ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کہاں ہیں؟
کیا آپ نے کبھی اپنی فیس بک پروفائل کے پروفیشنل موڈ میں جا کر یہ اعداد و شمار دیکھے ہیں کہ آپ کی پوسٹیں کن لوگوں تک پہنچ رہی ہیں؟ میں کافی عرصے سے یہ مشاہدہ کر رہی ہوں کہ میری تحریریں بھلے خواتین کے مسائل سے متعلق ہوں ان پر مرد حضرات تو میٹھے پر مکھیوں کی طرح پہنچ رہے ہوتے ہیں لیکن خواتین خال خال ہی اپنی رائے دیتی نظر آتی ہیں۔
فیسبک کے مطابق بھی گزشتہ اٹھائیس روز میں میری پوسٹیں چالیس لاکھ سے زائد افراد تک پہنچیں، لیکن ان میں سے تقریباً 34 لاکھ مرد اور محض 6 لاکھ خواتین تھیں۔ اور یہ صرف میرے ہی نہیں، عموماً ہر پاکستانی فیس بک یوزر کے اعداد و شمار کم و بیش ایسے ہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں مردوں اور عورتوں کی آبادی معمولی سے فرق کے ساتھ تقریباً برابر ہے اور یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ فیس بک پر بہت سارے مرد خواتین کے ناموں سے جعلی اکاؤنٹ بنا کر مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تو پھر۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سوشل میڈیا کی اس ڈیجیٹل دنیا میں خواتین اتنی کم کیوں نظر آتی ہیں؟ کیا مردانہ بالادستی صرف حقیقی دنیا تک محدود نہیں بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز تک بھی پھیل چکی ہے؟
میرے نزدیک پاکستان میں خواتین کی فیس بک پر مردوں کی نسبت انتہائی کم موجودگی کی چند اہم وجوہات یہ ہیں :
1۔ بہت سی خواتین تعلیمی مذہبی اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پاتیں اور مالی طور پر اپنے مرد سرپرستوں (باپ، شوہر، بیٹا، بھائی) پر انحصار کرتی ہیں۔ اس وجہ سے وہ مردوں کے مساوی اسمارٹ فون خریدنے اور انٹرنیٹ پیکج لگانے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ فون اور انٹرنیٹ کے اخراجات اکثر گھر کے مرد حضرات کی ترجیح ہوتے ہیں، اور خواتین کو اس ضمن میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
2۔ پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی مردوں کے مقابلے میں کم ہے، جس کا براہ راست اثر ان کی ڈیجیٹل خواندگی پر بھی پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کا بنیادی استعمال بھی نہیں جانتیں۔
3۔ بہت سے گھرانوں میں، خاص طور پر قدامت پسند طبقوں میں، خواتین کو موبائل فون اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ رجحان اس فرسودہ سوچ کا نتیجہ ہے کہ فون اور سوشل میڈیا کا استعمال خواتین کے لیے غیر ضروری اور غلط سرگرمیوں کا ذریعہ ہے۔ مردوں کی یہ نام نہاد عقل اور عورت دشمن سوچ انہیں خود تو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی آزادی دیتی ہے مگر خواتین کو اس سے محروم رکھتی ہے۔
4۔ خواتین کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بعض حلقوں میں اب بھی غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔ بدنامی، معاشرتی تنقید، اور ہراسانی کے خوف سے بچنے کے لیے بہت سی خواتین اپنی حقیقی شناخت چھپانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر، بیٹے یا باپ کے نام سے مردانہ اکاؤنٹس استعمال کرتی ہیں یا جعلی ناموں، فرضی پروفائل تصویروں (جیسے انٹرنیٹ سے لی گئی ماڈلز کی تصاویر، یا سر کٹی تصاویر) کا سہارا لیتی ہیں، اور اکثر اپنی پروفائلز کو لاک رکھتی ہیں۔
5۔ ہماری معاشرتی ساخت میں اکثر گھریلو خواتین فجر سے رات گئے تک گھر اور بچوں کی دیکھ بھال میں اس قدر مصروف رہتی ہیں کہ ان کے پاس تفریحی اور سوشل سرگرمیوں کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔ ڈیجیٹل دنیا میں فعال رہنا ان کی ترجیحات میں آ ہی نہیں پاتا۔
6۔ خواتین کو سوشل میڈیا پر مردوں کی طرف سے ہراسانی، بلیک میلنگ، اور غیر اخلاقی پیغامات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ڈر اور ذہنی اذیت انہیں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے یا کم استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
7۔ ذاتی معلومات اور تصاویر کے چوری ہونے یا غلط استعمال کا خوف بھی خواتین کو اپنی حقیقی آن لائن موجودگی سے روکتا ہے۔ یہ خوف انہیں اپنی اصلیت چھپانے یا انتہائی محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
خواتین کی سوشل میڈیا پر کم موجودگی صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی مضمرات ہیں۔ یہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی آواز اور نمائندگی کو کمزور کرتا ہے، انہیں معلومات، تعلیم، کاروبار، اور سماجی نیٹ ورکنگ کے لاتعداد مواقع سے محروم کرتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل مہارتیں زندگی کے ہر شعبے میں لازم و ملزوم ہیں، خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے بغیر ہمارا معاشرہ ایک بڑے طبقے کے نقطہ نظر اور صلاحیتوں سے محروم رہتا ہے۔
اس قومی مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف تکنیکی رسائی کو بہتر بنانا ہی کافی نہیں، بلکہ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے فرسودہ سماجی رویوں کو بدلنا ہو گا، خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا ہو گا، اور آن لائن پلیٹ فارمز کو ہر خاتون کے لیے ایک محفوظ اور با اختیار بنانے والی جگہ بنانا ہو گا۔ کیونکہ ایک روشن، مساوی اور ترقی یافتہ معاشرہ تبھی ممکن ہے جب اس کی نصف محروم آبادی کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں مکمل آزادی اور نمائندگی حاصل ہو، جہاں وہ آٹے میں نمک کے برابر نہیں بلکہ بھرپور موجودگی کا مظاہرہ کریں۔


