صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 45 : نئی زمیں، نیا آسماں
” شوہر بیوی کے ساتھ اپنی فرض شناسی پوری کرے اور بیوی بھی شوہر کے ساتھ ویسا ہی کرے۔ بیوی اپنے بدن کی مالک نہیں بلکہ شوہر ہے، اور اسی طرح شوہر بھی اپنے بدن کا مالک نہیں بلکہ بیوی ہے۔ “ 1۔ کرنتھیوں 7 : 3۔ 4
چٹاگانگ کے لیے پی آئی اے کی پرواز آدھے راستے سے زیادہ طے کرچکی تھی۔ عارف نے اپنے اور مریم کے لیے سب سے پچھلی قطار میں سیٹیں لی تھیں تاکہ پرائیویسی رہے۔ مریم کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی اور عارف اُس کے برابر والی نشست پر تھا۔ عادل اور گلوریا اُن سے دو قطاریں چھوڑ کر اگلی قطار میں تھے اور اسی قطار میں عادل کے دو دیرینہ دوست مع اپنی بیگمات کے بیٹھے تھے۔ وہ شادی میں شرکت کرنے کے لیے اُن ہی کے ساتھ گئے تھے اور واپس بھی اُن ہی کے ساتھ آرہے تھے۔ مریم کے سفید لباس کے اوپر اب ایک ہلکی گلابی شال تھی، جو آنٹی نے رخصتی کے وقت اوڑھا دی تھی۔ عارف کی آنکھیں بند تھیں، جیسے نیند اور خواب کے درمیان جھول رہا ہو۔ اس کا سر مریم کے کندھے پر جھکا ہوا تھا اور دونوں کے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے کے ہاتھ میں جکڑی ہوئی تھیں۔ مریم کی نظر کبھی اُس کے چہرے پر ٹھیر جاتی، اور کبھی باہر بادلوں پر ، جو دور، نیچے ایک خاموش سمندر کی مانند تا حدّ نظر پھیلے ہوئے تھے، اور کہیں کہیں سورج کی کرنیں ان کے اوپر سنہری ریشم کی طرح چمک رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے جہاز فضا کے بیچوں بیچ معلّق ہو۔
جب جہاز میں اعلان ہوا کہ مسافر اپنے کھانے کی میز کھول لیں تو عادل نے ایئرہوسٹس کو بلا کر سرگوشی کرتے ہوئے کہا، ”ہمارے پیچھے آخری قطار میں نئے دلہا دلہن بیٹھے ہیں۔ ہمارے پاس ڈھیر ساری مٹھائی ہے۔ اگر آپ نئے بیاہتا جوڑے کی طرف سے مہمانوں کو کھلا دیں تو اچھا ہو گا۔“
”سر، ہمیں اجازت نہیں ہے کہ ایئرلائن کے کھانے کے علاوہ کوئی کھانا مسافروں کو دیں،“ ایئرہوسٹس نے مسکرا کر کہا، ”لیکن ہم دلہا دلہن کا تعارف ضرور کروا دیں گے۔“
”تھینک یو۔“
”اُن کے نام کیا ہیں؟“
”عارف اور مریم،“ گلوریا نے کہا۔
”شکریہ، کہاں بیٹھے ہیں؟“
”ہمارے پیچھے سب سے پچھلی قطار میں۔ “
ایئر ہوسٹس نے پچھلی قطار پر نظر ڈالی اور مسکرا کر ہاتھ ہلا دیا۔
کھانے کے بعد جب برتن اٹھا لیے گئے تو اعلان ہوا، ”خواتین و حضرات، آج ہمارے ساتھ ایک دلہا دلہن بھی سفر کر رہے ہیں۔ پچھلی قطار میں عارف اور مریم سے درخواست ہے کہ وہ کھڑے ہو کر خود کو مسافروں سے متعارف کرائیں۔“
کیبن میں تمام مسافر پیچھے مڑ کر دیکھنے لگے۔ کچھ کھڑے ہو گئے۔ عارف اور مریم نے کھڑے ہو کر ہاتھ ہلایا اور کیبن میں تالیاں گونجنے لگیں۔ اتنے میں دوسرا اعلان ہوا، ”خواتین و حضرات، توجہ فرمائیے! ہم تھوڑی دیر میں چٹاگانگ ائرپورٹ پر اُترنے والے ہیں۔ براہ مہربانی اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں، پشت سیدھی کر لیں اور سیٹ بیلٹ باندھ لیں۔ “
طیارہ دھیرے دھیرے زمین کے قریب آ رہا تھا۔ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے مریم نے دیکھا کہ دونوں جانب دھان کی فصلیں کھڑی ہیں۔ پہیوں نے ہلکے سے جھٹکے سے رن وے کو چھوا اور سبک رفتار سے دوڑ کر آہستہ آہستہ رکنے لگا۔
ائرپورٹ کی عمارت چھوٹی مگر صاف ستھری تھی۔ جب وہ باہر نکلے تو نمی سے بوجھل ہوا نے ان کا استقبال کیا۔ عادل اور گلوریا ساتھ تھے، جنہوں نے فوراً ایک پرانی مگر خوبصورتی سے سجی ہوئی کار کی طرف اشارہ کیا جو ان کے انتظار میں کھڑی تھی۔
