میاں شمس الحق، مالاکنڈ کا ابھرتا ہوا لکھاری
میں مئی 2024 ء میں پاکستان سے واپس برطانیہ آ رہا تھا۔ دبئی میں میرا دو ڈھائی گھنٹے کا سٹے تھا۔ وہاں پہ میں ائرپورٹ میں موجود میکڈونلڈ میں امریکانا کافی سے چسکے لے رہا تھا کہ وٹس اپ پر ایک پیغام ملا ”کہ میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں اور آپ کو اپنی لکھی ہوئی کتاب دینا چاہتا ہوں۔“ اس نے جب دوسرے پیغام میں اپنا تعارف کیا تو یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ وہ شخص میرے گاؤں جولگرام کا میاں شمس الحق ہے۔ شمس الحق میرا بہت محترم دوست اور ہمارے محلے کی مسجد کے پیش امام مولانا حبیب الحق کا برخوردار ہے۔ اس نے اردو ادب میں ماسٹر کیا ہے اور ایک کالج میں اردو پڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔
میں بے تابی سے اس کی کتاب کا انتظار کر رہا تھا جو مجھے جولائی 2024 ء میں مل گئی۔ پاکستان میں جب نوکری کے لئے ہر صبح میں اس کے گھر کے پاس سے گزرتا تھا تو وہ اپنے گھر کے سامنے کھڑے کھڑے خاموشی سے لوگوں کو گھورتا رہتا تھا۔ کتاب پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس کا یہ گھورنا ایک اناڑی لڑکے کی طرح ویسے ہی بے مقصد نہیں تھا کیوں کہ ہر تخلیق کار، فن کار اور لکھاری خاموشی سے حالات کا جائزہ لے کر اس کا تجزیہ کر کے ایک خاص نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر حالات کو سماجی مسائل کے حل کے لئے ایسے دل چسپ اور معنی خیز انداز میں پیش کرتا ہے کہ لوگ لطف بھی اٹھائیں اور معاشرے کے مسائل کا ادراک کر کے اس کے حل کے لئے کوشش بھی کریں۔
شمس میاں کی کتاب ”سازِ ہستی“ دو ناولٹوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو چھوٹی چھوٹی لیکن انتہائی دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں ہیں۔ ایک کہانی کا نام ”شبو“ اور دوسری کا نام ”سازِ ہستی“ ہے۔ شبو میں بہت سارے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ میں اپنے اس مضمون کو شبو تک محدود کرنا چاہوں گا اور سازِ ہستی پر کسی دوسرے مضمون میں مناسب وقت پر لکھوں گا۔
جب پہلے ناولٹ کے نام شبو پر نظر پڑی تو میں نے یہ سوچا کہ شمس الحق کی شبو بین الاقوامی سطح پر شہرت پانے والی رضیہ بٹ کے ایک بہت مشہور ناول ”شبو“ کی نقل ہے لیکن پڑھتے ہوئے بتدریج معلوم ہوا کہ نام تو ایک جیسے ہیں لیکن دونوں کی کہانیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میاں شمس الحق کی شبو ایک خوب صورت، بہادر اور سلیقہ مند پہاڑی لڑکی ہے جو موسم اور اقتصاد کے ناموافق حالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتی ہے جب کہ رضیہ بٹ کے ناول میں ”شبو“ ایک ایسی خاتون ہے جو دوسری خواتین کے عیش و عشرت اور آسائشوں سے بھری زندگی سے متاثر ہو کر اس طرح کی زندگی کے پیچھے دوڑنا شروع کرتی ہے اور اس کوشش میں آخر کار اپنا گھر اجاڑ دیتی ہے۔ اس ناول کے ذریعے معاشرے میں اس سماجی مسئلے جس میں کچھ خواتین دوسری خواتین کے زیادہ مال و دولت کی وجہ سے آسائشوں سے بھری زندگی گزارنے، ہر وقت خوب صورت مقامات کی سیر و سیاحت کرنے اور شادی بیاہ اور دوسرے رسومات میں قیمتی کپڑے پہننے کی روش سے متاثر ہو جاتی ہیں اور پھر یہ مخصوص سماجی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اکثر اس میں اپنا گھر اور سکون برباد کر دیتی ہیں۔ گویا اس میں اپنے حالات پر صبر کرنے اور قانونی اور جائز طریقوں سے اپنے زندگی میں تبدیلی لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
ہمارے ایک دوسرے بہت محترم دوست افسانہ نگار، مترجم اور ادیب ناصر خان شیخکوری نے اس ناول کا پشتو میں ترجمہ کیا ہے۔
شمس میاں کے ناولٹ شبو کو غور سے پڑھنے کے بعد اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ لکھاری کے سینے میں ایک حساس دل موجود ہے جو ہمارے سماج میں صنفی امتیاز کے مروجہ رویہ کو رد کرتے ہوئے ایک لڑکی کو اپنے ناولٹ کے مرکزی کردار کے لئے منتخب کرتا ہے۔ شبو کا سانپ مارنے کا قصہ بیان کرنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ عورت کو کم زور نہیں سمجھتا اور یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ روایتی سوچ سے بالکل آزاد ہے کہ عورت جسمانی طور پر کم زور واقع ہوئی ہے اور ہر وہ سخت کام جو مرد کر سکتے ہیں عورت نہیں کر سکتی۔ مثلاً کسی خطرناک جانور کو مارنا اور دریا میں تیرنا۔
فاضل مصنف نے منظرکشی کے لئے اتنے خوب صورت، دل چسپ اور عام فہم الفاظ کا چناؤ کیا ہے کہ قاری کو آگے پڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس نے شبو کے گھر کی چیزوں اور صحن وغیرہ کا جو خاکہ کھینچا ہے، اس سے اس کی غریب پروری اور انکساری کا پتہ چلتا ہے۔
مذہبی گھرانے کا فرد ہونے کے ناتے اور ہر وقت خاموش رہنے سے مجھے وہ خشک طبیعت کا شخص لگتا تھا لیکن ناول کے مرکزی کردار شبو کے حُسن اور زلفوں کی رنگت پر دل فریب تبصرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حُسن پرستی اور حقیقت پسندی اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
آج کل ہر شخص دوسروں کے اعمال اور دنیاوی سرگرمیوں کا غیر ضروری طور پر تنقیدی اور منفی انداز میں جائزہ لیتا ہے اور پھر اس کے لیے اپنے تئیں سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ گویا اللہ کے کام کو اپنے سر لینے کی کوشش کرتا ہے۔ مذہبی سکالر مولانا وجیہہ اللہ اور منٹو کی طرح اس نے اپنے ناولٹ میں کھل کراس بات کا اظہار کیا ہے کہ اللہ کا کام اس کو واپس کرنا چاہیے۔
اچھے مصنف اور لکھاری کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرتی برائیوں کو ناول اور افسانوں میں ایک مخصوص کردار کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ آج کل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں اور لڑکوں کو بلیک میل کرنا بہت عام ہو چکا ہے جس سے بہت سے معزز گھرانوں کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور بہت سی لڑکیاں اور لڑکے رسوا ہو کر زندہ درگور ہو چکے ہیں۔ اس لت کو اس ناولٹ میں ایک کردار ”کرن“ کے ذریعے بہت خوب صورت اور سبق آموز انداز میں پیش کیا گیا ہے اور ساتھ میں قارئین اور عام لوگوں کو تعلیم دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی لت سے متاثرہ لڑکیاں اور لڑکے قابل رحم ہوتے ہیں، ان کو واپس معاشرے میں لاکر باعزت زندگی گزارنے کا موقع دینا چاہیے۔
مہذب دنیا میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اور جرائم سے معصوم اور بے گناہ شہری متاثر ہونے والوں کے لئے Rehabilitation کا ایک موثر نظام موجود ہوتا ہے۔ کرن کو باعزت طریقے سے رشتۂ ازواج میں منسلک کرنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ شمس میاں کو ترقی یافتہ دنیا کی دوبارہ آباد کاری کے فلسفے کی نہ صرف مکمل آگاہی حاصل ہے بلکہ وہ اس کو عملی جامہ پہنانے پر پختہ یقین بھی رکھتا ہے۔
اس کہانی میں شبو کا سیلابی ریلے میں سلیم سے بچھڑنا اور دو سال بعد دوبارہ ملنا اور رشتۂ ازواج میں منسلک ہونا مصنف کے محبت پر پختہ یقین کا اظہار ہے۔
شبو کا سلیم کے ساتھ زندگی کا نیا سفر شروع کرنے سے مصنف لوگوں کو ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر دیہی علاقوں کے مخصوص حالات کی وجہ سے دیہاتی اور پہاڑی لڑکیاں رسمی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں تو روزمرہ زندگی میں وہ اتنا کچھ سیکھتی ہیں کہ وہ بہت پڑھی لکھی لڑکیوں سے زیادہ سمجھ دار، مخلص اور سلیقہ مند ہوتی ہیں۔
مصنف اور لکھاری جتنا بھی تجربہ کار ہو اس سے بعض اوقات لکھنے یا حالات کو صحیح طریقے سے بیان کرنے میں کچھ نہ کچھ غلطی ضرور سرزد ہو جاتی ہے۔ فلم، ڈرامہ، ناول اور افسانے میں مصنف اہم کردار کے حوالے سے تجسس (Suspense) پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ قارئین کی پڑھنے میں دل چسپی بڑھ جائے لیکن ناول، ڈرامہ یا فلم کے اختتام پر پوشیدہ رکھی گئی باتوں کو نہایت ادبی اور تکنیکی انداز میں آشکار کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں تجسس کی تمام گتھیاں آخر میں کھلوا کر فلم یا ناول کے ڈراپ سین کو حقیقی اور دل چسپ بنا دیا جاتا ہے۔
اس ناولٹ میں شبو کا سیلابی ریلے میں ڈوب کر گم ہو جانے سے قارئین کے تجسس میں اضافہ ہو جاتا ہے لیکن تجسس تجسس رہ جاتا ہے کیوں کہ جب شبو سلیم کے ساتھ دوبارہ مل جاتی ہے تو پردے کے پیچھے ہونے والے واقعات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے اور اس طرح قارئین کا وہ تجسس برقرار رہتا ہے کہ شبو سیلابی ریلے میں ڈوبنے کے بعد کہاں تھی اور کیسے زندہ بچ گئی۔ میرے خیال میں یہ اس کہانی کا ایک کم زور پہلو ہے۔
مصنف کا یہ ناولٹ فکشن میں اس کی ابتدائی کوشش ہے لیکن اس کو مزید بہتر لکھنے کے لئے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے۔ اس کو اردو ادب کی تمام اصناف کا وسیع مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ مزید بہتر اسلوب میں اپنی تحاریر کے ذریعے سماجی مسائل کی نشان دہی کرنے اور ان کے لئے ایک قابل عمل حل پیش کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو مزید جِلا بخشے۔ میں اس کی مزید ادبی کامیابیوں کا متمنی ہوں۔


