سول سروس کی اونچی دکان کے دو پھیکے پکوان
میں سول سروس میں بغلی دروازے ( پی سی ایس) سے داخل ہوا۔ طوعاً کرہاً بلند دروازے (سی ایس ایس) سے داخل ہونے والوں نے اپنے دَل میں جگہ دے دی۔ اس دَل میں میری حیثیت افرو امریکنوں کی امریکہ میں حیثیت سے کچھ ایسی مختلف نہ تھی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ چمکتی چمڑی والے بھی اپنے درمیان برہمن تا شودر کی تقسیم کچھ یوں رکھتے تھے کہ زبان سے نہ سہی ان کی ہر ادا سے اس کا اظہار ہوتا رہتا تھا۔ بلند دروازے سے داخل ہونے والوں کی اپنی رائج کردہ تقسیم سے قطع نظر، میں نے ان کی علمی اور دوسری شخصی خوبیوں کے حوالے سے برہمن تا شودر، ان میں کچھ ایسا نمایاں فرق کبھی نہ پایا۔ بلکہ خدا لگتی کہوں تو بعض اوقات ایک شودر کو ایک برہمن سے بڑھ کے باصلاحیت پایا۔
اس تمہید کے بعد اب میں بوجھل دل کے ساتھ جن دو افسروں کا ذکر کرنے پہ مجبور ہوا ہوں وہ دونوں بلند دروازے سے سول سروس میں داخل ہوئے۔ ایک برہمن دَل اور دوسرا ویش دَل میں، جو فارن سروس کہلاتا ہے۔ گریڈ 22 تک پہنچنے والے یہ وہ بونے تھے جن کے بارے میں کسی دل جلے نے کہا ہے کہ گریڈ 22 کے افسر سے بڑھ کر دو نمبر کوئی اور بھلا کیا ہو گا کی جس کے گریڈ میں ہی دو نمبر دو مرتبہ آتا ہے۔
ان میں سے پہلے کے نامِ نامی کا قافیہ اولیاء بنتا ہے اور دوسرے کے نام کا مفہوم دراز قد ہے۔
ذکر ہے دو پوڈ کاسٹوں کا جن میں ایک کے میزبان اولیاء ہیں اور ایک دوسری جو ”کہو سنو جانو“ کا بینر رکھتی ہے اس کے کوئی غیر معروف شخص۔ دونوں میں مہمان ایک ہی پھیکا پکوان ہے۔
اولیاء کا وہ کلپ تو ان کی اولیائی صفات پہ حیران کرتا ہے جس میں وہ اپنا ایک خواب بیان کرتے ہوئے ایک حرفِ راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا حضرت عمر فاروق حضورِ اکرمﷺ کو ایک فائل بائیں ہاتھ سے پیش کرتے ہیں جس پر ان کی سرزنش ہوتی ہے۔ پھر وہ دائیں ہاتھ سے پیش کرتے ہیں تو اسے منظور کر لیا جاتا ہے۔ یہ جنرل باجوہ کی چیف آف سٹاف تعیناتی کی فائل ہوتی ہے۔
حضرت علی نے فرمایا۔ بولو، کہ پہچان لیے جاؤ۔ یہ بے چارہ اس خواب کے بیان سے اپنے پھیکا پکوان ہونے کی پہچان پکی کرا چکا ہے لہذا اس کا مزید کچا چٹھا کھولنا سعیِ لا حاصل ہے۔
اب خان کے لاحقے والے ودیشی نوکری کے مزے لوٹنے والے پھیکے پکوان کی بھی سن لیجیے۔ وہ ملک کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والی شخصیت، جن کے اپنے لیے ایثار اور اعتماد کا بھی ذکر کرتا ہے، کا نام ایسی غیر مہذب بے تکلفی سے لیتا ہے جیسے بچپن میں گوالمنڈی میں ان کے ساتھ بنٹے کھیلتا رہا ہو۔
اور سنیئے۔ ایٹمی صلاحیت کے حصول پہ انکشاف ہوتا ہے کی اس کا کریڈٹ صرف اور صرف قدیر خان کا ہے۔ بھٹو اور نواز شریف نے بس سیاسی شعبدہ بازی کی ہے۔ اب اندازہ کیجیے بھٹو کا وہ کریڈٹ جو مجھ سمیت اس کے مخالف بھی نہیں جھٹلاتے یہ عقلِ کل اسے بھی رد کر دیتا ہے۔ اقبال یاد آ گئے۔
ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
پھر انڈیا میں رہ جانے والے اپنے رشتہ داروں کے اچھے حالات مرچ مصالحے کے ساتھ بیان کرنے لگے۔ کہا انہوں نے وہاں ٹھہر کر ٹھیک فیصلہ کیا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہیں درحقیقت کس کس مرچ مصالحے اور کڑواہٹ کا سامنا ہے جو کبھی گاؤ رکشا، کبھی لو جہاد، کبھی وقف قانون، کبھی بلڈوزر راج اور یہاں تک کہ شربت جہاد تک پہنچے کے بعد کرنل صوفیہ قریشی کو آتنک وادیوں کی بہن کہنے تک۔
ع۔ کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں
مرکنڈے کاٹجو نے جو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں حال ہی میں جاوید اختر کی شر انگیزی پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل تو ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے۔
