حاشر ارشاد صاحب کے حضور: بلاول کی تقریر کا سیاق و سباق
ہمارے معاشرے میں اساتذہ کی بات کو چیلنج کرنا یا ان کی اصلاح کی کوشش کرنا اکثر گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔ خصوصاً جب وہ استاد ہمیں اخلاقیات کے طویل درس دے چکے ہوں۔ تاہم، جب بات تدریسی اصولوں کی ہو، تو خاموشی بعض اوقات نا انصافی کو دوام دے سکتی ہے۔ حال ہی میں ایک 74 یا 75 سیکنڈز پر مشتمل کلپ وائرل ہوا، جس میں جناب بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کا ایک مخصوص حصہ پیش کیا گیا، وائرل ہونے کے اسباب میں ایک وجہ ہمارے استاد محترم حاشر ارشاد صاحب کی غیر ضروری تنقیدی پوسٹ بھی ہے۔ غیر ضروری اس لئے کہ، اگر اس کلپ کے ساتھ تقریر کے ابتدائی 30 سیکنڈ اور بعد کے 60 سیکنڈ شامل کر دیے جائیں تو پورے بیان کا سیاق و سباق واضح ہو جاتا ہے، اور ساتھ ہی محترم حاشر صاحب کی نکتہ چینی کا غیر متوازن پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
بلاول اپنی تقریر میں اپنے سفارتی مشن کی تفصیل بیان کر رہے تھے، جہاں وہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن بہتر بنانے کی کوششوں کا ذکر کر رہے تھے۔ مگر ہمارے استادِ محترم نے صرف ”جنگ“ کے لفظ کو مرکزِ گفتگو بنا کر تنقید کی بنیاد بنا لی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی استاد اکثر سیاق و سباق کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں، مگر اس موقع پر وہ اپنے ہی تعلیم دیے اصول فراموش کر بیٹھے۔ بلاول کے الفاظ جو حاشر صاحب نے ابتدا میں حذف کیے وہ یہ ہیں ”ہمارا موقف یہ تھا کہ ہم نے سیز فائر تو حاصل کر لی لیکن جب تک اس خطے میں مستقل امن قائم نہیں کریں گے۔ نہ یہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہے نہ بھارت کے عوام کے مفاد میں ہے۔ کئی اہم ایشوز ہیں جن پر ہم نے آواز اٹھائی۔ ایک تو کشمیر کا موقف۔ جو ہمیشہ پاکستان کے لئے ایک اہم موقف رہا ہے۔ کشمیر کے عوام کی جو امیدیں ہیں جو ان کا حق ہے جہاں تک یونائٹڈ نیشنز کی ریزولیوشن کے مطابق اس پر نہ صرف ہم نے بات کی“
حاشر صاحب نے جن الفاظ پر مشتمل کلپ کو اٹھا کر بلاول کو تختہ مشق بنانے کی کوشش کی وہ یہ ہیں۔
”پچھلی حکومت کا تو 2019 میں جب کشمیر کا حملہ ہوا اور ان کا وزیراعظم یہاں کھڑا تھا میں ادھر بیٹھا تھا اور ہم سب نے دیکھا کہ اس کے ری ایکشن میں ہمارا وزیراعظم صاحب نے اس وقت کہا کہ میں کیا کروں آپ کیا چاہتے ہو کہ میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ دوں؟ اگر میرا الفاظ اپ کو غلط لگیں تو آپ ریکارڈنگ دیکھیں۔ ہم سب نے یہ دیکھا کہ وزیراعظم صاحب نے اٹھ کے کہا کہ میں کیا کروں اپ کیا چاہتے ہو میں جنگ چھیڑ دوں لیکن میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس دفعہ جب کشمیر پہ حملہ ہوا جب پاکستان پہ حملہ ہوا بھارت کی طرف سے حملہ ہوا تو پاکستان ڈرا نہیں جھکا نہیں ہم نے جنگ کی اور وہ جنگ جیت چکے“
جنگ کو مرکز گفتگو بنا کر بلاول پر تنقید کے نشتر چلانے والے ہمارے استاد محترم اگر اگلے 60 سیکنڈ بھی سن لیتے تو شاید سمجھ پاتے۔ بلاول بھٹو نے آگے کہا۔
