مجریہ 1936 کارکنوں کے حقوق کے لئے ایک قدیم قانون کی حیثیت رکھتا ہے جو کارکنوں کی اجرت کی حفاظت کے لئے ایک سود مند قانون سازی تھی۔ برطانوی نوآبادیاتی دور کا یہ قانون ملک میں 8 اپریل 2010 کو ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری تک نافذالعمل رہا۔ جب آئینی ترمیم کے نتیجہ میں وفاق کی مشترکہ فہرست (Concurrent list) سے 44 دیگر شعبوں سمیت شعبہ محنت (Labour Subject) کا خاتمہ کر کے انہیں وفاق سے صوبوں کو منتقل کیا گیا تو ملک کے چاروں صوبوں نے ادائیگی اجرت قانون پر مختلف اوقات میں صوبائی قانون سازی کر کے اسے ترمیمی شکل میں نافذ کیا۔

عالمی بینک کے مطابق اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ کروڑ حصہ افرادی قوت (Work force) پر مشتمل ہے جو ایک عظیم افرادی قوت کے لحاظ سے دنیا میں دسویں نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ ملک کی یہ عظیم افرادی قوت کھیتوں، کھلیانوں، صنعتوں، ماہی گیری، کان کنی، صنعت تعمیرات، روڈ ٹرانسپورٹ، صنعت و حرفت، چھوٹے کارخانوں، دکانوں، ہوٹلوں، تعلیمی و طبی اداروں، سیکیورٹی گارڈز اداروں، ٹھیکہ داری منصوبوں، فلاحی و خیراتی اداروں، میڈیا ہاؤسز، کاروباری و تجارتی دفاتر اور دیگر اداروں میں شب و روز محنت و مشقت کر کے نا صرف اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے بلکہ ملک کی معاشی، پیداواری، کاروباری اور تجارتی ترقی میں اپنا نہایت فعال کردار بھی ادا کر رہی ہے۔

لیکن اس حقیقت کے باوجود کروڑوں نفوس پر مشتمل یہ مظلوم اور بے زبان افرادی قوت اپنی محنت و مشقت کے صلہ میں جائز اجرتوں کی چوری ہونے کے باعث درجہ سوم کے محروم شہریوں کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس قدر کثیر تعداد کی حامل افرادی قوت کی ملک کی کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت اور سرکاری یا عوامی ایوانوں میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں ہے۔ جس کے باعث سخت ظلم و جبر اور نا انصافی کی شکار اس عظیم افرادی قوت کی کہیں کوئی شنوائی نہیں۔ بیشتر آجروں کی جانب سے اجرتوں کی ادائیگی میں غیر منصفانہ طرز عمل اختیار کرنے کے نتیجہ میں شب و روز سخت محنت و مشقت کے ذریعہ اپنا رزق حلال کمانے والی ملک کی عظیم ترین افرادی قوت اپنے بنیادی حقوق خوراک، رہائش، پینے کے صاف پانی، علاج و معالجہ، بچوں کی تعلیم اور ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات سے محروم چلے آ رہی ہے۔

ایک اسلامی مملکت کی حیثیت سے پاکستان کے آجروں پر اپنے کارکنوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ اسلامی معاشرہ میں انسانی شرف و وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے نزدیک آجر (Employer) اور اجیر (Employee) کا تعلق آقا اور خادم (Master and Servant) کا نہیں بلکہ دو بھائیوں جیسا ہے کہ جن کے مابین فرائض اور حقوق کی ایک خوشگوار فضاء قائم ہو تاکہ ان کے اداروں میں محنت و مشقت کرنے والے کارکن نا صرف باعزت طور پر اپنے اور اپنے کنبہ کی کفالت کرسکیں بلکہ ملک کی صنعتی اور اقتصادی ترقی میں اضافہ بھی ممکن ہو سکے۔

کارکنوں سے حسن سلوک سے متعلق ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ”تمہارے ہاتھ کے نیچے کام کرنے والے تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لئے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو“ ۔ (سنن ابن ماجہ)

