کائنات کے تناظر میں نیوٹن، آئن اسٹائن، اور کوانٹم کا سفر
کائنات کو سمجھنے کی انسان کی جستجو اُس وقت سے جاری ہے جب سے اُس نے آنکھیں کھولیں۔ ستاروں کی چمک، سمندروں کی لہریں، اور ہوا کا جھونکا۔ ہر شے نے اُسے حیرت میں ڈال دیا۔ قدیم تہذیبوں کے لوگ بھی آسمان کی طرف دیکھتے تھے مگر اُن کی نظر میں یہ سب دیوتاؤں کا کھیل تھا۔ مصر کے اہراموں سے لے کر بین النہرین کی زیگورات تک، ہر تعمیر میں آسمانی اجسام کی گردش کا راز پوشیدہ تھا۔ یونانی فلسفیوں نے پہلی بار مادی دنیا کو عقلی طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ ارسطو نے کہا کہ ہر شے اپنی ”طبیعی جگہ“ کی طرف لوٹتی ہے، مگر اُس کا یہ نظریہ صرف مشاہدے تک محدود تھا۔ پھر وہ وقت آیا جب گلیلیو نے دوربین بنائی اور مشتری کے چاند دیکھے۔ اُس نے ثابت کیا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں۔ یہ ایک انقلاب تھا جو کلیسا کے غیظ کو بھڑکا گیا۔
سترہویں صدی میں آئزک نیوٹن نے اِس حیرت کو الفاظ دیے۔ اُس نے بتایا کہ سیب زمین پر کیوں گرتا ہے، چاند کیوں آسمان سے نہیں گرتا۔ اُس کے تین قوانینِ حرکت نے کہانی سنائی: ہر حرکت کا محرک کوئی قوت ہے، ہر عمل کا ردِ عمل ہے، اور کوئی جسم اپنی سکون کی حالت سے تب ہی بدلتا ہے جب اُس پر کوئی بیرونی اثر پڑے۔ نیوٹن کی کششِ ثقل نے زمین اور آسمان کو ایک دھاگے میں پرو دیا۔ مگر کیا یہ دھاگہ ہر جگہ ایک جیسا تھا؟ اُس کے قوانین نے سیاروں کی حرکت کی وضاحت کی، مگر سورج کے قریب ترین سیارے عطارد کی مدار میں ایک معمہ باقی رہ گیا۔ یہ معمہ بعد میں آئن اسٹائن کی کھڑکی سے دیکھا گیا۔
نیوٹن کے قوانین نے انسان کو چاند تک پہنچایا، مگر جب اُس نے کائنات کی وسعتوں میں جھانکا تو ایک نئی دنیا سامنے آئی۔ بیسویں صدی میں البرٹ آئن اسٹائن نے اُس دھاگے کو توڑ کر خلا اور وقت کا نیا تانا بانا بُنا۔ اُس نے کہا کہ کششِ ثقل کوئی قوت نہیں، بلکہ خلا اور وقت کا خم ہے۔ جیسے بھاری گیند رومال پر رکھی جائے تو رومال مڑ جاتا ہے، ویسے ہی ستارے اور سیارے خلا کو مروڑ دیتے ہیں۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیتِ خاص (Special Theory of Relativity) نے وقت کو لچکدار بنا دیا۔ اُس نے بتایا کہ روشنی کی رفتار ایک مستقل حد ہے، اور کوئی بھی شے اِس سے تیز نہیں جا سکتی۔ مگر جب بات ایٹم کے اندر کی دنیا کی ہوئی تو آئن اسٹائن کا نظریہ بھی خاموش ہو گیا۔ کوانٹم مکینکس کی عجیب و غریب دنیا نے اُسے ایسا پریشان کیا کہ اُس نے کہا، ”خدا پانسے نہیں کھیلتا۔“ مگر تجربات نے ثابت کیا کہ ایٹم کے اندر سب کچھ امکانوں کے دائرے میں ہے۔
ایٹم کے اندر کی دنیا ایک عجیب تماشا تھی۔ وہاں ذرات ایک ساتھ کئی جگہ ہو سکتے تھے، ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے تھے چاہے اُن کے درمیان کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو۔ یہ تھی کوانٹم تھیوری کی دنیا، جہاں ہائزنبرگ کا اصول کہتا تھا کہ تم کسی ذرے کی پوزیشن اور رفتار کو ایک ساتھ درست نہیں جان سکتے۔ یہاں سب کچھ احتمال کے دائرے میں تھا۔ نیوٹن اور آئن اسٹائن کی یقینی دنیا کے برعکس، کوانٹم تھیوری نے حقیقت کو ایک خواب بنا دیا۔ مگر یہ خواب بھی ادھورا تھا۔ کوانٹم تھیوری بڑے اجسام، ستاروں، اور کہکشاؤں کی وضاحت نہ کر سکی۔ کششِ ثقل کا اِس میں کوئی ذکر نہ تھا۔ دونوں نظریات ایک دوسرے کے متوازی چل رہے تھے، جیسے دو دریا جو کبھی مل نہیں پاتے۔
