سرمایۂ زیست: مثبت نفسیات کے فلسفہ میں گرین زون کا مقام


زندگی ایک پیچیدہ سفر ہے، جس میں خوشی اور غم، امید اور مایوسی، کامیابی اور ناکامی کے رنگ گھل مل کر ایک خوبصورت مگر مشکل تصویر بناتے ہیں۔ اس تصویر کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے صدیوں سے انسان کو فکری رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوتی رہی ہے۔ بیسویں صدی میں ایک نیا شعبہ، مثبت نفسیات (Positive Psychology) ابھرا، جس نے انسانی فلاح و بہبود اور خوش حالی پر توجہ مرکوز کی۔ اس شعبے میں کئی روشن دماغوں نے اپنی بصیرت سے انسان کو زندگی گزارنے کے نئے طریقے سکھائے۔

ان میں مارٹن سیلگمین (Martin Seligman) ، میہالی چیکسینٹ میہالی (Mihaly Csikszentmihalyi) اور ڈاکٹر کیرول ڈوئک (Dr Carol Dweck) جیسے نام نمایاں ہیں، جنہوں نے مثبت نفسیات کو ایک نئی جہت دی۔ ان کے افکار کی گہرائی، پیچیدگی اور اطلاقی پہلوؤں کا موازنہ جب ہم ڈاکٹر خالد سہیل کی ”گرین زون“ کے فلسفے سے کرتے ہیں تو ہمیں ایک دل چسپ اور قابلِ غور بصیرت حاصل ہوتی ہے۔

مارٹن سیلگمین، جسے مثبت نفسیات کا بانی کہا جاتا ہے، نے ”سیکھی ہوئی بے بسی“ (Learned Helplessness) کے تصور سے آگے بڑھ کر ”سیکھی ہوئی رجائیت“ (Learned Optimism) کی بات کی۔ ان کا نظریہ بنیادی طور پر فرد کی مضبوطیوں اور خوبیوں کو پہچاننے اور ان پر کام کرنے کے گرد گھومتا ہے۔ وہ PERMA ماڈل پیش کرتے ہیں : Positive Emotion، Engagement، Relationships، Meaning، Accomplishment، یعنی مثبت جذبات، مشغولیت، تعلقات، معنی خیزی اور کامیابی۔

سیلگمین کا طریقۂ علاج نفسیاتی مشقوں پر مبنی ہے، جو فرد کو اپنی مثبت خصوصیات کو بڑھانے اور ایک بامعنی زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ نقطۂ نظر ایک منظم اور سائنسی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جو ماہرین نفسیات کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ عمل ہے۔ تاہم، ایک عام آدمی کے لیے، جو نفسیات کی بنیادی اصطلاحات اور نظریات سے ناواقف ہو، یہ ماڈل اور اس کی گہرائیاں کبھی کبھی پیچیدہ اور مشکل لگ سکتی ہیں۔ اسے سمجھنے اور اپنی زندگی میں لاگو کرنے کے لیے ایک خاص ذہنی مشقت اور نفسیاتی تربیت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب، میہالی چیکسینٹ میہالی نے ”فلو“ (Flow) کے تصور کو متعارف کرایا۔ فلو ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جہاں انسان کسی کام میں اتنا مگن ہو جاتا ہے کہ اسے وقت اور ماحول کا ہوش نہیں رہتا۔ یہ کیفیت خوشی اور اطمینان کا باعث بنتی ہے کیونکہ اس میں فرد اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ میہالی کا زور انسان کی صلاحیتوں اور چیلنجوں کے درمیان توازن پیدا کرنے پر ہے۔ ان کا طریقۂ علاج بھی عملی مشقوں اور سرگرمیوں پر مبنی ہے جو فرد کو فلو کی کیفیت تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں۔

چیکسینٹ میہالی کا کام بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے، لیکن فلو کی کیفیت تک پہنچنا ہر شخص کے لیے یکساں طور پر آسان نہیں ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے مسلسل ریاضت، خود آگاہی اور اپنی صلاحیتوں کا ادراک ضروری ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے، جو روزمرہ کے مسائل اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہو، فلو کی کیفیت کا حصول ایک اضافی بوجھ یا غیر حقیقی ہدف بھی محسوس ہو سکتا ہے۔

مثبت نفسیات کے شعبے میں ڈاکٹر کیرول ڈوئک کا کام بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ”گروتھ مائنڈ سیٹ“ (Growth Mindset) کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق انسان کی کامیابی یا ناکامی میں اس کی ذہنی کیفیت (مائنڈ سیٹ) کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ ڈوئک کے مطابق، دو طرح کے مائنڈ سیٹ ہوتے ہیں : فکسڈ مائنڈ سیٹ (Fixed Mindset) اور گروتھ مائنڈ سیٹ (Growth Mindset) ۔ فکسڈ مائنڈ سیٹ والے لوگ اپنی صلاحیتوں کو طے شدہ سمجھتے ہیں، وہ غلطیوں سے ڈرتے ہیں اور چیلنجز سے کتراتے ہیں۔

