بچوں میں ہونے والے ممکنہ حادثات، احتیاطی تدابیر اور ان کی روک تھام (حصّہ دوم)
4۔ غیر ضروری، زہریلی اور نقصان دہ اشیاء کا کھانا
بچّے چونکہ تجسس پسند ہوتے ہیں وہ ہر چیز کو منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی چیز نقصان دہ ہے اور کون سی نہیں۔ اکثر وہ ان زہریلی چیزوں کو کھانے کی کوئی چیز سمجھتے ہیں اور کھا جاتے ہیں۔ ان چیزوں میں دوائیں بشمول شربت اور گولیوں کے، مٹّی کا تیل، کیڑے مار تیل، تیزاب اور گٹر صاف کرنے والی اشیاء وغیرہ شامل ہیں۔ اکثر ان حادثات میں والدین کی غلطی یا لا پرواہی شامل ہوتی ہے۔ چلنے پھرنے والے بچّے اکثر الماری اور درازوں کو کھول لیتے ہیں اور ان میں رکھی ہوئی چیزیں نکال لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ والدین ایک غلطی یہ بھی کرتے ہیں کہ مشروبات کی بوتلوں میں مٹّی کا تیل، مچّھر مار تیل یا دوسری زہریلی اشیاء ڈال کر رکھ دیتے ہیں۔ اکثر دکاندار بھی یہ زہریلی اشیاء کوکا کولا، پیپسی وغیرہ کی بوتلوں میں ڈال کر بیچتے ہیں اور اس کا اصل لیبل بھی نہیں ہٹاتے۔ بچّے اکثر اسے مشروب سمجھ کر پی جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بچّوں کی دوائیں میٹھے شربت کی شکل میں ملتی ہیں اگر بچّے کے ہاتھ میں ایسی میٹھی شربت کی بوتل آ جاتی ہے تو وہ پوری بوتل پی جاتے ہیں۔ جو اصل خوراک سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بچّوں کی ٹافیاں اور مٹھائیاں دواؤں کی گولیوں کی شکل میں بازار میں دستیاب ہوتی ہیں اور بچّے ان گولیوں کے کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی مٹھائی کی گولیوں اور اصلی دواؤں کی گولیوں میں فرق نہیں کر پاتے۔ اس طرح وہ دواؤں کی گولیوں کو مٹھائی والی گولی سمجھ کر کھا جاتے ہیں اس طرح وہ ان دواؤں کے ضمنی و زہریلے اثرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی اسپتال کے شعبہ حادثات میں آنے والے زہر خورانی کے شکار بچّوں میں سب سے بڑی تعداد مٹّی کے تیل، مچّھر مار تیل اور عام دواؤں کی غیر معمولی مقدار میں کھا لینے والے بچّوں کی ہوتی ہے۔
ان چیزوں کے علاوہ ایک اہم چیز بٹن بیٹریز ہیں جو اکثر بچّوں کے کھلونوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر کوئی بچّہ ان کو نگل لے تو یہ آنتوں میں زخم ڈال سکتی ہیں یا ان میں سوراخ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ان کا خاص خیال رکھنا اور بچّوں کو ان سے دور رکھنا بہت ضروری ہے۔
بچّوں کو زہر خورانی سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر
(الف) دواؤں کو ہمیشہ بچّوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ جن درازوں میں دوائیں رکھی جاتی ہوں ان میں تالا ڈال کر رکھیں یا دواؤں کو الماری کے اوپر والے خانے میں رکھیں جہاں بچّوں کا ہاتھ نہ پہنچ سکتا ہو۔
(ب) زہریلی اشیاء مثلاً مٹّی کا تیل، تیزاب وغیرہ کبھی بھی مشروبات یعنی کوکا کولا، پیپسی اور روح افزاء وغیرہ کی بوتلوں میں نہ رکھیں۔
(ج) ریفریجریٹر میں کبھی بھی کوئی زہریلی اشیاء نہ رکھیں۔
(د) اگر گھر میں مچّھر مار دوا کا اسپرے کریں تو چند گھنٹوں تک کمرے کو بند رکھیں۔
(ہ) بچّوں کو دواؤں والی شکل کی مٹھائی کی گولیاں کھانے کی عادت نہ ڈالیں۔
(و) چھوٹی بٹن بیٹریز کو بچّوں کی پہنچ سے دور محفوظ جگہ رکھیں۔
5۔ ناک، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں غیر ضروری چیزوں کا داخل ہونا
غیر ضروری، زہریلی اور نقصان دہ چیزیں کھا لینے والے حادثات کے بعد بچّوں میں ہونے والے یہ دوسرے اہم حادثات ہیں۔ بچّوں کے کھلونوں میں اکثر بہت چھوٹے چھوٹے حصّے ہوتے ہیں جیسے موتی یا پلاسٹک کے دانے وغیرہ۔ اکثر بچّے ان چھوٹی چیزوں کو ناک یا کان میں پھنسا لیتے ہیں یا منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ اسی طرح کھانے کی چھوٹی چیزیں یا بڑی چیزوں کے چھوٹے ٹکڑے جیسے مونگ پھلی کے دانے، بادام، مٹر کے دانے وغیرہ بھی منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ اگر ایسے موقع پر بچّے کو کھانسی آ جائے تو یہ چیزیں سانس کی نالی میں چلی جاتی ہیں۔ کبھی یہ چیزیں سانس کی نالی میں اٹک جاتی ہیں اور کبھی پھیپھڑوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں سانس کی نالی میں اٹک جائیں تو اس سے فوری طور پر سانس میں رکاوٹ ہوتی ہے اور آکسیجن کی کمی ہونے لگتی ہے۔ جس کی وجہ سے یا تو فوراً جان جا سکتی ہے یا دماغ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر یہ چیزیں پھیپھڑوں میں پہنچ جائیں تو ہوا کے گزرنے کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور پھیپھڑوں کا وہ حصّہ سکڑ جاتا ہے اور کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اگر یہ بیرونی چیزیں نامیاتی یعنی پیڑ پودوں اور کھانے پینے کی چیزوں پر مشتمل ہوں تو وہ گلنے سڑنے لگتی ہیں، ان پر جراثیم کا حملہ ہوتا ہے اور نمونیا وغیرہ ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ان کی تشخیص مشکل ہوتی ہے اس سلسلے میں بچّوں کے لواحقین اور دیکھ بھال کرنے والے کا بیان بہت اہم ہوتا ہے۔ حالانکہ تشخیص کے لئے سینے کے ایکسرے سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ لیکن بہت سی چیزیں خاص طور پر نامیاتی چیزیں ایکسرے میں نظر نہیں آتیں۔ تاہم ایک اچّھا ریڈیولوجسٹ ایسی حالت کی نشاندہی کر سکتا ہے اگر ایکسرے کی کوالٹی اچّھی ہو۔
سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں پھنسنے والی بیرونی چیزوں کا علاج ان کو نکالنا ہے۔ اس کے لئے ایک آلہ استعمال ہوتا ہے جسے برونکوسکوپ کہتے ہیں اور ان بیرونی اشیاء کے نکالنے کے عمل کو برونکوسکوپی کہتے ہیں۔ اس عمل میں بچّے کو بے ہوش کرنے کے بعد برونکوسکوپ سانس کی نالی میں ڈالتے ہیں۔ جب وہ بیرونی چیز نظر آتی ہے تو اس کو ایک چمٹی کے ذریعہ باہر نکال لیتے ہیں۔ چونکہ سانس کی نالی یا پھیپھڑوں میں بیرونی چیزوں کا پھنسنا ایک جان لیوا حادثہ ہوتا ہے اس لئے اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ اس احتیاط میں ذیل میں دیے گئے عمل شامل ہیں۔
(الف) چھوٹے بچوں خاص طور پر ایک سال سے کم عمر کے بچّوں کے کھانے میں کوئی دانے دار چیز یا خشک میوہ جات وغیرہ نہیں ہونا چاہیے۔
(ب) بچّوں کو کھانے کے دوران ہنسانا نہیں چاہیے۔ کیونکہ ہنسنے کے دوران کھانے کی اشیاء سانس کی نالی میں جا سکتی ہیں۔
(ج) ایسے کھلونے جن میں چھوٹے چھوٹے الگ ہونے والے حصّے ہوں وہ کھلونے چھوٹے بچّوں سے دور رکھنے چاہئیں۔
6۔ ٹریفک کے حادثات