اب ہمارے اس پھیکے پکوان سے جو سیکریٹری خارجہ بھی رہا، یہ سوال بھی بنتا ہے کہ یہاں تو تم نے خوب گلچھرے اڑائے، ذرا یہ بتاؤ یہاں کہ مقابلے میں انڈیا میں کتنے مسلمان سول سروس میں آئے اور امریکہ یورپ اقوامِ متحدہ میں سفیر تعینات ہوئے۔ تمہیں یہ بھی ضرور پتہ ہو گا کہ مسلمان بھارت کی آبادی کا 14 فی صد ہیں جبکہ سکھ 2 فی صد سے بھی کم۔ لیکن مسلمان فوج سول سروس اور اہم حکومتی اداروں میں ان سے کم حصہ رکھتے ہیں۔ اس ”حسن ِسلوک“ کا ذکر برسوں پہلے کے ایل گابا اپنی کتاب ”مجبور آوازیں“ میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔
میرا ایک دوست کیا پتے کی بات کرتا ہے کہ پاکستان کی تحریک سے نسبت رکھنے والی جگہیں جیسے مینارِ پاکستان، مزارِ قائد وغیرہ اُنہی پاکستانیوں سے آباد ملتی ہیں جنہیں اس ملک کے قیام کا کوئی ثمر نہیں ملا۔ اس کے مقابلے میں بونوں نے اپنی طرح کے دوسرے بونوں سے مل کر ایک کارٹل بنایا اور پھر اَنھی ہی پا دتی۔
لیکن ایسے بونوں کے بیچ سے ایسے سرو قد بھی سامنے آئے جنہوں نے احسان مندوں کی طرح اس ملک کی بدولت ملنے والی عزت کا پاس کیا۔ پھر جب اس زمین کی مٹی سے ہم آغوش ہونے کا وقت قریب ہوا تو اپنی ساری پونجی سے آزاد کشمیر سے ایک بے مثل تعلیمی تحریک آ آغاز کر کے زندہ جاوید ہو گئے۔ یہ ”آوازِ دوست“ کے رمز آشنا، مختار مسعود تھے۔
ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے۔



میرا ماننا اس سلسلے میں کچھ اور ہے۔
جب ایک حاضر سروس بیوروکریٹ یا سرکاری ملازم کو یہ سہولت مل جائے کہ وہ نوکری کے ساتھ لکھنے یا انٹرویوز سے چار پیسے اور کمالے تو میں اسے صریحا بددیانتی سمجھتا ہوں۔
اس میں ایسے لوگوں کو پھر بھی استثنی مل سکتا ہے جو نوکری سے پہلے ادبی مقام رکھتے ہوں۔ لیکن بہرحال یہ زیادتی ہی ہے۔
اولیاء ہوں کوئی پیرزادہ اور یا کوئی خان یا بلوچ اور یا الحق ۔۔۔ماضی میں جب یہ لوگ ذیلی کمائی کرتے تھے تو ان کو سیاستدانوں اور حکمرانوں کی مدح سرائی یا مخالفت سے اپنی مشہوری پوسٹنگ یا مراعات لینے میں آسانی ہوجاتی تھی۔
اگر تمام سرکاری افسران بشمول فوجی اور ان کے اہل خانہ پر پابندی ہے کہ وہ میڈیا پر معلومات نہیں لاسکتے یا ٹی وی پر کام نہیں کرسکتے تو کیسے ان لوگوں کو یہ سہولت مل جاتی تھی اور ہے۔
میں اسے رشوت کی ایک مہذب شکل مانتا ہوں۔
سوشل میڈیا کے بعد تو اس وبا نے ایک اور شکل اختیار کرلی ہے۔
۔
زید ہو اولیا یا خان یا قادری و جمیل جیسے لوگوں کے دماغ میں کیا چل رہا ہے یہ جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
اور جب ایک شخص ان کی محدود علمیت کو جان لے تو سچ یہ ہے کہ ہاتھ میں اگر ریموٹ ہے تو چینل تبدیل کرلیں اور اگر انٹرنیٹ پر ہیں تو کچھ اور دیکھ لیں۔
بلکہ جو چینل یا ویب سائٹ ان جیسے لوگوں کو سورما گردانتے ہیں ان کو ان سبسکرائب یا دس بیس ڈسلائیک کرنے سے بھی معاشرے میں تبدیلی آجاتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ آپ نے ان جیسوں پر ایک کالم لکھ کر الٹا ان کی شہرت میں اضافہ ہی کردیا ہے۔
کیا ضرورت تھی !
اولیا جنہیں ان کے کورس میٹ پیار سے OMG بھی کہتے ہیں۔ ان کے ایک کورس میٹ کا کہنا ہے کہ یہ شخص کتنی دور کی پلاننگ کرتا ہے اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب اس ناٹے سے قد والے افسر نے ایک طویل قامت خاتون سے شادی کی۔
ہم سب بڑے حیران ہوئے کیوں کہ عام طور پر مرد اپنے سے قدرے کم یا برابر قامت کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں۔ جانتے بوجھتے 6 سے 9 انچ بڑی لڑکی سے کون شادی کرتا ہے ؟
OMG یعنی اولیا سے بعد میں پوچھا تو مسکرا کر بولے یار میرے جذباتی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر بیوی بھی چھوٹے قد کی ہوتی تو بچے ناٹے ہی پیدا ہوتے اور احساس کمتری کا شکار رہتے اب کم از کم پچاس فی صد امکان اس بات کا تو ہے کہ بچے اگر ماں پر گئے تو طویل قامت ہونگے !!!