نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا الحاد اور علما کی ذمہ داری

کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ لوگوں کے لئے ان کا مقامی مولوی ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ آج وہ ایک چیز کہے اور پانچ برس بعد اس کے مخالف بات کرے تو اس کے علاقے والوں کے دل میں سوال پیدا نہیں ہوتے ہیں۔

لیکن ایک پڑھا لکھا شخص، خاص طور پر جب وہ یونیورسٹی اور کالج میں ہو، اس چیز پر بدگمان ہوتا ہے۔

یہ بدگمانی ان علما سے شروع ہوتی ہے جن کا موقف اس نے بدلتے دیکھا ہوتا ہے اور بالآخر مذہب پر جا کر تمام ہوتی ہے اور الحاد ان نوجوانوں کی آخری منزل ہو سکتا ہے۔

موجودہ دور انفارمیشن کا ہے اور علم ہر شخص کی دسترس میں ہے۔ اس میں علما کو بھی خود کو تبدیل کرنا ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی موقف اختیار کرنے سے پہلے وہ اس کے عواقب پر خوب غور کریں۔

ایک عالم کا نام ذہن سے نکل رہا ہے۔ سو برس پہلے کسی نے ان سے کاغذی روپوں کے جائز یا ناجائز ہونے پر سوال کیا۔ عالم نے جواب دیا کہ کاغذی نوٹوں کے خلاف فتوی نہیں چلے گا مگر نوٹ چل جائیں گے۔

ٹیکنالوجی کا یہی معاملہ ہے۔ پرنٹنگ پریس، لاؤڈ سپیکر، ریل، ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سب چل گئے ہیں۔ ان کے خلاف اسلام ہونے کے فتوے نہیں چلے ہیں۔ عوام جب کسی ٹیکنالوجی میں اپنے لئے آسانی دیکھتے ہیں یا اسے مفید پاتے ہیں تو اسے اپنا لیتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے خلاف موجود فتوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

علما کو اب اپنی تعلیم و تربیت کے ڈھنگ بدلنے ہوں گے۔ جیسے جیسے جدید تعلیم عام ہو رہی ہے، ویسے ویسے ان کو بھی ایسے مفتی سامنے لانے ہوں گے جنہوں نے یونیورسٹی اور کالج میں عام افراد کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے بعد علوم دین میں مہارت حاصل کی ہو۔

اس سے وہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے بھی آشنا ہوں گے اور ان افراد کے ذہنوں سے بھی جو اب اکثریت بن رہے ہیں۔ اس سے ان علما کے اپنے سوچنے کے انداز پر بھی فرق پڑے گا۔

وہ اسلام کی ایسی تفہیم پیش کر سکیں گے جو نہ صرف یہ کہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، بلکہ ان کا انداز تبلیغ نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سمجھ بھی آئے گا۔

بعض افراد یہ نشان دہی کریں گے کہ کئی مدارس کے نصاب میں کمپیوٹر اور دیگر جدید علوم کی تعلیم بھی شامل ہے اور اس لئے ان کے فارغ التحصیل علما جدید علوم سے آشنا ہیں۔ صاحب معاملہ صرف جدید علوم کو سمجھنے کا ہی نہیں ہے، معاملہ جدید دور کے نوجوانوں کے ذہن کو سمجھنے کا بھی ہے جو کالج اور یونیورسٹی جائے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ایسا نہ کیا گیا تو یونیورسٹی اور مدرسے میں خلیج بڑھتی جائے گی اور دونوں کی سوچ میں ایسا بعد المشرقین اور رویے میں ایک دوسرے کے لئے ایسی حقارت پیدا ہو گی کہ ایک طبقہ داعش کی سوچ اپنا لے گا اور دوسرے کو الحاد اپنی جانب کھینچے گا۔

جدید علوم حاصل کرنے کے بعد بہتر روزگار کے مواقع میسر ہونے کے سبب مڈل کلاس اور خوش حال طبقہ اپنے بچوں کو جدید تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کو ترجیح دیتا ہے۔ غریب طبقات میں جو افراد استطاعت رکھتے ہیں ان کا بھی یہی چلن ہے۔ یعنی معاشرے کے نوجوانوں کی اکثریت جدید تعلیم دینے والے اداروں کا ہی رخ کرے گی۔

اب یہ علما پر منحصر ہے کہ وہ اپنے رویے اور تعلیمی اپروچ میں تبدیلی لا کر اس اکثریت کو اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں یا اسے دین سے دور دھکیلنے کا سبب بنتے ہیں۔


مولانا طارق جمیل اور جاوید غامدی پڑھے لکھے طبقے میں کیوں مقبول ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words