ٹریفک کے حادثات تمام دنیا میں عام ہیں اور عالمی اموات کا ایک بڑا سبب ہیں۔ لیکن بچّے خاص طور پر ترقّی پذیر ممالک میں ٹریفک حادثات کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔ ترقّی یافتہ ممالک میں بچّوں کی حفاظت کے لئے خاص قوانین ہیں جن پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔ بچّے کار کی اگلی سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتے۔ کار میں بغیر بے بی کار سیٹ کے سفر نہیں کر سکتے یہاں تک کہ والدین نومولود بچّے کو اس وقت تک گھر نہیں لے جا سکتے جب تک وہ بے بی کار سیٹ نہیں خرید لیتے اور اس کا ثبوت اسپتال کو فراہم نہیں کرتے۔ لیکن ترقّی پذیر ممالک میں یا تو قوانین ہی نہیں ہوتے یا ان پر عمل درآمد نہیں کرایا جاتا۔ ان غیر قانونی اور خطرناک ترین کاموں کی چند مثالیں یہ ہیں۔
(الف) موٹر سائیکل کی سواری: اکثر لوگ ایک نہیں بلکہ کئی کئی بچّوں کو ایک موٹر سائیکل پر سوار کر کے لے جاتے ہیں۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ پیٹرول کی ٹنکی پر بٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین نوزائیدہ بچّوں کو گود میں لے کر بیٹھی ہوتی ہیں۔ سڑک پر گڑھے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ موٹر سائیکل اکثر گر جاتی ہیں اور بچّے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
(ب) کار میں سوار بچّوں کے ساتھ بے احتیاطی: کار موٹر سائیکل کے مقابلے میں ایک بہتر اور محفوظ سواری ہے۔ اکثر لوگ بچّوں کو کار میں لے کر جاتے ہوئے بہت سی غلطیاں کرتے ہیں مثلاً
(i) ۔ کار میں بچّوں کے لئے کوئی کار سیٹ نہیں ہوتی۔
(ii) ۔ اکثر بچّوں کو اگلی سیٹ پر بٹھا کر لے کر جاتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ ذرا سا جھٹکا لگنے پر بچّے کا سر آگے ڈیش بورڈ سے جا ٹکراتا ہے۔
(iii) اکثر ڈرائیور چھوٹے بچّوں کو گود میں لے کر گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں۔ یہ بچّے اسٹیرنگ پر ہاتھ مار کر اسے بے قابو کر سکتے ہیں۔
(iv) ۔ اکثر گاڑی کا شیشہ کھلا ہوتا ہے اور بچّہ نے اپنا سر باہر نکالا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ بچّے کا سر کسی چیز یا دوسری گاڑی سے ٹکرا جائے۔
ان بے احتیاطیوں کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عام لوگوں میں اس بارے میں کوئی احساس نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسرا شخص اس بارے میں انہیں آگاہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ اشخاص اپنی اصلاح کرنے کے بجائے کہتے ہیں آپ اپنے آپ سے کام رکھیں۔ یا یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یا ہم اسے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ لیکن جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو پھر روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بچّوں کو ٹریفک کے حادثات سے محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر
(الف) بچّوں کو موٹر سائیکل پر لے جانے سے پرہیز کریں اور دو سے زائد افراد موٹر سائیکل پر سواری نہ کریں۔
(ب) بچّوں کو گاڑی کی اگلی سیٹ پر نہ بٹھائیں۔
(ج) بچّوں کو گود میں لے کر گاڑی نہ چلائیں۔
(د) گاڑی کے دروازہ کا شیشہ بند رکھیں اور دروازہ میں لگا ہوا بچّوں کو محفوظ رکھنے والا تالا بند رکھیں۔
(ہ) چھوٹے بچّوں کے لئے کار سیٹ کا انتطام کریں۔
(یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )


