کتاب فروش سے کتاب دار تک
دروازہ کُھلا ہوا تھا۔ میں ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکا، پھر دکان کے اندر داخل ہوگیا جس کے اندر کتابوں سے بھری دیواروں پر پہلے نظر پڑتی تھی اور اندر بیٹھے ہوئے لوگوں پر بعد میں۔ باہر فٹ پاتھ پر چلچلاتی ہوئی تیز دھوپ اور گرم ہوا کے تھپیڑے کے بجائے یہاں ٹھنڈک سی تھی جو اتنی بہت سی کتابوں کے ڈھیر کو دیکھ کر مجھے اپنی گرفت میں لینے کے لیے تیار تھی۔
یہ احساس تو بعد میں ہوا۔ اس سے پہلے اس دکان کا دروازہ کُھلا دیکھ کرمیں دل ہی دل میں شکر بجا لایا کہ یہ دکان بند نہیں ہوگئی جس طرح کراچی کے پرانے کتاب فروش دوائے درد دل بیچتے رہنے کا کام کرنے کے بجائے کہانی بن کر رہ گئے __ پاک امریکن، کتاب محل، مڈٹائون بک سیلرز، یونیورسل اور کتنے نام جو بھلا دیے گئے یہاں تک کہ اس پورے علاقے میں اب صرف تھامس اینڈ تھامس ایک آخری نشانی کی طرح باقی رہ گیا ہے۔
پرانے دوستوں کی طرح یہ سارے نام مجھے اس وقت یاد آئے __ شاید میں غلط لکھ رہا ہوں۔ میں ان ناموں کو بھول ہی نہیں پایا تھا۔ بہرحال، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب انگریزی اخبار میں ایک پرانی اور حال سے بے حال ہونے والی عمارت کی تصویر کے ساتھ خبر شائع ہوئی کہ کراچی میں کتابوں کی قدیمی دکان بند ہونے والی ہے۔ یہ دکان 1945ء سے چلی آرہی ہے۔ خبر میں تفصیل شامل تھی کہ پرانی عمارت کا حال خراب ہورہا ہے، اس کی دیکھ بھال نہیں ہورہی مگر عمارت سے زیادہ خراب حال تو دکان کا تھا، جس کا احوال ظفر حسین صاحب نے بتایا۔ ’’لوگوں نے کتابیں خریدنا چھوڑ دیا ہے۔ اب کتابیں خریدنے کوئی نہیں آتا۔‘‘ چلتی ہوئی دکان خسارے کا سودا بن کر رہ گئی۔ آخر تنگ آکر انھوں نے دکان بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ خبر میں اس سانحے کی پیشنگوئی شامل تھی کہ اب چند دنوں کی بات ہے، پھر یہ دکان بھی نہیں رہے گی۔
اس خبر سے مجھے افسوس ہوا تھا حالاں کہ اس دکان سے مجھے بالکل دل چسپی نہیں تھی بلکہ سچ کہوں تو تھوڑی سی بے زاری سی تھی۔
ایک زمانے سے میں، اس سے واقف تھا اور اس کے سامنے سے گزرتا تھا۔ اس لیے کہ یہ میرے کالج کے راستے میں تھی۔ برنس روڈ اور آرام باغ کی طرف سے آتے ہوئے یہ بندر روڈ کے اس کونے پر واقع ہے جہاں اب ٹریفک سگنل نصب ہے اور شور مچاتی بسیں، گاڑیاں تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاتی ہیں تو سڑک اور اس کے ساتھ فٹ پاتھ پر ہجوم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پرانی وضع کی اس تنہا اور تھکی ماندی عمارت کی نچلی منزل پر خاصی جگہ میں واقع اس دکان کے اوپر پرانا سا بورڈ لگا ہوا تھا__ پایونیر بک ہائوس۔ مادر علمی ڈائو میڈیکل کالج جاتے ہوئے اور پھر وہاں سے نکلتے ہوئے میں نے ایک آدھ بار اس دکان کی طرف بہت اشتیاق سے دیکھا۔ پتہ چلا وہاں قانون کی کتابیں ملتی ہیں، اور دکان کی الماریوں میں ڈھیر لگا ہوا تھا۔ انکم ٹیکس کی دفعات، تعزیرات، پرانے مقدموں کی روداد، پاکستان کے قانونی نظام جیسی بھول بھلّیاں کہ آدمی جب تک دور رہ سکے، دور ہی رہے۔ ورنہ ساری عمر چکر کھاتا رہے۔ اس طرح کی کتابوں کے مجلّد سیٹ وکیلوں کے دفاتر میں فرنیچر کا حصّہ معلوم ہوا کرتے تھے۔ پرانی کچہری اور بے اندازہ وکیلوں کے دفتر یہاں سے قریب تھے۔ یہ دکان ان کے لیے دل چسپی کا سامان فراہم کرتی تھی، ہمارے لیے نہیں۔ کوئی ایک آدھ کتاب اچانک دریافت کر لینے کی لذّت بھی ختم ہو گئی جب میں نے کالج سے آتے جاتے صدر میں رک کر کتابیں ٹٹولنا شروع کر دیا۔ پھر کالج کے دن بھی گزر گئے، یہ علاقہ بھی گزرگاہ خیال بن کر رہ گیا لیکن جب بھی وہاں سے گزرا اس کونے پر نظر ضرور پڑتی تھی کہ پایونیر بک ہائوس ابھی اپنی جگہ قائم ہے۔

اس کے بارے میں بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ شہری مسائل، کتابیں پڑھنے میں کمی، بندر روڈ پر ٹریفک کا دبائو۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے سماجی تجزیے بہت جلدی نوحے میں بدل جاتے ہیں۔ پھر ہم یادِ ماضی اور افسوس کو فکروعمل پر حاوی کر دیتے ہیں۔
نئی اور بڑی خبر یہ ہے کہ پایونیر بک ہائوس بند نہیں ہوا۔ اس کے دروازے آج بھی کُھلے ہوئے ہیں، بلکہ صفائی ستھرائی کے بعد اس کے پرانے اُجاڑ پن کی جگہ ایک نئی دل کشی نے لے لی ہے۔ اس خبر کی تصدیق کے لیے اپنی آنکھوں سے دیکھنا بھی ضروری تھا۔ اب کی بار میں خاص طور پر اس دکان کے لیے وہاں گیا، کالج سے آتے جاتے نہیں۔ اور خود دیکھ کر اعتبار کرنے کے لیے اس گرم دوپہر میں بندر روڈ کے ہجوم کو بھی قبول کر لیا۔

’’کتابوں کی ہر دکان کی اپنی کہانی ہوتی ہے۔ یہ دعوت بھی دینی ہے اور اس میں بھید بھی ہوتے ہیں۔۔۔‘‘ منیزہ نقوی اپنے جوش و جذبے کو دبائے بغیر مجھے بتاتی ہیں۔ ’’یہاں یہ حال ہوگیا تھا کہ پورا پورا دن گزر جائے، کوئی نہیں آتا تھا۔۔۔‘‘ ظفر حسین مجھے پھر اس عمر رسیدہ آدمی کا حال سناتے ہیں جو تباہ حال یہاں آیا تھا اور کتابوں کی پوری گٹھری خرید کر لے گیا جس کے پیسے بھی اس نے کہیں سے منگوائے۔ اس نے چائے بھی نہیں پی کیونکہ اسے ڈیرہ اسماعیل خان واپس جانا تھا۔ اب کئی لوگ دوپہر کا کھانا اور شام کی چائے لے کر آتے ہیں۔ ایک دن شعر پڑھے جا رہے تھے تو پولیس کے ایک سپاہی نے اندر جھانک کر دیکھا۔ پھر کچھ شرماتے ہوئے بتایا، میں بھی شاعری کرتا ہوں۔ ڈیوٹی کے بعد وہ بھی شاعری کی خاطر یہاں آنے لگا ہے۔ پولیس کی وردی شاعری سے روک تو نہیں سکتی۔ اسی لیے قانون کی کتابوں کے درمیان اردو شاعری کے مجموعے نظر آنے لگے ہیں۔ شاید وہ بتا رہے ہیں کہ آزاد ہیں فکرونظر!
منیزہ نقوی نے عملی جذبے سے کام لے کر دکان کو فی الحال بچا لیا۔ اب دیکھیے یہ گاڑی کتنے دن چلتی ہے۔ فی الحال منیزہ نقوی بہت خوش ہیں کہ بندر روڈ کے آس پاس کام کرنے والے ہُنرمند لوگوں کی کاوش کو یک جا کرکے انھوں نے ایک خوبصورت نوٹ بک تیار کی ہے جو یہاں آنے والے لوگوں کے لیے ایک تحفہ بھی بن سکتی ہے، یہ سوچتے ہوئے کہ کچھ تو یادگارِ شہرِ ستم گر ہی لے چلیں۔