” عارف، تم دونوں پتنگا جاؤ۔ ہم سیدھے گھر جا رہے ہیں،“ عادل نے کہا، ”کل تم ڈنر پر ہماری طرف آجانا۔“
گلوریا نے آگے بڑھ کر مریم کو چمٹایا، اور دھیرے سے کہا، ”میری جان، اپنی نئی زندگی کے ان خوبصورت لمحوں کا بھرپور لطف لو، اور حسین خواب دیکھو۔“
گاڑی پتنگا کی طرف چل پڑی۔ راستے میں کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے مریم نے محسوس کیا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ سب کچھ نیا، اجنبی، اور پھر بھی کسی خواب کی طرح اپنا اپنا لگ رہا تھا۔ حیدرآباد کی پتھریلی اور تپتی ہوئی پہاڑیوں کی جگہ ہر موڑ پر سبزہ، جھاڑیاں، اور دھند میں لپٹے درخت تھے۔ جب گاڑی بنگلے کے سامنے رکی اور مریم اتر کر داخلے کے راستے پر کھڑی ہوئی تو اسے والٹ ڈزنی کا کوئی رنگ برنگا سیٹ یاد آ گیا۔ سرخ اینٹوں سے بنا ایک چھوٹا سا، دلکش مکان، جس کے گرد سفید باڑ، اور پیچھے کی طرف کھجوروں کا ایک جھنڈ۔ اندر داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے وقت کئی برس پیچھے چلا گیا ہو۔ لکڑی کے فرنیچر سے بھرا چھوٹا سا کمرہ، دیوار پر ہاتھ سے بنی ہوئی مصوری، اور کھڑکیوں سے آتی ہوئی ہوا میں نمکین سمندر کی خوشبو۔
عارف نے مریم کو اپنے بازوؤں کے حلقے میں گھیر کر اپنی طرف کھینچا، اور بولا، ”یہاں کوئی ہماری زندگی میں مداخلت نہیں کرے گا۔ یہاں صرف ہم دونوں ہوں گے۔“
مریم اس کی آغوش میں پگھلتی چلی گئی۔ اس کے جسم میں عجیب سی گرمی محسوس ہونے لگی۔ اُن کی آنکھیں ایک دوسرے کے اندر جھانک رہی تھیں اور سانسیں گہری ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ ایک نئی محبت کی ابتدا تھی۔
***
صبح ہوئی تو کمرے میں ہلکی ہلکی نیلی روشنی چھن کر آ رہی تھی۔ کھڑکی کے نیلے پردے کے کنارے سے سورج کی پہلی کرن مریم کے چہرے پر پڑی۔ وہ نیم غنودگی میں تھی، لیکن اس کے لبوں پر ایک خاموش سی مسکراہٹ تھی۔ عارف نے اُس کی طرف کروٹ لے کر اُس کی پیشانی پر پڑی بالوں کی لٹ کو آہستہ سے پیچھے کیا اور کہا، ”تم جاگ رہی ہو؟“
” نہیں، میں خواب دیکھ رہی ہوں اور دعا کر رہی ہوں کہ یہ خواب کبھی ختم نہ ہو،“ مریم نے آنکھیں کھولے بغیر، مسکرا کر کہا۔
عارف ہنس پڑا۔ ”تو پھر میں بھی سونے کا بہانہ کرتا ہوں تاکہ تمہارے خواب میں شامل رہوں۔“
”یہ سب کچھ اتنا جلدی ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے میں اب بھی حیدرآباد میں ہوں،“ مریم نے آنکھیں کھول کر عارف کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے کہا۔
”اور مجھے لگتا ہے کہ ہم صدیوں سے ساتھ ہیں،“ عارف نے کہا۔
”یہ بنگلہ، یہ خاموشی، اور تم،“ مریم نے گہری سانس لی، ”ایسا لگتا ہے کہ کسی جادو نگری میں پہنچ گئی ہوں، اور خود کو محفوظ اور مکمل سمجھتی ہوں، جیسے ہر خالی جگہ بھر گئی ہو۔ “
عارف نے اس کا ہاتھ تھاما۔ ”تو پھر آج ہم نئی زندگی کا پہلا دن ایک ساتھ منائیں گے۔ بغیر جلدی کیے۔ بغیر دنیا کی پرواہ کیے۔“
”بالکل، آج ہم صرف اپنے ہوں گے،“ مریم نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور عارف کے گرد اپنے بازو حمائل کر دیے۔
***
آخر انہوں نے بستر سے اٹھنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ عارف نے تجویز پیش کی کہ وہ پہلے غسل خانے سے فارغ ہولے پھر وہ ناشتہ بنائے گا اور اُس دوران مریم غسل خانے چلی جائے گی۔ اس بہانے مریم کو کچھ دیر اور بستر میں رہنے کا موقع مل جائے گا، مگر عارف کے جانے کے بعد مریم نے فیصلہ کیا کہ وہ بستر سے اٹھ ہی جائے اور اس دوران بنگلے کا جائزہ لے۔