اسلام اپنی آفاقی تعلیمات کے لحاظ سے ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام اجرت (Fair Wage System) کا داعی ہے۔ جس میں آجر اور اجیر بنیادی ضروریات زندگی کے لحاظ سے برابر کے تصور کیے گئے ہیں۔ اسلامی قانون محنت و اجرت کے مطابق کوئی آجر کسی اجیر کی مزدور منڈی (Labour Market) کے مطابق اجرت یا اس طرح کی خدمات کے لئے جو اجرت حکومت نے مقرر کی ہو، نہ اس سے کم اجرت ادا کرے گا اور نہ ہی کارکن کو کسی اور طریقہ سے استحصال کا موقعہ دے گا اور حکومت بھی کارکنوں کو ان کی محنت کے عوض جائز اجرت دلانے کی پابند ہوگی۔ اسی طرح کارکنوں کو بھی اتنے بھاری مطالبہ کا حق نہیں دیا جائے گا کہ جس کے نتیجہ میں ان کے آجر کے کام کو فائدے کے بجائے نقصان میں تبدیل کر دے۔ آجر اپنے کارکنوں کو مقررہ وقت اور باضابطہ طریقہ کار کے مطابق اجرت ادا کرنے کے پابند ہیں۔ آجروں کی جانب سے کارکنوں کی اجرت کی ادائیگی میں تاخیر اور ٹال مٹول کے رویہ کو آجر کی جانب سے نا انصافی اور قانون کی خلاف ورزی گردانا جائے گا۔

ایک حدیث مبارکہ میں اصول مقرر کیا گیا ہے کہ بہترین آجر وہ ہیں جو اپنے کارکنوں کی اجرتیں بلاجواز نہیں روکتے اور یا ان کی اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرتے۔ قرآن و سنہ کی تعلیمات کے مطابق کارکنوں کی اجرتوں کے تعین اور مقدار کے لئے چھ زریں اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں کارکنوں کو کام کی اجرت طے کیے بغیر بھرتی کرنے اور ان سے کام لینے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، کارکنوں کے لئے معقول اجرت کی ادائیگی کو اس لحاظ سے یقینی بنانا جو ان کی بنیادی ضروریات زندگی خوراک، رہائش، لباس، علاج و معالجہ اور بچوں کی تعلیم پوری کرنے کے لئے کافی ہو، اجرتیں موجودہ حالات جیسے افراط زر، شدید مہنگائی، اشیائے صرف کی بلند قیمتوں اور اس کے کنبہ کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے طے کی جانی چاہیے، طے شدہ اجرت کی بروقت اور مکمل ادائیگی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ کسی امیر شخص کا دولت پاس ہوتے ہوئے بھی کارکن کی اجرت کی ادائیگی میں جان بوجھ کر تاخیری حربے اختیار کرنا اور ٹال مٹول سے کام لینا سخت ظلم کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اجرت کی یکمشت ادائیگی اور مساوی کام کے لئے مساوی اجرت کی ادائیگی کا حکم شامل ہے۔ لیکن اجرتوں کے متعلق ان زریں اسلامی اصولوں کے باوجود آج بھی ملک کے کروڑوں محنت کشوں کا سب سے دیرینہ مسئلہ سخت محنت و مشقت کے باوجود منصفانہ اجرتوں (Fair Wages) سے محرومی ہے جو اکثر آجروں کی جانب سے کارکنوں کی اجرت کی چوری (Wage Theft) کے مترادف ہے۔

ماہرین کے مطابق کارکنوں کی اجرت کی چوری (Wage Theft) سے مراد وہ عمل ہے کہ جب کوئی آجر (مالک یا کمپنی) اپنے کارکنوں کو وہ مکمل اجرت یا مراعات ادا نہیں کرتا، جن کے وہ قانونی طور پر حق دار ہوتے ہیں۔ یہ ایک استحصالی عمل ہے جس میں کارکنوں کی محنت کی مکمل ادائیگی سے انکار کیا جاتا ہے۔

اجرت کی چوری کی اقسام اور مثالوں میں کارکنوں کو مقررہ کم از کم اجرت ادا نہ کرنا، کارکنوں کو قانون میں مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم ادائیگی کرنا، اضافی کام کے معاوضہ (Over time) کی ادائیگی نہ کرنا، ملازمین کو ہفتے میں مقررہ کام گھنٹوں سے زیادہ کام لینے پر اضافی ادائیگی (یعنی ڈیڑھ گنا اجرت) نہ کرنا، کام کے تمام گھنٹوں کی ادائیگی نہ کرنا، کارکنوں کو فارغ وقت کے دوران کام کرنے پر مجبور کرنا، کارکنوں کی اجرتوں سے غیر قانونی طور پر رقم کی کٹوتیاں کرنا، کارکنوں کی غلط طور سے درجہ بندی کرنا، جیسے مستقل کارکنوں کو غلط طریقے سے آزاد ٹھیکیدار کے ملازم ظاہر کرنا تاکہ قانونی مراعات یا ٹیکس سے بچا جا سکے۔ کارکنوں کو قانونی طور پر طے شدہ آرام اور کھانے کے وقفے نہ دینا یا وقفہ میں بغیر اجرت کے کام لینا۔

اگرچہ اجرت کی چوری ہر سطح کے کارکنان کو متاثر کر سکتی ہے، مگر اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ناخواندہ، مجبور اور تارکین وطن، کم اجرت پر کام کرنے والے، زراعت و تعمیرات، اور گھریلو کام انجام دینے والے کارکن ہوتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آجروں کی جانب سے کارکنوں کی اجرتوں کی چوری کا مسئلہ اتنا اہم کیوں ہے؟ چونکہ آجروں کے اس غیر قانونی طرزعمل کے نتیجہ میں کارکنوں کو مکمل اجرت نہ ملنے سے انہیں اپنے بنیادی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اجرت کی چوری سے متاثرہ کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مناسب غذائی اشیاء صرف خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گھر کا کرایہ یا قسطیں ادا نہ ہونے سے انہیں گھر سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہیں اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑ سکتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اس مالی دباؤ سے کارکنوں کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

ایک اور حدیث کے مطابق آجر کی جانب سے کسی کارکن کی اجرت کو روکنا اور اس کی اجرت چوری کرنا اس کے گناہ گار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس آدمی کا رزق روک لے جس کا وہ مالک ہے۔ لہذاء ان شرعی احکامات کی روشنی میں آجروں کو اپنے کارکنوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے سے ہر ممکن گریز کرنا چاہیے اور انہیں غربت اور غلامی کی اجرتیں (Poverty and Slavery Wages) ادا کرنے کے بجائے معاشرہ میں ایک باعزت گزر بسر والی منصفانہ اجرتوں (Fair Wages) کی ادائیگی کرنی چاہیے۔

اگرچہ ادائیگی اجرت قانون میں کارکنوں کی اجرتوں کی اہمیت اور اس کی ادائیگی کے ایک موثر نظام کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن اس قانون پر اس کی روح کے عین مطابق عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ اس قانون کی رو سے آجروں کی جانب سے کارکنوں کی واجب الادا اجرتوں کی شرح کو کام کی جگہوں کے نمایاں مقامات یا کارخانوں کی عمارتوں میں نصب نوٹس بورڈز پر نمایاں جگہ آویزاں کیا جائے گا، ہر صنعتی، کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں میں کارکنوں کو اجرت کی ادائیگی کے لئے باقاعدہ ایک ”ادائیگی دن“ (Pay Day) مقرر کیا جانا ضروری ہے اور اس مقررہ دن بلا کسی تاخیر کے کارکنوں میں اجرتوں کی تقسیم کی جانی چاہئیں، تمام اجرتیں، اجرتوں کی واجب مدت کے آخری دن کے بعد سے ساتویں دن کے اختتام سے قبل ادا کی جائیں گی۔ آجروں پر یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کارکنوں کو ان کی اجرت کی بلا کسی امتیاز ادائیگی کریں، کارکنوں کی اجرت خدمات کے لحاظ سے فی گھنٹہ، یومیہ، ہفتہ واری، پندرواڑھے یا ماہانہ بنیاد پر ادا کی جا سکتی ہیں لیکن کسی کارکن کی اجرت کی ادائیگی کی مدت ایک ماہ سے کسی طور تجاوز نہیں ہوگی، ہر آجر کارکنوں کو مقررہ وقت پر مکمل اجرت کی ادائیگی کا پابند ہو گا البتہ اسے قواعد کے تحت مطابق طے شدہ کٹوتیوں کی اجازت ہوگی، ہر آجر کارکنوں کو اجرت کی ادائیگی اور کٹوتیوں کی تفصیلات پر مشتمل ایک گوشوارہ فراہم کرنے کا پابند ہو گا جس کی زبان اور ترتیب کارکن کے لئے قابل فہم ہو اور کارکنوں کو اجرت نقد کی صورت میں ادا کرنے کے بجائے کارکنوں کے انفرادی بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ ادا کی جائیں گی۔

ملک میں 2010 میں ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں وفاق سے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم قدیم وزارت، وزارت محنت و افرادی قوت و سمندر پار پاکستانی کا خاتمہ کر کے 2013 میں اس کی جگہ ایک نئی وزارت، وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل تشکیل دی گئی تھی۔ جس کے موجودہ وزیر چوہدری سالک حسین ہیں۔ اس وزارت کے تحت ملک بھر کے محنت کشوں اور ان کے گھرانوں کی فلاح و بہبود کے لئے متعدد قومی فلاحی ادارے ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) ، ورکرز ویلفیئر فنڈ، قومی صنعتی تعلقات کمیشن اور ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز ایجوکیشن جبکہ بیرون ملک برسر روزگار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ، اوور سیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جبکہ ملک کے چاروں صوبوں میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے صوبائی سطح پر وزرائے محنت و انسانی وسائل کی سربراہی میں محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل اور ان کے ماتحت محکمے بھی قائم ہیں۔ جن میں سیکریٹری محنت و انسانی وسائل، ڈائریکٹر جنرل محنت، ڈائریکٹر محنت، ڈپٹی ڈائریکٹر محنت، لاء افسران اور انسپکٹرز تعینات ہیں۔ جبکہ چاروں صوبوں میں کم از کم اجرت کے تعین کے لئے سہ فریقی کم از کم اجرت بورڈ بھی قائم ہیں۔

جبکہ حکومت پاکستان نے رکن ملک کی حیثیت سے عالمی ادارہ محنت کے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، باوقار روزگار کے فروغ اور ان کے حالات کار بہتر بنانے کے متعلق 36 عہد ناموں (Conventions) اور ایک ضابطہ اخلاق کی توثیق بھی کی ہوئی ہے۔ جس کے تحت وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل، حکومت پاکستان اور چاروں صوبوں کے محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل کو ملک کے آٹھ کروڑ سے زائد محنت کشوں پر مشتمل عظیم افرادی قوت کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا نگہبان اور محافظ مقرر کیا گیا ہے۔

لیکن ان واضح دینی احکامات، متعدد وزارتوں، درجنوں محکموں اور افسران اور عملہ کی فوج ظفر موج اور پچاس سے زائد مزدور قوانین کے باوجود ملک کے بیشتر صنعتی، کاروباری، تجارتی اور دیگر شعبوں میں ملک کی اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھنے والے کروڑوں جفاکش کارکنوں کی جائز اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیری حربوں اور ٹال مٹول کے ذریعہ ان کی جائز اجرت کی چوری (Wage Theft) کا ایک عام رجحان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ادائیگی اجرت قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ملوث آجروں کو دس ہزار روپے تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ادائیگی اجرت قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں با اثر آجروں آج تک ہر قسم کے جرمانوں اور سزاؤں سے بچے ہوئے ہیں۔

لہذا ملک کے کروڑوں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے عالمی ادارہ محنت کے عہد ناموں کی توثیق کرنے والی ریاست پاکستان اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے نام پر قائم ہونے والی وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل اور چاروں صوبوں کے محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل کے ارباب و اختیار کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کارکنوں کی اجرتوں کی چوری (Wage Theft) کے غیر قانونی طرز عمل کا فوری طور پر خاتمہ کریں اور اس غیر قانونی عمل میں ملوث طاقت ور آجروں اور مالکان کو سخت تنبیہ جاری کرتے ہوئے ان پر قانون کے مطابق بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور سزائیں بھی دی جائیں تاکہ ملک میں کروڑوں محنت کشوں کی جائز اجرتوں کی چوری کے سنگین جرائم کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

سابق افسر تعلقات عامہ EOBI
ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان

Facebook Comments HS