”جب پچھلا حکومت کا رد عمل یہ تھا کہ ہم کشمیر ہائی وے کو آج کے بعد سری نگر ہائی وے کہہ دیں گے جب پچھلا حکومت کا رد عمل یہ تھا کہ ہر فرائیڈے کو بعد نماز جمعہ پاکستان کے اندر ہم سب کھڑے ہو کے جہاں بھی ہم ہوں گے وہیں کے بھئی کھڑے ہو کے کشمیر کے لیے آواز اٹھائیں گے، اس حکومت کا جواب یہ تھا کہ چھ جہاز گرائیں ان کو مجبور کیا کہ سیز فائر ہو اور جو خان خان صاحب کی حکومت کے بعد بھارت زور اور شور سے کہتا تھا کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ بن چکا ہے اب بین الاقوامی آبزرورز ہمارے اس ٹور میں مان رہے ہیں کہ یہ تو ایک عالمی ایشو، انٹرنیشنل ایشو بن چکا ہے تو سب سے پہلی سکسیس یہ ہے کہ ہم نے کشمیر کاز کو جو ماضی میں اندرونی معاملہ میں تبدیل کر چکا تھا ایک بین الاقوامی معاملہ بنا دیا ہے۔ یہ کشمیریوں کا سب سے بڑا کامیابی ہے کہ یونائٹڈ نیشن کا ہو یا یونائٹڈ سٹیٹس کا صدر ہو وہ سب کہتے ہیں کہ میڈئیشن ہو۔ بین الاقوامی ایشو ہے بھارت بھی انٹرنیشنل تک تو وہ خود نہیں پہنچے ابھی تک مگر وہ جو ان کے پرانے الفاظ تھے نا اندرونی مسئلہ وہ اس سے پیچھے ہٹ چکے۔ بین الاقوامی جہاں باقی دنیا پہنچ چکا ہے وہ یہاں تک تو نہیں پہنچے مگر بھارت کا اپنا اسیسمنٹ یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ایک بائی لیٹرل ایشو ہے جس پہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان طے ہو سکتا ہے اور کشمیر کے حوالے سے جناب اسپیکر جس طریقے سے جگہ جگہ چاہے وہ یونائٹڈ نیشنز ہو یونائٹڈ سٹیٹس ہو یا یورپین یونین ہو ہر جگہ ایک ایسا ہمدردی ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ جو بھی طریقہ کار اسرائیل نے غزہ میں کرنے کی کوشش کی ویسا ہی مودی نے کشمیر میں کرنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے ایک ہمدردی پیدا ہو رہی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ہم یہ جدوجہد جاری رکھیں گے اور انشاءاللہ تعالی ہم کشمیر کے عوام کو انصاف دلوائیں گے“
جن الفاظ کو بنیاد بنا کر بلاول کو ہدفِ تنقید بنایا گیا، وہ دراصل ایک وسیع تر تناظر کا حصہ تھے۔ اگر استاد محترم صرف اگلے 60 سیکنڈز بھی سن لیتے تو اندازہ ہو جاتا کہ بلاول دراصل 2019 میں کشمیر پر بھارتی اقدام اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان کے کمزور سفارتی ردعمل پر نکتہ چینی کر رہے تھے۔ ان کمزوریوں کو وہ اپنے حالیہ سفارتی سفر کی کامیابیوں کے پس منظر کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ جو ایک سیاستدان کا حق بھی ہے اور عمومی روایت بھی۔
اسی تناظر میں باجوہ صاحب کا ذکر کرنا بھی غیر متعلق محسوس ہوا، کیونکہ نہ تو وہ اس کلپ میں موجود تھے، اور نہ ہی ان کا تذکرہ اس بحث کے تناظر میں فطری تھا۔
محترم استاد نے یہ الزام بھی داغا کہ بلاول، عمران خان کے جنگ سے متعلق بیان پر خاموش ہو گئے، حالانکہ اصل میں عمران خان کا نشانہ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف تھے، اور بلاول اس بحث کا موضوع ہی نہیں تھے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے استادِ محترم ایک ایسے لبرل مقام پر فائز ہیں کہ ان پر کسی قسم کی تعصب پسندی یا صوبائیت کا الزام لگانا سخت نا انصافی ہے۔ مگر بلاول کو مشورہ ہے کہ وہ لاہور کے کسی بزرگ شاعر کو اپنا اتالیق مقرر کریں، تو بے جا تنقید سے بچے رہیں گے۔
استاد محترم سے گزارش ہے کہ تنقید ضرور کریں، مگر وہی اصول اور میزان قائم رکھیں جن کا درس وہ خود دیتے رہے ہیں۔ بصورت دیگر، ان کی تنقید سنجیدہ مکالمے کے بجائے محض جزوی اقتباسات کی بنیاد پر قائم شور بن کر رہ جائے گی۔
تقریر کا لنک
https://www.facebook.com/reel/1100674315445397