آج سائنسدان اِس ادھورے خواب کو مکمل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وہ ایک ایسے نظریے کی تلاش میں ہیں جو نیوٹن کی سادگی، آئن اسٹائن کی گہرائی، اور کوانٹم کی پیچیدگی کو یکجا کر سکے۔ بلیک ہولز جہاں کششِ ثقل لامحدود ہو جاتی ہے، اور بگ بینگ کے ابتدائی لمحے جہاں کوانٹم اثرات غالب تھے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں تینوں نظریات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ کچھ لوگ ”تاروں کا نظریہ“ (اسٹرنگ تھیوری) کی طرف دیکھ رہے ہیں، جہاں تمام بنیادی ذرات ایک لچکدار تار کے کمپن ہیں۔ دوسرے ”لوپ کوانٹم گریویٹی“ کی بات کرتے ہیں، جہاں خلا اور وقت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ دیا جاتا ہے۔ مگر اب تک کوئی بھی نظریہ مکمل نہیں ہوا۔
نیوٹن کے قوانین کائنات کی کلاسیکل وضاحت دیتے ہیں، نظریۂ اضافیتِ خاص بڑے پیمانے پر کائناتی مظاہر اور روشنی کی رفتار کے قریب کے حالات کی وضاحت کرتا ہے، اور کوانٹم تھیوری سب ایٹمی ذرات کی دنیا کو سمجھاتی ہے۔ تاہم، ان تینوں نظریات کو یکجا کرنے کے لیے ایک ”یونیفائیڈ تھیوری“ کی تلاش جاری ہے، جو بیک وقت گریویٹی، سب ایٹمی ذرات، اور بڑے اجسام کے رویے کی وضاحت کر سکے۔ یہ کوشش ابھی تک سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ فطری قوانین اور فزکس کے قوانین میں فرق ہے۔ فطری قوانین وہ ضابطے ہیں جو کائنات کی ہر چیز کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم نے ابھی تک تمام فطری قوانین دریافت نہیں کیے، بلکہ ان کا صرف ایک حصہ ہی ہماری دسترس میں آیا ہے۔ وہ قوانین جو ہم نے اب تک دریافت کیے ہیں، انہیں فزکس کے قوانین کہا جاتا ہے۔ اس طرح، فزکس کے قوانین نامکمل ہیں اور فطری قوانین کا محض ایک ذیلی مجموعہ ہیں۔ فطری قوانین کی کائنات میں کہیں بھی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس، فزکس کے قوانین ہماری محدود سمجھ بوجھ پر مبنی ہیں، اور یہ فطری قوانین کے ریاضیاتی ماڈل ہیں جنہیں ہم نے اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق سمجھا ہے۔ چونکہ یہ ماڈل نامکمل ہیں، اس لیے ایسے کئی مواقع آتے ہیں جہاں فزکس کے قوانین ٹوٹ جاتے ہیں۔ بلیک ہول اس کی ایک مثال ہے جہاں اضافیت پر مبنی کشش ثقل کا قانون ناکام ہو جاتا ہے اور ہمیں ”صفر سے تقسیم“ (divide by zero) کی غلطی دیتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ بلیک ہول میں کوئی ”سنگولیرٹی“ (Singularity) ہے، تو اس کا اصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ فارمولے میں ”صفر سے تقسیم“ کی غلطی ہے، اس لیے فارمولا کوئی پیش گوئی کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ کائنات کے ہمارے بہترین ماڈل کی ایک معلوم خامی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بلیک ہول میں کوئی مافوق الفطرت چیز ہے، بلکہ یہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے موجودہ ماڈل بعض صورتوں میں قابل اعتماد پیش گوئیاں نہیں کر سکتے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاید ہماری سمجھ ہی محدود ہے۔ جیسے مچھلی سمندر کے اندر رہ کر اُس کی وسعت نہیں جان سکتی، ویسے ہی انسان بھی کائنات کے اسرار کو اپنے دماغ کے دائرے میں قید کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فلسفیوں کا خیال ہے کہ حقیقت ہماری مشاہدے کی حدوں سے پرے ہے۔ کوانٹم تھیوری کے مطابق، مشاہدہ کرنے والا حقیقت کو تشکیل دیتا ہے۔ یعنی جب تک ہم نہ دیکھیں، سب کچھ ممکنات کے گھیرے میں ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کا وقت ہمارے لیے ایک پردہ ہے؟
مستقبل کا کوئی نیوٹن یا آئن اسٹائن شاید اِس پہیلی کو سلجھائے۔ تب تک کائنات اپنے رازوں کو اُس طرح سینت کر رکھے گی جیسے سمندر اپنی گہرائیوں کو چھپاتا ہے۔ مگر انسان کی یہ جستجو کبھی نہیں تھمے گی۔ ہر نئی دریافت اُسے ایک نئے دروازے تک لے جاتی ہے، اور ہر دروازے کے پیچھے ایک نئی دنیا چھپی ہوتی ہے۔ شاید یہی کائنات کا اصل حسن ہے۔ نہ مکمل طور پر سمجھ میں آنا، نہ بالکل اجنبی رہنا۔ جیسے کوئی نظم جس کے بول تو مل جائیں مگر اُس کی دھن کبھی گرفت میں نہ آئے۔