جبکہ گروتھ مائنڈ سیٹ والے لوگ یہ مانتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں محنت اور لگن سے بہتر ہو سکتی ہیں، وہ غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور چیلنجز کو ترقی کا موقع سمجھتے ہیں۔ ڈوئک کا طریقۂ علاج لوگوں کو فکسڈ مائنڈ سیٹ سے گروتھ مائنڈ سیٹ کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کا کام بھی سائنسی تحقیقات پر مبنی ہے اور اس نے تعلیم، کاروبار اور ذاتی ترقی کے شعبوں میں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تاہم، عام افراد کے لیے یہ تصور، اگرچہ سادہ ہے، لیکن اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں مکمل طور پر اپنانا اور اپنے تمام رویوں کو اس کے مطابق ڈھالنا مسلسل شعوری کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ اپنے اندر موجود فکسڈ مائنڈ سیٹ کے تعصبات کو پہچاننا اور انہیں تبدیل کرنا ایک طویل عمل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس، ڈاکٹر خالد سہیل کا ”گرین زون“ کا فلسفہ ایک مختلف مگر انتہائی موثر اور قابلِ فہم نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل ایک کینیڈین پاکستانی سائیکائٹرسٹ ہیں جنہوں نے مشرقی اور مغربی فلسفوں کو یکجا کر کے ایک ایسا ماڈل پیش کیا ہے جو نہ صرف گہرا ہے بلکہ عام فہم بھی۔ آئیے ہم آپ کو گرین زون فلسفے کے بنیادی اصولوں سے متعارف کراتے ہیں، جو کہ بنیادی طور پر تین طرح کی جذباتی کیفیات یا emotional zones کے تصورات پر مبنی ہیں۔ ہم ان جذباتی کیفیات کو ٹریفک لائٹس کی علامتوں کا استعمال کرتے ہوئے، سبز، پیلا اور سرخ زون کا نام دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب آپ پُرسکون اور خوشگوار زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو آپ اپنے سبز یا گرین زون میں ہوتے ہیں۔ گرین زون امن، سکون، خوشی اور فلاح کا مرکز ہے۔ جب آپ معمولی سے مایوس، غمگین، پریشان یا غصے میں ہوں تو آپ اپنے پیلے یعنی ییلو زون میں ہوتے ہیں۔ ییلو زون احتیاط کا علاقہ ہے جہاں ہم اپنے مسائل کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اُس وقت جب آپ شدید ناراض، افسردہ یا پریشان ہوجائیں اور آپ کا غصہ اس حد تک بڑھ جائے کہ آپ اپنا کنٹرول کھو بیٹھیں تو آپ اپنے لال یا ریڈ زون میں ہوتے ہیں۔ ریڈ زون وہ ہے جہاں منفی جذبات، خوف، غصہ اور مایوسی حاوی ہوتی ہے۔ گرین زون کا تصور زندگی کو ایک کھیل سمجھنے پر مبنی ہے، جہاں ہم ”ریڈ زون“ (Red Zone) سے بچتے ہوئے، ”ییلو زون“ (Yellow Zone) میں احتیاط سے چلتے ہوئے ”گرین زون“ (Green Zone) میں داخل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل کا طریقۂ علاج، جو ان کی مختلف کتابوں اور لیکچرز میں بیان کیا گیا ہے، کسی پیچیدہ نفسیاتی ماڈل یا سائنسی اصطلاحات کا محتاج نہیں ہے۔ وہ سادہ اور روزمرہ کی زبان میں بات کرتے ہیں، مثالیں دیتے ہیں جو ہر شخص اپنے اردگرد دیکھ سکتا ہے اور ان سے سیکھ سکتا ہے۔ ان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی اور بیرونی دنیا میں توازن پیدا کریں۔ وہ خود آگاہی، خود تنقیدی، دوسروں کے ساتھ تعلقات میں اخلاقی اقدار کی پاسداری، اور معافی و برداشت جیسے تصورات کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل کا زور اس بات پر ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مسائل کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھیں نہ کہ ایک سزا کے طور پر۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر ”شفا“ کی صلاحیت موجود ہے، بس اسے پہچاننے اور پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

گرین زون کی فلسفہ کا سب سے بڑا فائدہ اس کی سادگی اور عملیت ہے۔ ایک عام آدمی، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا نہ ہو، ڈاکٹر سہیل کے تصورات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور اپنی زندگی میں لاگو کر سکتا ہے۔ اسے کسی نفسیاتی ماہر کی مدد کی ضرورت نہیں، نہ ہی اسے کسی پیچیدہ نظریے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سہیل کے مطابق، زندگی کا گرین زون کوئی دور دراز کی جنت نہیں، بلکہ وہ ہمارے اندر اور ہمارے اردگرد موجود ہے، بس اسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فلسفہ انسان کو اپنی ذمہ داری قبول کرنے، اپنے رویوں کو بدلنے، اور ایک مثبت سوچ اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ منفی حالات میں بھی ہم مثبت پہلوؤں کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں، اور کس طرح اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

نتیجتاً، اگرچہ مارٹن سیلگمین، میہالی چیکسینٹ میہالی اور کیرول ڈوئک جیسے ماہرین نے مثبت نفسیات کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی ہے، لیکن ڈاکٹر خالد سہیل کا گرین زون کا فلسفہ ایک عام آدمی کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور قابلِ عمل ہے۔ یہ نفسیاتی، معاشرتی اور اخلاقی پہلوؤں کا حسین امتزاج ہے جو انسان کو ایک بہتر زندگی گزارنے کا آسان اور موثر راستہ دکھاتا ہے۔ گرین زون محض ایک فلسفہ نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے، ایک امید کی کرن ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر ہم اپنے اندرونی گرین زون کو تلاش کر سکتے ہیں اور وہاں پناہ لے سکتے ہیں۔ یہ وہ سرمایۂ زیست ہے جو ہر انسان کو اپنے اندر محفوظ رکھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani