شادی اور ایڈجسٹمنٹ
ایک دوست بتا رہے تھے کہ ان کے دوست کی شادی ہوئی۔ چند ماہ کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ بیگم کی خیریت دریافت کرنے پر بتانے لگے کہ انہوں نے طلاق دے دی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی اور دکھ ہوا کہ صرف چند ماہ میں ہی طلاق؟ ان سے افسوس کیا اور ساتھ ہی وجوہات پوچھیں تو بتانے لگے کہ ہم دونوں کی طبیعیت اور مزاج بہت مختلف تھا۔ اس لئے ایڈجسٹ نہیں کر پائے۔ خیر بات آئی گئی ہو گئی۔
ایک مدت بعد ان سے دوبارہ ملے تو پھر ازدواجی معاملات کا پوچھا۔ بتانے لگے کہ سات آٹھ ماہ ہو گئے ہیں دوسری شادی کو۔ میں نے پوچھا کہ اب معاملات کیسے گزر رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ یار مسلسل ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے ہو ہی جائیں گے۔ پھر میں نے شرارت آمیز مسکراہٹ سے کہا کہ اگر ایڈجسٹ ہی کرنا تھا تو پہلے والی کے ساتھ ہی کر لیتے۔ اداس سی مسکراہٹ سے کہنے لگے کہ آپ درست کہتے ہیں۔ اُس کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا اس سے زیادہ آسان تھا۔
سادہ سی بات ہے کہ جب دو مختلف بیک گراؤنڈ، دو مختلف مزاج اور عادات کے ساتھ مختلف عمر کے دو لوگ ملتے ہیں تو اختلاف رائے، عادات، جذبات اور رویوں اور فکر کا مختلف ہونا لازمی بات ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے، اڈاپٹ اور ایڈجسٹ کرنے میں وقت لگتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال یہ بھی ہے کہ کم از کم ایک دفعہ شادی کے ابتدائی دس سالوں میں میاں بیوی کی ایک شدید لڑائی ہوتی ہی ہے۔ اس لڑائی میں تمام وہ ریڈ لائنز طے ہو جاتی ہیں کہ کس کو کس معاملے میں کہاں تک اسپیس حاصل ہے۔
اس لڑائی میں سیز فائر کے بعد میاں بیوی زیادہ بہتر ایڈجسٹ کر پاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ اس کے بعد یہ کھیل ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ٹام اینڈ جیری ساری عمر ہی چلتا رہتا ہے۔ فرق یہ پڑتا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کے نہ صرف مزاج کی سمجھ آ جاتی ہے بلکہ ساتھی کو ہینڈل کرنا بھی آ جاتا ہے۔
مرد کو جب پتہ چلتا ہے کہ خاتون خانہ اس کے غصے کو نہ صرف ہینڈل کر لیتی ہیں بلکہ مسکرا بھی رہی ہیں تب اس کی جھنجھلاہٹ اور بے بسی قابل دید ہوتی ہے۔ کبھی کچن میں خاتون خانہ کی برتن توڑ صفائی کے دوران جب خاوند کوئی شرارت کرے تو آگے سے جواب ملتا ہے۔ خبردار مجھے ہنساؤ مت میں شدید غصے میں ہوں۔ یہ سب عادات رشتے کی مضبوطی کا استعارہ ہیں۔


