بونوں کا معاشرہ
تعلیم بنیادی طور پر شعور و آگہی کا سر چشمہ ہوتی ہے لہذا جن معاشروں میں تعلیم عام ہوتی ہے وہاں شعور کا معیار بھی بلند ملتا ہے۔ ہمارے یہاں اول تو معاشرے کو اجتماعی طور پر تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے کیونکہ تعلیم ہی بغاوت کی پہلی سیڑھی ہے اگر اس پہلی سیڑھی پر ہی چڑھنے سے روکا جائے تو بغاوت کی منزلیں طے ہو ہی نہیں ہو سکتیں۔ اشرافیہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے معاشرے میں تعلیمی فراہمی کو کم سے کم کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے اور اس کوشش میں بھرپور کامیابی بھی ملی ہے لہذا ہمارا معاشرہ دوسرے ترقی یافتہ معاشروں سے بہت پیچھے ہے۔ بلکہ براہ راست ہمارا دوسرے معاشروں سے موازنہ بھی ممکن نہیں ہے۔ دوسرے معاشروں میں اس وقت دنیا کے سوا دوسرے سیاروں میں زندگی کرنے کے حوالے سے غور و فکر ہو رہی ہے تو ہمارے معاشرے میں آج بھی زندگی کے بنیادی اصولوں پر بحث ہو رہی۔ فقط بحث ہی نہیں ہو رہی بلکہ اپنے اپنے اصولوں کو رائج کرنے کے لیے ایک دوسرے کی زندگی خطرے میں ڈالنے کا رویہ بھی عام ہو چکا ہے۔
اول تو تعلیم کا وہ معیار ہی نہیں جو دوسرے معاشروں میں ہے دوم جہاں تھوڑی بہت تعلیم مل رہی، شعور و آگہی کی کرنیں وہیں پھوٹتی نظر آتی ہیں۔ کیونکہ تعلیم جہاں رائج ہو وہاں آگہی کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ تعلیم فقط کتابیں رٹنے یا معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ دنیا کو عقیدے سے ہٹ کر دیکھنے، زمانے کی کشمکش، انسان کی حقیقت اور طبقاتی تقسیم اور سماجی ناہمواریوں کو سمجھنے کا نام ہے۔ تعلیم ہی روایت سے بغاوت سکھاتی ہے، تعلیم ہی کے ذریعے صداقت قوموں کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنے لگتی ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ یوں بھی لگا لیجیے کہ ایک روایت پرست شخص تعلیم حاصل کرنے کے بعد ترقی پسند ہو سکتا ہے، بلکہ روایت سے زیادہ دلائل اس شخص کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اس روایت پرست، جہالت سے پر، ماورائی روایت سے بھرپور، فہم و فراست اور شعور و آگہی سے خالی اور جہالت سے لبریز معاشرے میں تعلیم کی جھلک اور اس جھلک سے بیدار ہونے والے شعور از خود تشویش ناک ہے۔ کیونکہ اس معاشرے میں اکثریت روایت پرستوں کی ہے اور بقا و فنا کا اختیار انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ لہذا زندگی میں زندہ رہنے کے لیے اسی صراط مستقیم پر احتیاط سے چلنے کی ضرورت ہے جس پر معاشرہ چل رہا ہے سیدھی راہ سے ہٹ کر چلنے کی ذرا سی کوشش سے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اس لیے صاحب فہم افراد کے لیے یہ معاشرہ کسی قید خانے سے کم نہیں بلکہ قید خانے میں بھی خود کلامی کی سہولت موجود ہوتی ہے اس معاشرے میں وہ بھی نہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ، شعور و آگہی کے راز سیکھنے اور تنقیدی سوچ پروان چڑھنے کے بعد روایتی طور طریقوں پر زندگی گزارنے کا مطالبہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے آکسیجن کے بغیر زندہ رہنے کا مطالبہ کیا جائے۔
ہمارا معاشرہ دانشوروں کا معاشرہ نہیں ہے نہ ہی ناقدین کے لیے یہاں کوئی گنجائش ہے اور محققین و مفکرین کے لیے نتیجہ اخذ کرنے کی ممانعت ہے۔ یہاں سوچنے والے کی سوچ پر پابندی ہے، لکھنے والے کے قلم پر اور شعور و بیداری کی ہر لہر پر سزا۔ تعلیم کی وجہ سے، غور و خوض سے اور تنقیدی سوچ سے انسان کے باطن میں جو کشمکش پیدا ہوتی ہے اور انسان روایت پرست سے ترقی پسند بن جاتا ہے اس کے لیے اس معاشرے میں گزر بسر ایک چیلنج ہے اسی لیے لوگ اظہار سے ڈرتے ہیں۔ تفہیم سے سہم جاتے ہیں۔ گفتگو سے دور بھاگتے ہیں۔ تنقید و تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے سے کتراتے ہیں۔ سوالات کو اپنے باطن میں دفن کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ بونوں کا معاشرہ ہے یہاں بونا ہی خوشحال زندگی گزار سکتا ہے۔ بلکہ تئیں طبقے ایسے ہیں جن کے لیے یہ معاشرہ قابل قبول اور معاشرے کے لیے وہ تین طبقے قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ اول اشرافیہ جو تمام سیاہ و سفید کی مالک ہے، دوم مذہبی طبقہ، مذہب کی جڑیں اس معاشرے کی سر زمین میں پیوست ہیں لہذا مذہبی طبقہ اپنی روایتی طرز کے ذریعے بقا کو یقینی بنا سکتا ہے۔ سوم روایت پرست، یعنی جو جدید تقاضوں کو نہیں سمجھتا ہے اور جہالت کو سب کچھ سمجھتا ہے اور اشرافیہ و مذہبی پیشوا کی خدمت کو خود پر فرض سمجھتا ہے اس طبقے کے لیے یہ معاشرہ بہترین معاشرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے لیے وہی تین طبقے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے تعلیم نے نئی نسل کو بگاڑ دیا ہے اسی لیے تعلیم یافتہ طبقہ ان تینوں طبقات میں سے کسی ایک میں بھی نہیں آتا۔ تعلیم یافتہ طبقے کی زندگی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، تبدیلی کا خواہاں ہے، حق و باطل اور ظالم و مظلوم میں فرق واضح کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، بات کو دلیل کے بغیر تسلیم نہیں کرتا، خود بھی باغی ہے دوسروں کو بغاوت پر اکساتا ہے، لوگوں کی تنقیدی سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان سب وجوہات کی بنا پر اشرافیہ اور مذہبی پیشوا کی اجارہ داری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ان کی حکمرانی ختم ہونے کا امکان رہتا ہے اسی لیے اشرافیہ اور مذہبی پیشوا علم دشمن بنے ہوئے ہیں۔ معاشرہ مکمل طور پر ان طبقوں کے کنٹرول میں ہے لہذا معاشرے میں تنقیدی سوچ اور فلسفہ و منطق اور جدت پسندی کی آبیاری نہیں ہو سکتی۔ جہالت اور روایت دو ہی آپشنز بچتے ہیں جن کو قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ شعور کے ساتھ، آگہی کے ساتھ اور فکر و فراست کے ساتھ اس معاشرے میں بسر کرنا ناممکن ہے لہذا یا تو جہالت اور روایت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا یا پھر معاشرہ بدلنا ہو گا۔