مریم آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور چادر کندھوں پر ڈال کر اپنے جسم کو چھپا لیا۔ وہ کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی، جہاں سطح سمندر پر چکر لگاتے ہوئے مچھرنگے باز غوطہ لگاتے اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑ کر اُڑ جاتے۔ مریم نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو نیلے آسمان پر راج ہنسوں کا ایک جُھنڈ ”V“ کی شکل میں محوَ پرواز تھا۔ وہ چادر لپیٹے ہوئے کمرے کے باہر نکل آئی۔ یہ بنگلہ ایک دائرے کی مانند تھا، جس کے ہر کمرے کا دروازہ لکڑی کی جالی والے برآمدے میں کھلتا تھا۔ باہر چاروں طرف ایک چھوٹا سا صحن تھا جس میں ہر طرف پھول ہی پھول تھے، ہر رنگ کے پھول۔ نیلگوں، بنفشی، ارغوانی، زرد، عنبری، نارنجی، سرخ، گلابی، غرض جس رنگ کا نام لیں وہ وہاں موجود تھا۔
مریم نے اپنی نظریں برآمدے کی جالی سے ہٹائیں اور اگلے کمرے کی جانب چل دی۔ یہ کھانے کا کمرہ تھا۔ میز کے گرد آٹھ کرسیاں تھیں اور اُس کے پیچھے ایک اونچی سی الماری تھی جس میں چینی کے برتنوں کے کئی سیٹ بڑے سلیقے سے چنے ہوئے تھے۔ مریم کمرے سے نکل کر آگے بڑھی۔ اگلے کمرے کا دروازہ بند تھا مگر جب اس نے دروازے کو دھکا دیا تو وہ کُھل گیا۔ اس کمرے میں چار بڑی بڑی گول میزیں تھیں جن میں سے ہر ایک کے گرد آٹھ کرسیاں تھیں۔ مریم کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کمرے کا کیا مقصد تھا۔ اس کی ترتیب ریسٹورنٹ کی سی تھی۔ پھر اس کی نظر سامنے کاؤنٹر پر پڑی جس کے پیچھے ایک الماری میں بوتلیں چنی ہوئی تھیں۔
جب مریم کو احساس ہوا کہ وہ شراب کی بوتلیں ہیں تو اس پر بجلی سی گری اور اُس کے قدم جیسے زمین سے جُڑ گئے۔ اس نے آنکھیں سکیڑ کر غور سے دیکھا اور پھر قدموں میں لرزش آ گئی۔
” شراب؟“ اُسے اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا جیسے کمرے کی فضا میں زہر گھل گیا ہو۔ وہ ایک لمحے کو پتھر کی ہو گئی اور لرزتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھ کر ایک کرسی کھینچی اور ایک جھٹکے کے ساتھ اُس پر بیٹھ گئی۔ بچپن کے مناظر ایک ایک کر کے اس کے سامنے سے گزرنے لگے : ایک چھوٹا سا کمرہ، دروازہ بند، باہر رات گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اندر ایک شخص نیم تاریکی میں قالین پر ایک میلی سی چادر اوڑھے پڑا ہے۔ ناک بہہ رہی ہے، مگر اسے ہوش نہیں۔ ماں آوازیں دیتی ہے، پھر تھک کر چپ ہو جاتی ہے۔ وہ بیٹی کی طرف دیکھتی ہے، جو دیوار سے چمٹی کانپ رہی ہے۔
یہی وہ باپ تھا، ہیروئن کا عادی، ہمیشہ سوتے رہنے والا، ہمیشہ دنیا سے منقطع، ہمیشہ مریم کی آنکھوں میں سوال بن کر اترنے والا۔
اور پھر؟ ماں! بیمار، لاغر، خاموش ماں۔ آخر کار کینسر نے اُسے زندگی سے نجات دلا دی۔
مریم کا بچپن تکیے میں منہ دے کر روتے روتے گزرا اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ نشے کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔ کسی شکل میں، کسی شخص میں، کسی حالت میں۔
اور آج؟ وہ اپنے شوہر کے گھر میں کھڑی تھی، اُس شخص کے گھر میں جس کی وفاداری کا عہد کر کے وہ یہاں تک پہنچی تھی، اور اُس کے سامنے اُس کے فیصلے کا امتحان تھا۔

